فروزاں رپورٹ
دنیا کے شاندار اور برف پوش پہاڑوں کے سائے میں رہنا ہمیشہ خطرات سے خالی نہیں رہا۔ تاہم رواں ہفتے نیپال اور چین کی سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلاب نے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ ان پہاڑوں کے دامن میں آباد دنیا بھر کے لاکھوں افراد کی زندگی پہلے سے زیادہ غیر یقینی اور خطرناک ہوتی جارہی ہے۔
یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ اس تباہ کن سیلاب میں موسمیاتی تبدیلی کا کتنا کردار تھا۔ تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ پہاڑ تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں۔ گلیشیئرز پگھل رہے ہیں اور پہاڑی ڈھلوانیں غیر مستحکم ہورہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں پیچیدہ اور یکے بعد دیگرے رونما ہونے والی قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
نیپال بلند و بالا اور نوکیلی چوٹیوں، کھڑی ڈھلوانوں اور تنگ وادیوں کا ملک ہے۔ یہاں طاقتور دریا بہتے ہیں۔ اس کا دلکش قدرتی حسن بڑی تعداد میں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ تاہم یہی قدرتی منظرنامہ اسے انتہائی خطرناک بھی بناتا ہے۔
تیزی سے گرم ہوتے ہمالیہ میں واقع نیپال طویل عرصے سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے دوچار ہے۔ تاہم آئی سی آئی ایم او ڈی کے کریوسفیئر تجزیہ کار پرشانت بارال کے مطابق بدھ کو پیش آنے والا واقعہ حالیہ برسوں میں دیکھے گئے واقعات کے مقابلے میں ’’نمایاں طور پر بڑے پیمانے‘‘ کا تھا۔
سیٹلائٹ تجزیے کے مطابق شمالی نیپال میں لینگ ٹانگ لیرونگ پہاڑ سے تقریباً 2 ہزار فٹ چوڑا گلیشیئر کا ایک بہت بڑا حصہ لینڈ سلائیڈنگ کے ساتھ ٹوٹ کر نیچے آ گرا۔
برف، پانی، چٹانوں، مٹی اور گاڑیوں جتنے بڑے پتھروں کا یہ مہلک مرکب تقریباً 7 ہزار فٹ نیچے تیزی سے گرا۔ اس دوران اتنا شدید ارتعاش پیدا ہوا کہ ابتدا میں اسے زلزلہ سمجھا گیا۔
’’مائع کنکریٹ‘‘ سے تشبیہ دی جانے والی اس سیلابی لہر نے تنگ گھاٹیوں سے گزرتے ہوئے گھروں، عمارتوں، بجلی گھروں، پلوں اور سڑکوں کو تباہ کردیا۔ سیکڑوں افراد ہلاک جبکہ مزید سیکڑوں لاپتا ہیں۔
یہ واقعہ اپنی شدت اور تباہ کاری کے اعتبار سے غیر معمولی تھا۔ اس کی اصل وجوہات جاننے میں وقت لگے گا۔ تاہم سائنس دان طویل عرصے سے خبردار کرتے رہے ہیں کہ فوسل ایندھن کے استعمال سے زمین کا درجہ حرارت بڑھنے کے نتیجے میں اس نوعیت کے خطرناک سیلاب زیادہ کثرت سے آسکتے ہیں۔
کینیڈا کی یونیورسٹی آف کیلگری کے ماہر ارضیات ڈین شوگر کے مطابق، ’’چاہے اس مخصوص واقعے کو موسمیاتی تبدیلی سے جوڑا جائے یا نہیں، ہم اسی قسم کے حالات کی توقع کر رہے ہیں۔ یہی موسمیاتی تبدیلی کی ایک شکل ہے۔‘‘
اس تباہی کے اثرات صرف نیپال تک محدود نہیں رہیں گے۔
دنیا کے بلند پہاڑوں پر برف کا راج ہے، لیکن یہ برف تیزی سے ختم ہورہی ہے۔ دنیا کے 2 لاکھ سے زائد پہاڑی گلیشیئرز میں سے نصف تک اس صدی کے اختتام تک ختم ہوسکتے ہیں۔ یہ امکان اس وقت بھی موجود ہے جب دنیا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بلند حوصلہ اہداف حاصل کرلے۔
آئی سی آئی ایم او ڈی کی حالیہ تحقیق کے مطابق ہندوکش ہمالیہ کے خطے، جس میں نیپال بھی شامل ہے، میں گلیشیئرز سے برف پگھلنے کی رفتار 2000 کے بعد دوگنی ہوچکی ہے۔
برطانوی انٹارکٹک سروے کی ماہر موسمیات ایلا گلبرٹ کے مطابق گلیشیئرز کے سکڑنے سے وہ زیادہ غیر مستحکم ہوسکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ’’اچانک ٹوٹ پھوٹ‘‘ کا عمل شروع ہوسکتا ہے۔
برف صرف گلیشیئرز تک محدود نہیں بلکہ پرما فراسٹ کی شکل میں پہاڑوں کو بھی جوڑے رکھتی ہے۔ پرما فراسٹ مٹی، چٹان، تلچھٹ اور برف کا مرکب ہوتا ہے۔
برطانیہ کی کیلی یونیورسٹی کے ماہر جغرافیہ رچرڈ والر کے مطابق بلند پہاڑوں کو ایسے سمجھا جاسکتا ہے جیسے ٹوٹی ہوئی چٹانیں ہوں، جن کے جوڑ برف سے جڑے ہوئے ہوں۔
درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ برف پگھلتی ہے، پرما فراسٹ پگھلتا ہے اور زمین کا توازن تبدیل ہونے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پہاڑوں کے بڑے حصے غیر مستحکم ہوکر اچانک نیچے آ سکتے ہیں۔
گلیشیئرز کے پگھلنے سے بننے والی جھیلیں بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔ جب ان میں پانی بہت زیادہ جمع ہوجاتا ہے تو یہ اپنے کنارے توڑ سکتی ہیں۔ اس کے بعد پانی اور ملبے کا ایک طاقتور ریلا کھڑی پہاڑی ڈھلوانوں سے نیچے بہہ سکتا ہے۔
گزشتہ سال جولائی میں نیپال کے اسی طرح کے ایک علاقے میں گلیشیائی جھیل پھٹنے کے باعث سیلاب آیا تھا۔ اس واقعے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ بارش بھی ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔ زمین گرم ہونے کے ساتھ بارشوں کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں برف کے بجائے شدید بارشیں زیادہ ہونے لگی ہیں۔ اس سے لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے کٹاؤ کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
نیپال سینٹر فار ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے صدر اور ماہر ارضیات بشال اپریتی کے مطابق کئی گلیشیئر ’’ہمارے سروں کے اوپر معلق‘‘ ہیں اور کسی بھی وقت ٹوٹ سکتے ہیں۔
ان کے بقول جب ایسا ہوتا ہے تو یہ ’’آسمان سے آنے والی سونامی‘‘ جیسا منظر ہوتا ہے۔
نیپال شاید زیادہ خطرے سے دوچار ہو، لیکن یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ رچرڈ والر کے مطابق یورپی الپس سے لے کر اینڈیز تک ہر وہ بلند پہاڑی علاقہ خطرے میں ہے جہاں گلیشیئرز اور پرما فراسٹ موجود ہیں۔
امریکا میں الاسکا کے دارالحکومت جوناؤ کے اوپر واقع میڈن ہال گلیشیئر کا پانی سوسائیڈ بیسن جھیل میں جمع ہوتا ہے۔ یہ جھیل اکثر اپنے کنارے توڑ دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں سیلابی پانی نیچے شہر کی جانب بہتا اور گھروں کو بہا لے جاتا ہے۔
گزشتہ سال سوئٹزرلینڈ کا گاؤں بلاٹن گلیشیئر کے منہدم ہونے کے بعد مکمل طور پر برف اور چٹانوں تلے دب گیا تھا۔
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس واقعے کا تعلق پرما فراسٹ کے پگھلنے سے ہوسکتا ہے۔ اس کے باعث چٹانیں گلیشیئر پر گریں اور اسے غیر مستحکم کردیا۔
موسمیاتی تبدیلی: فن کیسے ماحولیاتی بیانیے کو عمل میں بدل رہا ہے؟
نیپال میں گلیشئر کا انہدام: ہمالیہ کی تباہی پاکستان کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی
ایسے حالات میں ابتدائی وارننگ کا نظام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف ریڈنگ کی پروفیسر ہنّا کلوک کے مطابق نیپال کے وارننگ سسٹمز نے ممکنہ طور پر نیچے آباد کئی لوگوں کی جانیں بچائیں۔
تاہم ان کے مطابق بلند پہاڑوں میں اکثر قدرتی واقعے کے آغاز اور اس کے اثرات کے درمیان بہت کم وقت ہوتا ہے۔ اس وجہ سے بروقت وارننگ دینا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔
ایک سائنس دان کے اندازے کے مطابق نیپال اور چین کے درمیان آنے والی سیلابی لہر نے ابتدائی تقریباً 14 میل کا فاصلہ 120 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے طے کیا۔
یہ پیش گوئی کرنا بھی انتہائی مشکل ہے کہ نیپال کے 3 ہزار گلیشیئرز میں سے کون سا گلیشیئر کب تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ آئی سی آئی ایم او ڈی کے پرشانت بارال کے مطابق ان تمام گلیشیئرز کی مسلسل نگرانی ’’انتہائی مشکل‘‘ کام ہے۔
تاہم امید کی ایک کرن جدید سیٹلائٹ نظام ہیں۔ ڈین شوگر کے مطابق یہ ٹیکنالوجی نیپال اور دیگر ممالک کے لیے ’’گیم چینجر‘‘ ثابت ہوسکتی ہے۔
دنیا کے شاندار برف پوش پہاڑ لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے رہیں گے۔ لیکن جیسے جیسے زمین گرم ہوگی، ان پہاڑوں کے دامن میں آباد لوگوں کے لیے ان کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اچانک اور مہلک قدرتی خطرات بھی بڑھتے جائیں گے۔
گلگت بلتستان: جدید سائنسی تحقیق کے نتائج کسانوں اور کھیتوں تک منتقل کرنا زرعی ترقی…
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف فن، مقامی کہانیوں اور تخلیقی اظہار سے مؤثر اجتماعی عمل کی…
نیپال میں گلیشئر اور چٹانوں کے انہدام نے ہمالیہ کے بڑھتے خطرات کو نمایاں کردیا،…
موسمیاتی تبدیلی کے باعث 43 فیصد بچے ہر سال اضافی ایک ماہ خطرناک گرمی کا…
موسمیاتی تبدیلی کے باعث گرمی کی لہریں، سیلاب، طوفان اور خشک سالی شدید ہو رہے…
پی سی ایف بلوچستان ٹیم نے مسلسل دوسری بار پہلی پوزیشن حاصل کرکے تخلیقی صلاحیتوں…
This website uses cookies.