Farozaan

ضلع ہنزہ کی وادی چپورسن آفت زدہ کیوں قرار دی گئی؟

ضلع ہنزہ میں شدید زلزلوں سے تباہی کے بعد وادی چپورسن کے تین دیہات آفت زدہ قرار، درجنوں مکانات متاثر، امدادی و بحالی کام تیز۔

گلگت بلتستان حکومت نے ضلع ہنزہ میں حالیہ شدید زلزلوں سے ہونے والی تباہی کے پیشِ نظر وادی چپورسن کے تین دیہات کو باضابطہ طور پر آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق زود خون، ستمرگ اور اسپنج کے دیہات کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں آنے والے دو شدید زلزلوں کے نتیجے میں ان دیہاتوں میں درجنوں رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا، جبکہ بنیادی انفراسٹرکچر، سڑکیں، پانی کی اسکیمیں اور لائیو اسٹاک بھی متاثر ہوا ہے۔

شدید سرد موسم اور آفٹر شاکس کے باعث مقامی آبادی کو مزید خطرات کا سامنا ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ

اقدام نیشنل کلیمیٹی ایکٹ 1958 کے

تحت اٹھایا گیا ہے، جس کا مقصد متاثرہ

علاقوں میں فوری طور پر ہنگامی امداد،

ریلیف اور بحالی کے اقدامات کو قانونی

تحفظ فراہم کرنا ہے۔

آفت زدہ قرار دیئے جانے کے بعد حکومت کو متاثرین کے لیے خصوصی فنڈز، راشن، خیمے، طبی سہولیات اور دیگر امدادی سامان کی فراہمی میں آسانی حاصل ہوگی۔

صوبائی سیکرٹری داخلہ کیپٹن ریٹائرڈ مشتاق احمد نے گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کمشنر گلگت ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر ہنزہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے اور بحالی کے کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

ہدایات میں متاثرہ خاندانوں کی مکمل رجسٹریشن، نقصانات کا تخمینہ، اور شفاف طریقے سے امداد کی تقسیم پر بھی زور دیا گیا ہے۔

دوسری جانب مقامی انتظامیہ کے مطابق متاثرہ دیہات میں عارضی رہائش کے انتظامات، طبی کیمپس اور راشن کی فراہمی کا عمل جاری ہے، جبکہ خطرناک قرار دیے گئے مکانات سے خاندانوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی بھی کی جا رہی ہے۔

علاقہ مکینوں نے حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ امدادی سرگرمیوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور مستقل بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے تاکہ مستقبل میں قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔

زلزلے سے متاثرہ وادی چپورسن میں اس وقت برفباری کا سلسلہ بھی وقفہ وقفے سے جاری ہے جس کی وجہ سے جہاں علاقے میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے وہاں خمیوں میں قیام پذیر خاندانوں کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

گلگت بلتستان زلزلہ 5.9 شدت

کراچی میں سردی کی شدت برقرار، درجہ حرارت 9 ڈگری تک گر گیا

20 جنوری کو گلگت بلتستان میں آنے والے زلزلے سے بالائی ہنزہ کی وادی چپورسن میں درجنوں گھر، مویشی خانے اور دیگر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا تھا اور سینکڑوں لوگ بے گھر ہوئے تھے۔

متاثرہ علاقے میں سڑکوں کی بحالی کے بعد گلگت بلتستان حکومت اور نجی ادارے متاثرہ خاندانوں کی مدد کر رہے ہیں جبکہ خوراک، گرم کپڑے اور ادویات سمیت دیگر ضروریات زندگی علاقے میں پہنچا دی گئی ہیں

admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

1 day ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

This website uses cookies.