فروزاں رپورٹ
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کالے بچھوؤں کی فروخت سے متعلق کیس میں اسٹیٹ بینک سمیت دیگر فریقین کو جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دے دی۔ عدالت نے تمام متعلقہ فریقین کو ایک ماہ کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو محمد صدیق، رضی، ریاض احمد اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
درخواست گزاروں کے وکیل ساجد محبوب ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستانیوں نے جرمن کمپنی کو 23 ارب روپے مالیت کے بچھو فروخت کیے تھے۔ ان کے مطابق، 2014 کے معاہدے کے تحت کمپنی نے بارکلیز بینک کے ذریعے 24 ارب روپے پاکستانی بینکوں میں منتقل کیے، تاہم متعلقہ بینک تاحال یہ رقم جاری نہیں کر رہے۔
درخواست گزاروں محمد صدیق، رضی اور ریاض احمد نے نجی بینکوں کے خلاف کارروائی کی استدعا کی ہے۔ مقدمے میں اسٹیٹ بینک، وزارتِ خزانہ اور چار نجی بینکوں کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالے بچھوؤں کی عالمی ترسیل کے عوض قانونی بینکاری ذرائع سے رقم منتقل کی گئی، لیکن بینک غیر ملکی ترسیلات کی وصولی، تصدیق اور رقم کی ادائیگی کے عمل کو مکمل کرنے میں ناکام رہے۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسٹیٹ بینک کے کسی سینئر افسر کے ذریعے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ اس کے علاوہ تمام متعلقہ سرکاری اور نجی بینکوں کو مالیاتی لین دین کا مکمل قانونی اور الیکٹرانک ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت دینے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
پاکستان کے ساتھ معاشی روابط مزید ہوسکتے ہیں،ملائیشین ہائی کمشنر
عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات، امیروں پر ٹیکس کا مطالبہ
سماعت کے دوران اسٹیٹ بینک سمیت متعدد بینکوں نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔ عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین کو ایک ماہ میں جواب داخل کرنے کا حکم دے دیا۔
ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی…
آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…
موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…
سیاہ فام ووٹرز کے لیے بجلی کے بلوں میں کمی، صاف پانی اور آلودگی سے…
تھرپارکر میں خشک سالی، فصلیں متاثر، قدرتی چارہ ختم، 80 لاکھ سے زائد مویشیوں کے…
گھانا سے ایمازون تک سونے کی قیمتوں میں 120 فیصد اضافہ، غیر قانونی کان کنی…
This website uses cookies.