Environmental Reports

موسمیاتی تبدیلی: فن کیسے ماحولیاتی بیانیے کو عمل میں بدل رہا ہے؟

موسمیاتی تبدیلی کے خلاف فن، مقامی کہانیوں اور تخلیقی اظہار سے مؤثر اجتماعی عمل کی نئی راہیں مسلسل کھول رہا ہے۔

ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں پہلے سے جاری منصوبوں کے لیے اوپن کال کے ذریعے چھ اقدامات منتخب کیے گئے۔ ان منصوبوں نے ثابت کیا کہ فن موسمیاتی آگاہی، کمیونٹی کی شمولیت اور مقامی سطح پر عملی اقدامات میں مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔

لین چیشیا (چین) نے ایک ایکو آرٹ نمائش پیش کی، جس میں پہاڑی علاقوں کے کچرے کو 12 فن پاروں میں تبدیل کیا گیا۔ یہ فن پارے ڈھائی کلومیٹر طویل راستے پر نصب کیے گئے۔

نوجوانوں اور مقامی رضاکاروں نے ان کی تیاری اور ڈیزائن میں حصہ لیا۔ اس اقدام کے ذریعے زائرین کو کچرے، ذمہ داری اور فطرت کے ساتھ اپنے تعلق پر غور کرنے کی دعوت دی گئی۔

منصوبے میں موسمیاتی بحث میں اکثر نظر انداز کیے جانے والے طبقات کو مرکزی حیثیت دی گئی۔

یوجن جونگ (جمہوریہ کوریا) نے ’’سن ایز اے نیو کرنسی‘‘ کے عنوان سے ایک تخیلاتی اور اجتماعی دنیا سازی پر مبنی منصوبہ پیش کیا۔ اس میں گرین ٹرانزیشن میں موجود عدم مساوات کا جائزہ لیا گیا۔

منصوبے میں موسمیاتی بحث میں اکثر نظر انداز کیے جانے والے طبقات کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ ان میں خواتین اور محنت کش بھی شامل ہیں، خصوصاً جزیرہ جیجو کی خواتین غوطہ خور، جنہیں ’’ہانیو‘‘ کہا جاتا ہے۔

اس منصوبے نے ماحول کو صرف اعدادوشمار اور اعداد کے ذریعے نہیں بلکہ مختلف سماجی تجربات اور انسانی زاویوں سے سمجھنے کے نئے طریقے پیش کیے۔

اس میں ویڈیو اور ضائع شدہ مواد کا استعمال کیا گیا۔

ہانا پارک (جمہوریہ کوریا) نے جیجو میں منعقدہ ’’ڈی کمپوزر‘‘ نمائش پیش کی۔ اس میں ویڈیو اور ضائع شدہ مواد کا استعمال کیا گیا۔

نمائش میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا فن ہمارے جامد تصورات کو توڑ سکتا ہے اور ان ماحولیاتی نشانات کو دوبارہ نمایاں کرسکتا ہے، جو اکثر ہماری نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔

بھارت سے سونالی ورما اور پرتیش بالی کے منصوبے ’’میکنگ دی اِن وِزِبل وِزِبل‘‘ میں تھرمل کیمروں اور خواتین کی آوازوں کے ذریعے گھروں کے اندر شدید گرمی کے اثرات کو دستاویزی شکل دی گئی۔

یہ تحقیق ان خواتین کے تجربات پر مرکوز تھی جو بغیر معاوضہ گھریلو کام انجام دیتی ہیں اور شدید گرمی کے اثرات کا سامنا کرتی ہیں۔

یہ تحقیق ان خواتین کے تجربات پر مرکوز تھی جو بغیر معاوضہ گھریلو کام انجام دیتی ہیں اور شدید گرمی کے اثرات کا سامنا کرتی ہیں۔

اس منصوبے نے موسمیاتی تبدیلی کے ایک پوشیدہ اور صنفی پہلو کو عوامی اور پالیسی سطح کی بحث کا حصہ بنایا۔

پوبرن باسو (بھارت) نے ’’دھارا‘‘ منصوبہ پیش کیا۔ اس کے تحت دریائے گنگا اور جمنا کے نظام سے وابستہ نوجوانوں کو ماحولیاتی تبدیلی اور مقامی کمیونٹی کی کہانیاں ریکارڈ کرنے کی تربیت دی گئی۔

ساتھ ہی مقامی آرکائیوز کی تشکیل کی گئی اور دریا کنارے آباد کمیونٹیز کو اپنی کہانیاں خود بیان کرنے کا اختیار دیا گیا۔

اس اقدام نے موسمیاتی بیانیوں کو لوگوں کے روزمرہ تجربات سے جوڑا۔ ساتھ ہی مقامی آرکائیوز کی تشکیل کی گئی اور دریا کنارے آباد کمیونٹیز کو اپنی کہانیاں خود بیان کرنے کا اختیار دیا گیا۔

تنمے شاہ (بھارت) نے ’’باروڈ ارتھ‘‘ کے عنوان سے ایک نمائش پیش کی۔ اس میں مصوری اور فوٹوگرافی کے ذریعے شدید گرمی، پانی کی قلت اور آلودگی جیسے مسائل کو ذاتی اور قریبی تجربے کے طور پر پیش کیا گیا۔

بصری استعاروں اور جذباتی اثر کے ذریعے اس نمائش نے لوگوں کو ماحولیاتی ذمہ داری پر غور کرنے کی دعوت دی۔

پیشکشوں کے بعد ہونے والی پینل گفتگو میں اس بات پر غور کیا گیا کہ فن موسمیاتی اقدامات میں کس طرح کردار ادا کرسکتا ہے۔

معلومات سے دیکھنے کے نئے انداز تک

پیشکشوں کے بعد ہونے والی پینل گفتگو میں اس بات پر غور کیا گیا کہ فن موسمیاتی اقدامات میں کس طرح کردار ادا کرسکتا ہے۔

اس دوران یہ بھی زیر بحث آیا کہ فنکار کمیونٹیز کے ساتھ ذمہ داری سے کیسے کام کرسکتے ہیں اور نوجوان تخلیق کار موجودہ منصوبوں سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔

پینلسٹس نے کہا کہ فن کا مقصد ضروری نہیں کہ وہ ہر مسئلے کا تیار حل پیش کرے۔ فن کی اصل طاقت موسمیاتی تبدیلی کو محسوس کرنے کے قابل بنانا، روایتی تصورات کو چیلنج کرنا اور ایسے مواقع پیدا کرنا ہے جہاں لوگ سوچ سکیں، شریک ہوں اور عملی قدم اٹھا سکیں۔

موسمیاتی بحران کو سمجھنے کے لیے سائنسی شواہد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم صرف اعدادوشمار ہمیشہ یہ نہیں بتا سکتے کہ ماحولیاتی تبدیلی لوگوں کے گھروں، روزگار اور اپنے ماحول کے ساتھ تعلقات کو کس طرح متاثر کررہی ہے۔

تصاویر، کہانیوں، مختلف مواد اور مشترکہ تخلیقی عمل کے ذریعے فن تجریدی معلومات کو فوری اور ذاتی تجربات میں تبدیل کرسکتا ہے۔

جب فن پارے اور بصری آرکائیوز مقامی حالات سے گہرا تعلق رکھتے ہوں تو وہ نظر انداز شدہ ماحولیاتی حقائق اور کمیونٹی کے علم کو بھی نمایاں کرسکتے ہیں۔

اس طرح فن شناخت، جذباتی وابستگی اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس کو مضبوط بناتا ہے۔

متعدد مقررین نے بتایا کہ ان کا کام انفرادی دستاویز بندی سے آگے بڑھ کر شراکتی طریقوں کی جانب منتقل ہوا ہے۔

کمیونٹیز کی نمائندگی نہیں، ان کے ساتھ تخلیق

گفتگو کا ایک اہم موضوع یہ تھا کہ فنکار محض ایک ’’بیرونی مبصر‘‘ کے کردار سے آگے بڑھتے ہوئے کمیونٹیز کے ساتھ حقیقی اور مشترکہ تخلیقی عمل کیسے تشکیل دے سکتے ہیں۔

متعدد مقررین نے بتایا کہ ان کا کام انفرادی دستاویز بندی سے آگے بڑھ کر شراکتی طریقوں کی جانب منتقل ہوا ہے۔

کمیونٹی کے افراد کے ساتھ کیمرے، ریکارڈنگ کے آلات اور تخلیقی طریقے شیئر کرکے فنکار لوگوں کو ماحولیاتی تبدیلی کو خود دستاویزی شکل دینے کا موقع فراہم کرسکتے ہیں۔

اس طرح لوگ اپنی کہانیوں کے خود راوی بن سکتے ہیں۔

تاہم پینلسٹس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فنکاروں کو اپنی حیثیت اور کردار پر مسلسل غور کرنا چاہیے۔

جب کوئی فنکار اپنی کمیونٹی سے باہر کام کرتا ہے تو اسے یہ سوچنا ہوگا کہ وہ دوسروں کے تجربات کی نمائندگی کس حد تک اور کس طریقے سے کرسکتا ہے۔

بعض مقررین کے مطابق فنکار اور کمیونٹی کے درمیان موجود فاصلے کو ہمیشہ مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔

اس فاصلے کو چھپانے کے بجائے فنکار اسے، اس سے جڑے شکوک، غلط فہمیوں اور سیکھنے کے عمل سمیت، اپنے کام کا حصہ بنا سکتے ہیں۔

شفافیت اور خود احتسابی زیادہ دیانت دار اور ذمہ دارانہ روابط قائم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

گفتگو میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ بامعنی تعاون کے لیے وقت، اعتماد اور باہمی تعلق ضروری ہے۔

کمیونٹیز کو صرف موضوع یا معلومات کے ذریعے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ انہیں یہ اختیار بھی ہونا چاہیے کہ ان کے تجربات کو کس طرح دستاویزی شکل دی جائے، سمجھا جائے اور دوسروں تک پہنچایا جائے۔

پائیدار اور ذمہ دار فنکارانہ عمل کی تعمیر

مقررین نے موسمیاتی اور ماحولیاتی مسائل پر کام کرنے والے نوجوان فنکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ وسیع عالمی تصورات پر فوری ردعمل دینے کے بجائے کسی مخصوص مسئلے، جگہ یا حقیقی تجربے سے آغاز کریں۔

مقامی ماحولیات، تاریخ اور کمیونٹیز کی گہری سمجھ بامعنی فنکارانہ عمل کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرسکتی ہے۔

مقررین نے ایک مرتبہ کے فن پاروں پر توجہ دینے کے بجائے طویل المدتی اشتراکی نیٹ ورکس قائم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

ورکشاپس، کمیونٹی آرکائیوز، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی شراکت داریاں ایسی اہمیت پیدا کرسکتی ہیں، جو کسی نمائش یا انفرادی فن پارے کے اختتام کے بعد بھی برقرار رہے۔

پینلسٹس نے موسمیاتی مسائل پر کام کرنے والے فنکاروں کو درپیش ساختی تضادات کا بھی اعتراف کیا۔

ان میں سفر، مواد کا استعمال اور نمائشوں کے ماحولیاتی اثرات شامل ہیں۔

ان مسائل کو صرف انفرادی طرز زندگی میں تبدیلی کے ذریعے ہمیشہ حل نہیں کیا جاسکتا۔

فنکاروں کو مکمل اخلاقی برتری کا دعویٰ کرنے کے بجائے ان تضادات کو کھلے انداز میں تسلیم کرنے اور جہاں مناسب ہو، انہیں تخلیقی مکالمے کا حصہ بنانے کی ترغیب دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

نیپال میں گلیشئر کا انہدام: ہمالیہ کی تباہی پاکستان کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی

موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ: دنیا بھر میں 56 کروڑ بچے خطرناک گرمی کی زد میں

اجتماعی عمل کا نقطۂ آغاز

ویبینار نے واضح کیا کہ فن صرف ماحولیاتی مسائل کی تشہیر تک محدود نہیں۔

فن نظر انداز کیے گئے تجربات کو سامنے لاسکتا ہے، کمیونٹیز کو بااختیار بنا سکتا ہے اور انسانوں اور ان کے ماحول کے درمیان نئے تعلقات قائم کرسکتا ہے۔

اس طرح فن موسمیاتی اقدامات میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

تخلیقی صلاحیت کو مسلسل مقامی شمولیت کے ساتھ جوڑ کر فنکار موسمیاتی تبدیلی کو ایک دور دراز عالمی مسئلے سے نکال کر مشترکہ اور حقیقی تجربے میں تبدیل کرسکتے ہیں۔

یہ عمل غوروفکر، مکالمے اور اجتماعی اقدامات کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔




admin

Recent Posts

نیپال میں گلیشئر کا انہدام: ہمالیہ کی تباہی پاکستان کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی

نیپال میں گلیشئر اور چٹانوں کے انہدام نے ہمالیہ کے بڑھتے خطرات کو نمایاں کردیا،…

1 day ago

موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ: دنیا بھر میں 56 کروڑ بچے خطرناک گرمی کی زد میں

موسمیاتی تبدیلی کے باعث 43 فیصد بچے ہر سال اضافی ایک ماہ خطرناک گرمی کا…

1 day ago

موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ: شدید موسم کیوں بن رہے ہیں زیادہ تباہ کن؟

موسمیاتی تبدیلی کے باعث گرمی کی لہریں، سیلاب، طوفان اور خشک سالی شدید ہو رہے…

2 days ago

پی سی ایف بلوچستان کی شاندار ڈبل کامیابی، فلم فیسٹیول میں پھر پہلی پوزیشن

پی سی ایف بلوچستان ٹیم نے مسلسل دوسری بار پہلی پوزیشن حاصل کرکے تخلیقی صلاحیتوں…

3 days ago

خواتین، فطرت اور سبز انقلاب: ترقی کے ماڈل پر ازسرِنو غور

خواتین، خصوصاً دیہی اور مقامی خواتین کی آواز، روایتی علم اور کردار کو تسلیم کرنا…

4 days ago

موسمیاتی بحران: سویڈن میں انتخابات سے قبل 10 ہزار افراد کا احتجاج

موسمیاتی بحران پر مؤثر اقدامات کے لیے اسٹاک ہوم میں 10 ہزار افراد نکل آئے،…

4 days ago

This website uses cookies.