Environmental Reports

موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ: شدید موسم کیوں بن رہے ہیں زیادہ تباہ کن؟

موسمیاتی تبدیلی کے باعث گرمی کی لہریں، سیلاب، طوفان اور خشک سالی شدید ہو رہے ہیں، ماہرین نے موسمی خطرات سے خبردار کردیا۔

نیویارک: امریکی مصنف کم اسٹینلے رابنسن کے ناول “دی منسٹری فار دی فیوچر” کے ابتدائی منظر میں بھارت میں شدید گرمی کی لہر اور بجلی کے نظام کی ناکامی کے نتیجے میں 2 کروڑ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ یہ تباہی دنیا کے ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف متحد ہونے پر مجبور کر دیتی ہے۔

سائنس دان طویل عرصے سے خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ دنیا کو گرمی کی لہروں، طوفانوں، سیلاب اور خشک سالی جیسے شدید موسمی واقعات کا زیادہ بار سامنا ہوگا۔

جو منظرنامے کبھی افسانوی لگتے تھے، اب انہیں حقیقی امکان اور بعض صورتوں میں ناگزیر خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔

آسٹریلیا میں 2019 اور 2020 کے دوران بلیک سمر کے نام سے معروف جنگلاتی آگ نے تقریباً 1 کروڑ 90 لاکھ ہیکٹر رقبہ جلا دیا۔

پاکستان میں 2022 کے تباہ کن سیلاب کے باعث ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ زیر آب آ گیا۔

2024 میں سمندری طوفان ملٹن اور ہیلین نے امریکا کے جنوبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔

اس کے علاوہ نسبتاً چھوٹی، مگر تباہ کن آفات بھی مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ ان میں ٹیکساس کے سیلاب، لاس اینجلس کی جنگلاتی آگ اور ویتنام و فلپائن کو متاثر کرنے والا طوفان کلمیگی شامل ہیں۔

سارہ پرکنز کرک پیٹرک کے مطابق اصل خطرہ یہ ہے کہ کہیں انسان مسلسل آنے والی آفات کا عادی نہ ہو جائے اور انہیں معمول سمجھنے لگے۔

نیٹ زیرو کے باوجود خطرات فوری ختم نہیں ہوں گے

آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کی ماہر موسمیات سارہ پرکنز کرک پیٹرک کا کہنا ہے کہ انہیں اس وقت ایک تلخ حقیقت کا احساس ہوا جب انہوں نے سمجھا کہ اگر دنیا فوری طور پر نیٹ زیرو تک پہنچ بھی جائے، تب بھی شدید موسمی واقعات فوراً ختم نہیں ہوں گے۔

نیٹ زیرو سے مراد وہ مرحلہ ہے جب فضا میں جتنی گرین ہاؤس گیسیں خارج کی جائیں، اتنی ہی مقدار ماحول سے نکال دی جائے۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ سیکڑوں سال تک فضا میں موجود رہ سکتی ہے۔ چونکہ اس گیس کی بڑی مقدار پہلے ہی جمع ہو چکی ہے اور انسان اب بھی اس میں اضافہ کر رہے ہیں، اس لیے موسمیاتی نقصان کو پلٹنے میں صدیوں لگ سکتی ہیں۔

سارہ پرکنز کرک پیٹرک کے مطابق اصل خطرہ یہ ہے کہ کہیں انسان مسلسل آنے والی آفات کا عادی نہ ہو جائے اور انہیں معمول سمجھنے لگے۔

واضح بات یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک کسی بڑے موسمیاتی بحران کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں، جبکہ خطرات کی نوعیت بھی مسلسل بدل رہی ہے۔

رابنسن کا کہنا ہے کہ اگر وہ آج اپنا ناول لکھتے تو جنگلاتی آگ پر بھی ایک باب ضرور شامل کرتے، کیونکہ اب یہ آگ زیادہ وسیع اور تباہ کن ہو چکی ہیں۔

ان کے مطابق اگرچہ بھارت میں ناول جیسی گرمی اور بجلی کے بحران کی صورتحال آج نسبتاً کم ممکن ہو سکتی ہے، تاہم مجموعی طور پر تباہ کن واقعات کے خطرات بڑھ چکے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جو بیک وقت پریشان کن اور انتہائی پیچیدہ محسوس ہوتا ہے۔

بدترین صورتحال پر سوچنے سے گریز

نفسیاتی طور پر انسان ناخوشگوار اور خوفناک امکانات پر بات کرنے سے گریز کرتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جو بیک وقت پریشان کن اور انتہائی پیچیدہ محسوس ہوتا ہے۔

گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بنیادی اور بڑے پیمانے پر کمی لانے یا انفراسٹرکچر کو شدید موسمی حالات کے مطابق ڈھالنے کے بجائے، حکومتوں سے لے کر عام افراد تک اکثر اس مسئلے کو نظر انداز کرنے کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔

ماہرین کے لیے بھی شدید موسمی واقعات کے بارے میں بات کرنا آسان نہیں، کیونکہ یہ قطعی طور پر نہیں بتایا جا سکتا کہ کوئی مخصوص تباہی کس سال یا کس دہائی میں رونما ہوگی۔

تاہم موسمیاتی ماڈلز مسلسل بہتر ہو رہے ہیں اور شدید واقعات کے درمیان وقفہ کم ہوتا جا رہا ہے۔

سوئس ماہر موسمیات سونیا سینویراٹنے، جو اقوام متحدہ کے بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی کے ایک ورکنگ گروپ کی نائب سربراہ ہیں، اس خطرے کو سگریٹ نوشی اور پھیپھڑوں کے کینسر سے تشبیہ دیتی ہیں۔

ان کے مطابق ہر سگریٹ نوش شخص کو پھیپھڑوں کا کینسر نہیں ہوتا، مگر اس کا خطرہ ضرور بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح عالمی درجہ حرارت میں ہر اضافی ایک بٹا دس ڈگری کا اضافہ شدید موسمی واقعات کے امکانات بڑھاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بڑا واقعہ پیش آیا تو لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ سائنس دانوں نے خبردار نہیں کیا تھا، حالانکہ سائنس دان مسلسل خبردار کر رہے ہیں۔

خطرہ حقیقی ہو تو تیاری ممکن ہے

اگرچہ زلزلوں کا براہ راست تعلق موسمیاتی تبدیلی سے نہیں، لیکن زلزلہ خیز علاقوں میں کی جانے والی تیاری اس بات کی مثال ہے کہ بڑے خطرات سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

ماہر ارضیات لوسی جونز نے 2014 میں لاس اینجلس کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر زلزلوں سے بچاؤ اور عمارتوں کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر کام کیا۔

بعد ازاں انہوں نے ایک غیر منافع بخش ادارہ قائم کیا، جو زلزلوں اور دیگر آفات سے نمٹنے کی تیاری کے حوالے سے مشاورت فراہم کرتا ہے۔

لوسی جونز کے مطابق لوگ اس وقت تبدیلی کے لیے تیار ہوتے ہیں جب انہیں یقین ہو کہ خطرہ حقیقی ہے اور اس کا حل بھی ممکن ہے۔

بصورت دیگر لوگ مسئلے کو نظر انداز کرنا زیادہ آسان سمجھتے ہیں۔

ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی سے انکار بھی بعض افراد کے لیے حقیقت سے نمٹنے کا ایک نفسیاتی طریقہ بن جاتا ہے، کیونکہ خطرے کو تسلیم نہ کرنے سے انہیں وقتی طور پر خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرنے میں مدد ملتی ہے۔

فلموں میں یا مکمل نجات، یا مکمل تباہی

گزشتہ 25 برس کے دوران کئی فلموں میں شدید موسمی واقعات کو موضوع بنایا گیا۔ تاہم فلمی دنیا میں اکثر دو ہی انتہائی انجام دکھائے جاتے ہیں: یا سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے یا پھر انسانیت مکمل تباہی کا شکار ہو جاتی ہے۔

2004 کی فلم “دی ڈے آفٹر ٹومارو” میں ماہر موسمیات جیک ہال عالمی رہنماؤں کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بڑی کمی کا مشورہ دیتا ہے۔

تاہم اس کی وارننگ کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور بعد میں دنیا شدید موسمی تباہی کا سامنا کرتی ہے۔

دوسری جانب 2021 کی طنزیہ فلم ڈونٹ لک اپ میں ایک دیوہیکل شہاب ثاقب زمین سے ٹکرانے والا ہوتا ہے، لیکن سیاسی قیادت اور معاشرہ اس خطرے کو سنجیدگی سے لینے میں ناکام رہتے ہیں۔

فلم کے اختتام پر تقریباً تمام انسان ہلاک ہو جاتے ہیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے بدترین سائنسی اندازے بھی ایسی مکمل انسانی تباہی کی پیش گوئی نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیں

پی سی ایف بلوچستان کی شاندار ڈبل کامیابی، فلم فیسٹیول میں پھر پہلی پوزیشن

خواتین، فطرت اور سبز انقلاب: ترقی کے ماڈل پر ازسرِنو غور

سائنس کے مطابق سوال یہ نہیں، آفت کب آئے گی؟

شدید موسمی واقعات پہلے ہی زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں، تاہم سائنس دانوں کے مطابق مستقبل میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ طبیعیات ہے۔

انسانی تاریخ میں پیدا ہونے والی مجموعی گرین ہاؤس گیسوں میں سے نصف سے زیادہ گزشتہ 50 برسوں کے دوران فضا میں خارج کی گئی ہیں۔

یہ گیسیں زمین کی حرارت بڑھاتی ہیں، جس سے موسمی نظام اور قدرتی ماحولیاتی توازن متاثر ہوتا ہے۔

کسی بڑے موسمیاتی واقعے کے درست وقت کا تعین ممکن نہیں۔ کسی مخصوص علاقے میں تباہ کن واقعہ 50 سال بعد، 10 سال بعد یا اس سے بھی پہلے رونما ہو سکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی سے انکار کرنے والے اکثر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تمام موسمیاتی ماڈلز درست ثابت نہیں ہوئے، اور یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے۔

تاہم گزشتہ کئی دہائیوں میں سائنس دانوں کے اندازے بعض معاملات میں حقیقت سے زیادہ محتاط ثابت ہوئے ہیں، کیونکہ موسمیاتی اثرات کئی مواقع پر توقعات سے زیادہ تیزی سے سامنے آئے ہیں۔

اس کی ایک مثال برطانیہ ہے۔ جنوری 2022 میں برطانیہ کے موسمیاتی خطرات کے جائزے میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ 2040 سے پہلے 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت کا امکان صرف 0.02 فیصد ہے۔

تاہم اسی سال گرمیوں میں برطانیہ کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا۔

بڑے پیمانے پر ہونے والے اس عمل نے دنیا کے مرجانی نظام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

زمین خطرناک حدوں کے قریب

دنیا اب ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں ٹِپنگ پوائنٹس، یعنی ایسے اہم ماحولیاتی موڑ جن کے بعد کسی نظام کی بحالی ممکن نہیں رہتی، محض نظریاتی تصور نہیں رہے۔

مرجان کی چٹانیں اس کی نمایاں مثال ہیں۔ شدید گرمی کے باعث مرجان اپنے اندر موجود خوردبینی طحالب کو خارج کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ سفید پڑ جاتے ہیں اور بالآخر مر سکتے ہیں۔

بڑے پیمانے پر ہونے والے اس عمل نے دنیا کے مرجانی نظام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

ایمیزون کا جنگل بھی ایک اہم ٹِپنگ پوائنٹ کے خطرے سے دوچار ہے۔ یہ جنگل بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ ذخیرہ کرتا ہے اور عالمی موسم کے نظام کو منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

تاہم مسلسل خشک سالی، وسیع جنگلاتی آگ اور مویشی پالنے کے لیے جنگلات کی کٹائی نے اس کے بڑے حصوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

اب بحث صرف یہ نہیں کہ ایمیزون کب اس حد تک پہنچے گا، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کب کاربن جذب کرنے کے بجائے زیادہ کاربن خارج کرنے لگے گا۔

مجموعی طور پر سائنس دان خبردار کر رہے ہیں کہ زمین ایک خطرناک راستے پر گامزن ہے۔ یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے موسمیاتی سائنس کے پروفیسر ٹم لینٹن کے مطابق ہمیں ان بدترین حالات پر بھی بات کرنی چاہیے جو مستقبل میں پیش آ سکتے ہیں، کیونکہ دنیا کو مزید بڑے جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔




admin

Recent Posts

پی سی ایف بلوچستان کی شاندار ڈبل کامیابی، فلم فیسٹیول میں پھر پہلی پوزیشن

پی سی ایف بلوچستان ٹیم نے مسلسل دوسری بار پہلی پوزیشن حاصل کرکے تخلیقی صلاحیتوں…

1 day ago

خواتین، فطرت اور سبز انقلاب: ترقی کے ماڈل پر ازسرِنو غور

خواتین، خصوصاً دیہی اور مقامی خواتین کی آواز، روایتی علم اور کردار کو تسلیم کرنا…

2 days ago

موسمیاتی بحران: سویڈن میں انتخابات سے قبل 10 ہزار افراد کا احتجاج

موسمیاتی بحران پر مؤثر اقدامات کے لیے اسٹاک ہوم میں 10 ہزار افراد نکل آئے،…

2 days ago

مٹی، کسان اور بیج کا رشتہ تباہی اور بربادی کے دھانے پر

بیج کی اسیری اور دسترخوان کی آزادی: جی ایم او زراعت، تیسری دنیا، غذائی خودمختاری…

3 days ago

انکار سے پروپیگنڈے تک: کریملن کا نیا موسمیاتی ہتھیار

انکار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، کریملن نے موسمیاتی تبدیلی کو یورپی یونین مخالف پروپیگنڈے اور…

4 days ago

کراچی پورٹ کوریڈور: ترقی یا ماحولیاتی خطرہ؟

کراچی پورٹ کوریڈور: رہائشی علاقوں کے تحفظ کے لیے ماحولیاتی منظوری فوری طور پر روکنے…

6 days ago

This website uses cookies.