Environmental Reports

نیپال میں گلیشئر کا انہدام: ہمالیہ کی تباہی پاکستان کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی

نیپال میں گلیشئر اور چٹانوں کے انہدام نے ہمالیہ کے بڑھتے خطرات کو نمایاں کردیا، جو پاکستان کے شمالی علاقوں کے لیے بھی انتباہ ہے۔

نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب گلیشئر، برف اور چٹانوں کے ایک بڑے حصے کے اچانک انہدام سے آنے والے تباہ کن سیلاب نے ہمالیائی خطے کو ایک بڑے انسانی المیے سے دوچار کردیا ہے۔

پانی، برف، مٹی اور چٹانوں پر مشتمل طاقت ور ریلے نے بستیاں اجاڑ دیں۔ سڑکیں اور پل بہا دیے گئے اور سیکڑوں افراد جان کی بازی ہار گئے۔ بڑی تعداد میں لوگ اب بھی لاپتا ہیں۔

یہ واقعہ صرف نیپال اور تبت کے لیے ایک آفت نہیں بلکہ پورے ہندوکش، قراقرم اور ہمالیائی خطے کے لیے سخت انتباہ ہے۔

پاکستان کے شمالی علاقوں میں بھی گلیشئرز، گلیشیائی جھیلوں اور غیر مستحکم پہاڑی ڈھلوانوں سے ملتے جلتے خطرات موجود ہیں۔

فروزاں گزشتہ دو دہائیوں سے گلیشئرز کے تیز پگھلاؤ، گلیشیائی جھیلوں کے پھیلاؤ، اچانک سیلاب، پہاڑی علاقوں میں غیر محفوظ تعمیرات اور مؤثر پیشگی اطلاع کے نظام کی ضرورت کے بارے میں مسلسل آگاہ کرتا آ رہا ہے۔

نیپال کا سانحہ انہی خطرات کی ایک اور دردناک مثال ہے۔

یہ ریلا لینڈھے دریا سے ہوتا ہوا بھوٹے کوشی اور تریشولی دریائی نظام میں داخل ہوگیا۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

26 اگست 2026 کی صبح نیپال کے ضلع راسووا کے شمالی پہاڑی علاقے میں گلیشئر کے زیریں حصے کے ساتھ برف اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا حجم ٹوٹ کر وادی میں آ گرا۔

سیٹلائٹ تصاویر کے ابتدائی تجزیے کے مطابق، گلیشئر کا یہ حصہ تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی سے الگ ہوا اور لگ بھگ 1,200 میٹر نیچے وادی کی تہہ میں جا گرا۔

گرتے ہوئے برفانی ملبے نے اپنے ساتھ چٹانیں، مٹی اور مزید برف بھی شامل کرلی، جس سے ایک نہایت طاقت ور ریلا وجود میں آیا۔

یہ ریلا لینڈھے دریا سے ہوتا ہوا بھوٹے کوشی اور تریشولی دریائی نظام میں داخل ہوگیا۔

پانی کے ساتھ مٹی، برف اور بڑے بڑے پتھر بہہ رہے تھے، اس لیے اس کی تباہ کن طاقت عام سیلاب کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔

متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچنے کے لیے بہت کم وقت ملا۔ کئی مقامات پر سیلابی ریلا اچانک آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے عمارتوں، گاڑیوں، بازاروں، سڑکوں اور پلوں کو بہا لے گیا۔

امریکی ارضیاتی ادارے، یو ایس جی ایس، نے بھی ابتدائی طور پر زلزلہ نما ارتعاش ریکارڈ کیا تھا۔

زلزلہ نہیں، گلیشئر کا انہدام

واقعے کے فوراً بعد خیال ظاہر کیا گیا کہ ممکنہ طور پر زلزلے نے سیلاب کو جنم دیا۔

امریکی ارضیاتی ادارے، یو ایس جی ایس، نے بھی ابتدائی طور پر زلزلہ نما ارتعاش ریکارڈ کیا تھا۔

تاہم بعد کی سائنسی جانچ میں معلوم ہوا کہ یہ ارتعاش زیرزمین زلزلے سے پیدا نہیں ہوا تھا۔

یہ دراصل برف اور چٹانوں کے غیر معمولی بڑے حجم کے ٹوٹ کر گرنے سے پیدا ہونے والی زلزلہ نما لہریں تھیں۔

یو ایس جی ایس نے سیٹلائٹ تصاویر اور قریبی مراکز پر ریکارڈ ہونے والی لہروں کے تجزیے کے بعد واضح کیا کہ علاقے میں زلزلہ نہیں آیا تھا بلکہ گلیشئر، برف اور چٹانوں کا بڑا حصہ گرا تھا۔

اسی انہدام کے بعد ملبے اور پانی کا تباہ کن ریلا نیچے کی طرف بڑھا۔

اس لیے موجودہ معلومات کی بنیاد پر اسے براہِ راست گلیشیائی جھیل پھٹنے کا واقعہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

’’گلیشئر پھٹنے‘‘ اور گلیشیائی جھیل پھٹنے میں فرق

عام طور پر ایسے واقعے کو ’’گلیشئر پھٹنا‘‘ کہا جاتا ہے، لیکن سائنسی طور پر گلیشئر غبارے یا بند کی طرح نہیں پھٹتا۔

نیپال کے موجودہ واقعے کے لیے زیادہ درست اصطلاح گلیشئر اور چٹانوں کا انہدام یا برفانی و چٹانی تودہ ہے۔

یہ واقعہ روایتی گلیشیائی جھیل پھٹنے کے سیلاب، یعنی گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے سے آنے والے سیلاب (گلوف) سے مختلف ہے۔

گلوف اس وقت آتا ہے جب گلیشئر کے پگھلے ہوئے پانی سے بننے والی جھیل کا قدرتی بند اچانک ٹوٹ جائے اور جھیل کا پانی تیزی سے نیچے کی طرف بہنے لگے۔

نیپال کے حالیہ واقعے میں ابتدائی شواہد بتاتے ہیں کہ پہلے گلیشئر، برف اور چٹانوں کا بڑا حصہ نیچے گرا، جس نے پانی اور ملبے کے طاقت ور ریلے کو جنم دیا۔

اس لیے موجودہ معلومات کی بنیاد پر اسے براہِ راست گلیشیائی جھیل پھٹنے کا واقعہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

اس کی مکمل نوعیت اور تمام اسباب جاننے کے لیے مزید سائنسی تحقیق جاری ہے۔

تباہ شدہ سڑکوں، خراب موسم اور مزید تودے گرنے کے خطرے نے امدادی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

جانی نقصان اور تباہی

27 اگست 2026 تک نیپال اور تبت سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق کم از کم 273 افراد ہلاک اور 1,300 سے زیادہ لاپتا بتائے گئے ہیں۔

تاہم امدادی کارروائیاں جاری ہیں، دور دراز علاقوں سے رابطہ منقطع ہے اور مختلف اداروں کے اعداد میں فرق بھی موجود ہے، اس لیے ان تعداد میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق:نیپال میں کم از کم 270 افراد ہلاک ہوئے۔

تبت میں تین ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔

دونوں علاقوں میں مجموعی طور پر 1,300 سے زیادہ افراد لاپتا ہوئے۔

لاپتا افراد میں سیکڑوں غیر ملکی سیاح اور زائرین شامل ہیں۔

کم از کم 1,200 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا یا وہ بے گھر ہوئے۔

درجنوں پل تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔

تقریباً 40 کلومیٹر سڑکوں کو نقصان پہنچا۔

کئی بستیاں، بازار، گاڑیاں اور عمارتیں سیلابی ملبے کی زد میں آئیں۔

پن بجلی کے منصوبوں اور سرحدی تجارتی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔

متعدد غیر ملکی افراد کیلاش مانسرور کی زیارت یا پہاڑی سیاحت کے لیے اس علاقے میں موجود تھے۔

لاپتا افراد کا تعلق 30 سے زیادہ ممالک سے بتایا گیا ہے۔

سیلاب کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بعض لاشیں متاثرہ مقام سے سیکڑوں کلومیٹر دور زیریں علاقوں میں ملیں۔

تباہ شدہ سڑکوں، خراب موسم اور مزید تودے گرنے کے خطرے نے امدادی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

دوسرا سیلاب آنے کا خطرہ

گلیشئر اور چٹانوں کے انہدام کے بعد پہاڑی ملبہ بعض مقامات پر دریا کا راستہ روک سکتا ہے۔

اس طرح پانی جمع ہونے سے ایک عارضی جھیل بن جاتی ہے۔

اگر مٹی اور چٹانوں سے بنا یہ کمزور بند ٹوٹ جائے تو ایک اور اچانک سیلاب آسکتا ہے۔

چینی حکام نے متاثرہ علاقے کے قریب ایک ایسی عارضی جھیل کی نگرانی شروع کردی ہے، جس کے بہہ نکلنے یا بند ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔

مسلسل بارش اور غیر مستحکم ڈھلوانوں کی وجہ سے ثانوی لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔

یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ ایک برفانی واقعہ اپنے بعد کئی دوسرے خطرات پیدا کرسکتا ہے۔

پہلے گلیشئر یا چٹانیں گرتی ہیں، پھر دریا بند ہوتا ہے، عارضی جھیل بنتی ہے اور اس کا بند ٹوٹنے سے دوسرا سیلاب آسکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کا کردار

اس مرحلے پر کسی ایک واقعے کو مکمل طور پر موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دینا سائنسی طور پر مناسب نہیں ہوگا۔

گلیشئر اور پہاڑی چٹانوں کے انہدام میں کئی عوامل کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ان میں برف کے اندر گہری دراڑیں، پہاڑی ڈھلوان کی کمزوری، برف کے اندر اور نیچے جمع ہونے والا پانی، شدید بارش یا غیر معمولی گرمی، مستقل منجمد زمین کا نرم ہونا اور چٹانوں کی قدرتی ساخت شامل ہیں۔

سڑکوں، سرنگوں اور دوسری تعمیرات سے پہاڑ پر پڑنے والا دباؤ بھی خطرات میں اضافہ کرسکتا ہے۔

تاہم ہمالیائی خطے کی مجموعی صورتِ حال میں موسمیاتی تبدیلی کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

بڑھتا ہوا درجہ حرارت برف کو تیزی سے پگھلاتا ہے، گلیشئرز کو کمزور کرتا ہے اور مستقل منجمد پہاڑی زمین کو نرم بناتا ہے۔

اس سے چٹانوں اور برفانی تودوں کے گرنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

سائنس دانوں نے سیٹلائٹ تصاویر میں واقعے سے پہلے برف کے تیزی سے پگھلنے کے آثار دیکھے ہیں۔

تاہم اس مخصوص انہدام اور موسمیاتی تبدیلی کے براہِ راست تعلق کا تعین تفصیلی تحقیق کے بعد ہی کیا جاسکے گا۔

اقوام متحدہ کے مطابق نیپال کے برف پوش پہاڑ تقریباً تین دہائیوں میں اپنی برف کا قریب ایک تہائی حصہ کھو چکے ہیں۔

وہاں گزشتہ دہائی میں گلیشئر پگھلنے کی رفتار اس سے پہلی دہائی کے مقابلے میں تقریباً 65 فیصد زیادہ رہی۔

ہمالیہ کا برفانی نظام کیوں غیر مستحکم ہو رہا ہے؟

گلیشئر صرف برف کے جمے ہوئے ڈھیر نہیں ہوتے بلکہ مسلسل حرکت کرنے والے قدرتی نظام ہیں۔

ان کے اندر برف، پانی، دراڑوں، چٹانوں اور ڈھلوان کے درمیان ایک نازک توازن قائم رہتا ہے۔

درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشئر کی سطح تیزی سے پگھلتی ہے۔

پگھلا ہوا پانی برف کی دراڑوں میں داخل ہوتا ہے اور گلیشئر کے نیچے پہنچ کر اسے سرکنے میں مدد دیتا ہے۔

برف اور چٹانوں کو جوڑنے والی مستقل منجمد زمین کمزور ہوتی ہے۔ نئی گلیشیائی جھیلیں بنتی ہیں اور پہلے سے موجود جھیلوں کا حجم بڑھتا ہے۔

اس کے ساتھ پہاڑی تودوں اور اچانک سیلاب کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

بین الاقوامی مرکز برائے مربوط پہاڑی ترقی، آئی سی آئی ایم او ڈی، مسلسل خبردار کر رہا ہے کہ ہندوکش ہمالیہ میں گلیشیائی تبدیلیاں پانی، خوراک، توانائی، انسانی آبادی اور بنیادی ڈھانچے کے لیے بڑا خطرہ بن رہی ہیں۔

بے احتیاط تعمیرات خطرہ بڑھا سکتی ہیں

ہمالیائی علاقوں میں سڑکوں، ہوٹلوں، پن بجلی گھروں، سرنگوں، سرحدی مراکز اور سیاحتی تنصیبات کی تعمیر تیزی سے ہو رہی ہے۔

یہ منصوبے معاشی ترقی کے لیے اہم ہوسکتے ہیں، لیکن ان کی تعمیر میں پہاڑی اور گلیشیائی خطرات کو نظرانداز کیا جائے تو یہی منصوبے انسانی جانوں اور قومی سرمایہ دونوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

نیپال کے متاثرہ ضلع راسووا میں پن بجلی کے متعدد منصوبے اور اہم سرحدی تنصیبات موجود ہیں۔

حالیہ سیلاب نے ثابت کیا کہ تنگ وادیوں اور دریاؤں کے قریب تعمیرات کو صرف عام سیلاب سے نہیں بلکہ برفانی تودوں، گلیشئر کے انہدام، ملبے کے ریلوں اور عارضی جھیلوں کے خطرات سے بھی محفوظ بنانا ضروری ہے۔

پاکستان کے لیے بڑا سبق

نیپال کا یہ واقعہ پاکستان کے لیے ایک واضح انتباہ ہے۔

گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا بھی اسی وسیع ہندوکش، قراقرم اور ہمالیائی نظام کا حصہ ہیں۔

پاکستان میں عموماً توجہ گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خطرے پر مرکوز رہتی ہے، لیکن نیپال کے واقعے نے ظاہر کیا ہے کہ خطرہ صرف جھیل کے بند ٹوٹنے تک محدود نہیں۔

گلیشئر کا اچانک سرکنا، برف اور چٹانوں کا انہدام، لینڈ سلائیڈ سے دریا کا بند ہونا اور عارضی جھیل کا پھٹنا بھی بڑی تباہی لاسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام، یو این ڈی پی، کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں گلیشئرز کے پگھلاؤ سے تقریباً 3,000 گلیشیائی جھیلیں بن چکی ہیں، جن میں 33 کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

ان جھیلوں سے لاکھوں افراد، بستیاں، زرعی زمینیں، سڑکیں، پل اور توانائی کے منصوبے متاثر ہوسکتے ہیں۔

یہ اعداد پہلے کیے گئے قومی اور بین الاقوامی جائزوں سے لیے گئے ہیں۔

گلیشیائی جھیلیں وقت کے ساتھ بنتی، پھیلتی، سکڑتی یا ختم ہوتی رہتی ہیں، اس لیے ان کی مسلسل نئی نقشہ بندی اور خطرے کی تازہ درجہ بندی ضروری ہے۔

ہنزہ، نگر، غذر، استور، دیامر، اسکردو، چترال، سوات، دیر اور کوہستان میں خطرات کی نوعیت ایک جیسی نہیں۔

ہر وادی کے گلیشئر، ڈھلوان، آبادی اور دریائی نظام کے مطابق الگ حفاظتی منصوبہ تیار ہونا چاہیے۔

پاکستان کو کیا کرنا ہوگا؟

پاکستان میں گلیشیائی خطرات کم کرنے کے لیے فوری اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔

گلیشیائی جھیلوں کے ساتھ غیر مستحکم گلیشئرز اور پہاڑی ڈھلوانوں کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔

سیٹلائٹ معلومات کے ساتھ باقاعدہ زمینی جائزے بھی کیے جائیں۔

خطرناک مقامات اور ملبے کے ممکنہ راستوں کی تازہ نقشہ بندی کی جائے۔

موبائل پیغامات، سائرن، ریڈیو اور مقامی رضاکاروں پر مشتمل مؤثر پیشگی اطلاع کا نظام قائم کیا جائے۔

ہر خطرے سے دوچار آبادی کے لیے محفوظ انخلا کا راستہ مقرر ہونا چاہیے۔

مقامی سطح پر فرضی مشقیں بھی ضروری ہیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ خطرے کے وقت کیا کرنا ہے۔

پلوں، سڑکوں، پن بجلی گھروں اور سیاحتی عمارتوں کے ڈیزائن میں برفانی خطرات کو شامل کیا جائے۔

دریاؤں، نالوں اور گلیشیائی ریلوں کے قدرتی راستوں میں تعمیرات کی روک تھام کی جائے۔

اس کے ساتھ پاکستان اور ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحد پار برفانی اور دریائی معلومات کا فوری تبادلہ بھی ضروری ہے۔

محض خطرے کی اطلاع جاری کرنا کافی نہیں۔

یہ یاد رکھنا ہوگا کہ پیشگی اطلاع اسی وقت جان بچا سکتی ہے جب وہ بروقت لوگوں تک پہنچے اور انہیں معلوم ہو کہ اطلاع ملنے کے بعد کہاں اور کس راستے سے نکلنا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ: دنیا بھر میں 56 کروڑ بچے خطرناک گرمی کی زد میں

موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ: شدید موسم کیوں بن رہے ہیں زیادہ تباہ کن؟

فروزاں کا مسلسل مؤقف

فروزاں 2006 سے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی، گلیشئرز کے پگھلاؤ، گلیشیائی جھیلوں، پانی کے مستقبل اور پہاڑی آبادیوں کو لاحق خطرات کو مسلسل اجاگر کر رہا ہے۔

اپنی رپورٹس اور تجزیاتی مضامین میں فروزاں نے بارہا واضح کیا ہے کہ گلیشئر صرف برف کے ذخائر نہیں بلکہ پاکستان کے پانی، زراعت، توانائی، خوراک اور انسانی سلامتی کی بنیاد ہیں۔

ان میں آنے والی تیز رفتار تبدیلیاں بالائی وادیوں سے لے کر دریائے سندھ کے زیریں علاقوں تک پورے ملک کو متاثر کرسکتی ہیں۔

نیپال کا حالیہ سانحہ فروزاں کے اس مسلسل مؤقف کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ آفت آنے کے بعد امداد اور بحالی ضروری ہیں، لیکن جانی نقصان روکنے کا اصل راستہ خطرے کی پیشگی شناخت، درست منصوبہ بندی، محفوظ تعمیرات اور مقامی آبادی کی عملی تیاری ہے۔

نیپال میں گلیشئر، برف اور چٹانوں کا انہدام ایک مقامی حادثہ نہیں بلکہ بدلتے ہوئے ہمالیہ کا پیغام ہے۔

یہ پہاڑ بظاہر خاموش دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے اندر برف، پانی، چٹانوں اور درجہ حرارت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔

پاکستان کے پاس تیاری کا وقت ضرور ہے، لیکن یہ وقت لامحدود نہیں۔

اگر خطرناک جھیلوں، غیر مستحکم گلیشئرز اور پہاڑی ڈھلوانوں کی مسلسل نگرانی، محفوظ تعمیرات، پیشگی اطلاع اور بروقت انخلا کے انتظامات کو ترجیح نہ دی گئی تو نیپال جیسا واقعہ شمالی پاکستان کی کسی وادی میں بھی ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

فروزاں ایک مرتبہ پھر خبردار کرتا ہے کہ گلیشیائی خطرات صرف مستقبل کا مسئلہ نہیں۔

یہ آج ہی پاکستان کی انسانی سلامتی، آبی تحفظ اور ترقیاتی منصوبہ بندی کا اہم ترین مسئلہ بن چکے ہیں۔

وضاحت: ہلاکتوں اور لاپتا افراد کے اعداد 27 اگست 2026 تک دستیاب اطلاعات پر مبنی ہیں۔ امدادی کارروائیاں جاری رہنے کے باعث ان میں تبدیلی ممکن ہے۔

admin

Recent Posts

موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ: دنیا بھر میں 56 کروڑ بچے خطرناک گرمی کی زد میں

موسمیاتی تبدیلی کے باعث 43 فیصد بچے ہر سال اضافی ایک ماہ خطرناک گرمی کا…

9 hours ago

موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ: شدید موسم کیوں بن رہے ہیں زیادہ تباہ کن؟

موسمیاتی تبدیلی کے باعث گرمی کی لہریں، سیلاب، طوفان اور خشک سالی شدید ہو رہے…

1 day ago

پی سی ایف بلوچستان کی شاندار ڈبل کامیابی، فلم فیسٹیول میں پھر پہلی پوزیشن

پی سی ایف بلوچستان ٹیم نے مسلسل دوسری بار پہلی پوزیشن حاصل کرکے تخلیقی صلاحیتوں…

2 days ago

خواتین، فطرت اور سبز انقلاب: ترقی کے ماڈل پر ازسرِنو غور

خواتین، خصوصاً دیہی اور مقامی خواتین کی آواز، روایتی علم اور کردار کو تسلیم کرنا…

3 days ago

موسمیاتی بحران: سویڈن میں انتخابات سے قبل 10 ہزار افراد کا احتجاج

موسمیاتی بحران پر مؤثر اقدامات کے لیے اسٹاک ہوم میں 10 ہزار افراد نکل آئے،…

3 days ago

مٹی، کسان اور بیج کا رشتہ تباہی اور بربادی کے دھانے پر

بیج کی اسیری اور دسترخوان کی آزادی: جی ایم او زراعت، تیسری دنیا، غذائی خودمختاری…

4 days ago

This website uses cookies.