فروزاں رپورٹ
جکارتہ: اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس سے قبل انڈونیشیا پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور ٹھوس اقدامات کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ملک کو متعدد ماحولیاتی بحرانوں کا سامنا ہے۔ ان کے باعث عوامی بے چینی اور خطے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی 31ویں موسمیاتی تبدیلی کانفرنس (کاپ 31) کا آغاز 9 نومبر کو ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہوگا۔ دو ہفتے جاری رہنے والی اس کانفرنس کی مشترکہ میزبانی ترکیہ اور آسٹریلیا کریں گے۔ اس میں دنیا بھر کے سربراہان، کاروباری شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندے شرکت کریں گے۔
کانفرنس میں 2015 کے پیرس معاہدے پر عمل درآمد تیز کرنے کے طریقوں پر مذاکرات ہوں گے۔ اس معاہدے کا مقصد عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو محدود کرنا ہے۔
21 اکتوبر کو جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ آنے والے چند برسوں میں زمین کا درجہ حرارت پیرس معاہدے میں طے کردہ 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد سے تجاوز کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ اس حد سے تجاوز کے دورانیے کو حتی الامکان مختصر رکھنے کے لیے اقدامات کریں۔
2015 کے معاہدے کے تحت انڈونیشیا نے بھی اپنے موسمیاتی اہداف کی دوسری دستاویز جمع کرائی ہے، جسے قومی سطح پر طے شدہ شراکت (این ڈی سی) کہا جاتا ہے۔ اس میں 2060 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بتدریج کمی کے لیے لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے۔
تاہم انڈونیشیا کے موسمیاتی وعدوں کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت معاشی ترقی کے لیے قابل تجدید توانائی کے بجائے اب بھی کوئلے، تیل اور گیس جیسے ایندھن کو ترجیح دے رہی ہے۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق حکومت ایسے منصوبوں کو روکنے سے بھی گریز کر رہی ہے جن کے لیے زمین اور جنگلات کا استعمال تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ اس سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
آزاد تحقیقی اتحاد کلائمیٹ ایکشن ٹریکر کے مطابق، انڈونیشیا کے مجموعی موسمیاتی اقدامات عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے انتہائی ناکافی ہیں۔
ملک میں گرین ہاؤس گیسوں کے بے قابو اخراج کو موسمیاتی آفات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ نومبر شمالی سماٹرا میں سمندری طوفان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 1200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ان آفات کی شدت اور تباہی میں جنگلات کی تباہی اور موسمیاتی بحران دونوں کو اہم عوامل قرار دیا گیا۔
حالیہ عرصے میں انڈونیشیا میں جنگلات کی آگ سے خارج ہونے والی آلودہ گیسوں کی مقدار دنیا میں سب سے زیادہ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ سماٹرا، کلیمانتن اور پاپوا کے وسیع علاقوں میں کئی ماہ سے جنگلات اور پیٹ لینڈز میں آگ لگی ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق سپر ال نینو کے باعث خشک موسم کا طویل اور شدید ہونا بھی آگ پھیلنے کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔
اگرچہ سائنسی ماہرین ابھی اس معاملے پر کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے، تاہم تازہ مطالعات سے عندیہ ملتا ہے کہ عالمی حدت بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں ال نینو کے زیادہ شدید واقعات کا سبب بن سکتی ہے۔
انڈونیشیا کے مختلف علاقوں میں جنگلات کی آگ سے اٹھنے والی زہریلی دھند نے کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور پڑوسی ممالک تک پھیل گئی ہے۔ اس صورت حال کے باعث مختلف علاقوں میں احتجاج بھی ہوا، جبکہ شہریوں کی صحت اور زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔
سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر (سی آر ای اے) کی جمعرات کو جاری کردہ ایک تحقیق کے مطابق، ستمبر میں سماٹرا اور کلیمانتن کے جنگلات کی آگ سے اٹھنے والے دھوئیں کے باعث 3560 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ تعداد جاوا میں شہری اور صنعتی فضائی آلودگی سے ہونے والی 1750 اموات سے بھی زیادہ ہے۔
سی آر ای اے کی تجزیہ کار کیتھرین حسن نے جمعرات کو جکارتہ پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ صاف توانائی کو ترجیح دینی چاہیے اور ایسے نام نہاد حل سے گریز کرنا چاہیے جو اخراج میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
کیتھرین کے مطابق، اگر انڈونیشیا نے فوسل فیول پر انحصار ختم کرنے اور عوامی صحت کے حق کو ترجیح دینے کی جانب پیش رفت نہ کی تو انطالیہ کانفرنس میں کیے جانے والے وعدے محض دعوے ثابت ہو سکتے ہیں۔
موسمیاتی بحران شدت اختیار کرنے کے ساتھ دنیا بھر میں، بشمول انڈونیشیا، شہری ماحولیاتی تباہی اور قدرتی آفات کے ذمہ داروں کو جواب دہ بنانے کے لیے عدالتوں سے رجوع کر رہے ہیں۔
صدر پرابوو سوبیانتو کی حکومت کو اس وقت دو الگ مقدمات کا سامنا ہے۔ ان میں 2025 کے سماٹرا سیلاب اور مغربی کلیمانتن میں حالیہ جنگلاتی آگ کی روک تھام اور ان سے نمٹنے میں مبینہ غفلت کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ حکومت نے تمام الزامات مسترد کر دیے ہیں۔
دوسری جانب جکارتہ کے ساحل کے قریب واقع جزائر ہزارہ کے علاقے پاری جزیرے کے چار رہائشیوں نے 2023 میں سوئٹزرلینڈ کی عدالت میں سیمنٹ بنانے والی بڑی کمپنی ہولسِم کے خلاف موسمیاتی مقدمہ دائر کیا تھا۔
عدالت نے 2025 کے اواخر میں مقدمے کو قابل سماعت قرار دے دیا، جس کے بعد اس کی قانونی کارروائی آگے بڑھنے کی راہ ہموار ہوئی۔
مقدمے کے درخواست گزاروں میں شامل عارف پوجیانتو کمپنی سے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے مالی معاوضہ چاہتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ کمپنی عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے، اگرچہ ہولسِم پاری جزیرے پر یا اس کے قریب کام نہیں کرتی۔
41 ہیکٹر پر مشتمل اس جزیرے کے بارے میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ سطح سمندر میں اضافے کے باعث 2050 تک اس کے زیر آب آنے کا خطرہ ہے۔
عارف نے جمعرات کو انڈونیشین فورم فار دی انوائرمنٹ (والہی) کے زیر اہتمام ایک مذاکرے میں کہا کہ موسمیاتی بحران کے اثرات ان کے لیے بالکل نئے ہیں، کیونکہ بچپن میں انہوں نے کبھی ایسی صورت حال کا سامنا نہیں کیا تھا۔
جزیرے کے رہائشیوں کی معاونت کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سوئس چرچ ایڈ (ایچ ای کے ایس) کی وکیل نینا بوری نے امید ظاہر کی کہ دنیا بھر میں ہونے والی ماحولیاتی تباہیاں عالمی رہنماؤں اور کاروباری اداروں کو انطالیہ کانفرنس میں اپنے موسمیاتی وعدے مضبوط بنانے پر آمادہ کریں گی۔
انہوں نے جمعرات کو کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ممالک اور کاروباری ادارے اپنے موسمیاتی وعدے پورے کریں اور موسمیاتی نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضہ فراہم کریں۔ ہم ان پر دباؤ برقرار رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں
جاپان کا انتباہ، خوراک دینے والی کھاد اب ماحول دشمن
رومانیہ کا پاکستان سے تعاون بڑھانے کا عزم، سفیر کا نیشنل پریس کلب کا دورہ
اس ماہ کے آغاز میں انڈونیشیا کی حکومت نے کان کنی کے شعبے کی معروف کاروباری شخصیت ہاشم دجوہادیکوسومو کو کاپ 31 میں ملک کے وفد کی قیادت سونپی ہے۔ وہ صدر پرابوو سوبیانتو کے چھوٹے بھائی بھی ہیں۔
وہ 2024 کے بعد تیسری مرتبہ موسمیاتی کانفرنس میں انڈونیشیا کے وفد کی قیادت کریں گے۔
توانائی اور ماحولیات کے لیے صدر کے خصوصی ایلچی ہاشم نے حالیہ بریفنگ میں کہا کہ انڈونیشیا انطالیہ میں ایک مضبوط قومی مؤقف، واضح ایجنڈے اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کے ساتھ شرکت کرے گا۔
عالمی یومِ آگاہی برائے سونامی، ساحلی تحفظ، پیشگی اطلاع کے نظام اور انسانی جانیں بچانے…
موسمیاتی بحران، نیوی ویسٹ منسٹر میں 15 نومبر کو تقریب، ہنگامی صورتحال، اخراج میں کمی…
موسمیاتی تبدیلی اور چائے، بعض مطالعات کے مطابق بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور قلبی صحت میں…
جاپان کا انتباہ، خوراک دینے والی کھاد کا بے دریغ استعمال فضائی و آبی آلودگی،…
رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین سٹونیسکو؛ پاکستان اور رومانیہ کی دوستی کو مضبوط اقتصادی، دفاعی…
امیر ترین ایک فیصد عالمی حدت میں 20 فیصد اضافے کے ذمہ دار، نجی طیاروں…
This website uses cookies.