Environmental Reports • Farozaan

نہرِ خیام: ماحول کا تحفظ یا کاروبار کا فروغ؟

Khayyam Canal: Environmental Protection or Commercial Development?

نہرِ خیام: شہریوں کا تعمیرات روکنے، منظور شدہ نقشے، ماحولیاتی اجازت نامے اور منصوبے کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ

کراچی کے علاقے کلفٹن میں نہرِ خیام پر جاری تعمیرات کے خلاف شہریوں اور ماحولیاتی کارکنوں کے احتجاج نے پانی کی نکاسی، عوامی کھلی جگہوں اور ساحلی ماحول کے تحفظ سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ حکام واضح کریں کہ یہاں کیا تعمیر کیا جا رہا ہے، منصوبے کی منظوری کس نے دی اور اس سے پانی کے بہاؤ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے منصوبے کے منظور شدہ نقشے، ماحولیاتی اجازت نامے اور مالی تفصیلات بھی عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اتوار، 11 اکتوبر 2026 کو تعمیراتی مقام پر ہونے والے احتجاج میں کلفٹن بلاک 5 ریزیڈنٹس ایسوسی ایشن، کلفٹن ڈیفنس کمیونٹی اور کراچی ریزیڈنٹس کمیونٹی، ضلع جنوبی، سمیت شہر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے جاری تعمیرات فوری روکنے اور نہر کی گزرگاہ اور کناروں کے مجوزہ استعمال پر عوامی مشاورت کا مطالبہ کیا۔

تعمیراتی مشینری کے قریب کھڑے مظاہرین نے ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر نہر کو تنگ کرنے، مجوزہ فوڈ اسٹریٹ اور منصوبے کی تفصیلات سامنے نہ لانے کے خلاف نعرے درج تھے۔ بعض پلے کارڈز پر سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا گیا۔ تاہم، فراہم کردہ مواد میں متعلقہ عدالتی حکم کی نقل شامل نہیں ہے۔

بعد ازاں کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی، یعنی کے ڈی اے، نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ الاٹمنٹس منسوخ کر دی گئی ہیں۔

پرانے تنازعات، نئے سوالات

نہرِ خیام کی زمین کے استعمال پر تنازع کئی دہائیوں پرانا ہے۔ اردشیر کاؤس جی کے مطابق، 1990 میں اس زمین پر پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے خلاف مقامی شہریوں نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ بعد ازاں کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی، یعنی کے ڈی اے، نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ الاٹمنٹس منسوخ کر دی گئی ہیں۔

بعد کے برسوں میں نہر کی بحالی اور اسے تفریحی مقام بنانے کے منصوبے سامنے آئے۔ مئی 2019 میں سندھ حکومت نے یہاں کشتی رانی اور تفریحی سہولتیں متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔ جنوری 2024 میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے نہر کی بحالی کے لیے 50 کروڑ روپے کے منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا۔

22 اکتوبر 2025 کو شائع ہونے والی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کی خبر کے مطابق، حکام نے منصوبہ جون 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ خبر میں نہر سے گندا پانی اور کچرا نکالنے، صاف پانی فراہم کرنے، سبزہ کاری، پارک، خاندانی تفریحی سہولتوں اور فوڈ اسٹریٹ کے قیام کا ذکر کیا گیا تھا۔

اس منصوبے پر سندھ حکومت کی ہدایات کے تحت پیپل اینڈ نیچر انیشی ایٹو، یعنی پانی، کے تعاون سے کام جاری ہونے کی اطلاع بھی دی گئی تھی۔ اس طرح فوڈ اسٹریٹ کا معاملہ محض مقامی سطح پر گردش کرنے والی اطلاع نہیں، بلکہ اس کا ذکر سابقہ اعلان میں بھی موجود ہے۔

تاہم، موجودہ منظور شدہ نقشے اور تعمیراتی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ اب کیا تعمیر کیا جا رہا ہے، سابقہ منصوبے میں کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں اور جون 2026 کی مقررہ مدت گزرنے کے بعد کام کہاں تک پہنچا ہے۔

مظاہرین کا بنیادی خدشہ ہے کہ نہر کے اندر اور کناروں پر تعمیرات سے بارش کا پانی گزارنے کی گنجائش متاثر ہو سکتی ہے۔

نکاسی آب کی گنجائش پر تشویش

مظاہرین کا بنیادی خدشہ ہے کہ نہر کے اندر اور کناروں پر تعمیرات سے بارش کا پانی گزارنے کی گنجائش متاثر ہو سکتی ہے۔ رہائشیوں کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں نہر کے اندر نصب کیے جانے والے پائپوں، دیواروں اور دیگر ڈھانچوں پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ انہوں نے ان تعمیرات کے اثرات کا آزادانہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

کلفٹن اربن فاریسٹ کے بانی اور ماحولیاتی کارکن مسعود لوہار نے نہرِ خیام کو ساحلی آبی نظام سے وابستہ گزرگاہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے پہلے پانی کے بہاؤ اور سمندری ماحول کو سمجھنا ضروری ہے۔

کراچی ریزیڈنٹس کمیونٹی کی رکن راشا طارق نے کہا کہ نہرِ خیام، اس کے کھلے کنارے اور اردگرد کی جگہیں مشترکہ عوامی اثاثے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ بوٹ بیسن اور کراچی کے نکاسی آب کے نظام کا حصہ ہے، اس لیے اس کے تحفظ کا معاملہ صرف قریبی آبادی تک محدود نہیں۔

شہریوں نے مطالبہ کیا کہ نہر کی موجودہ اور مجوزہ چوڑائی و گہرائی، انجینئرنگ نقشے اور پانی کی نکاسی سے متعلق حسابات عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ آزادانہ جائزے میں شدید بارش اور سمندری مدوجزر کے دوران پانی کے بہاؤ کو بھی شامل کیا جائے۔

نکاسی آب کی گنجائش کم ہونے اور سیلابی خطرہ بڑھنے سے متعلق خدشات رہائشیوں نے ظاہر کیے ہیں۔ تاہم، موجودہ تعمیرات کے اثرات سے متعلق آزاد انجینئرنگ رپورٹ فراہم کردہ مواد میں موجود نہیں ہے۔

انہوں نے گھروں تک رسائی، نجی زندگی اور تحفظ متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔

فوڈ اسٹریٹ سے رہائشی آبادی پر کیا اثر پڑے گا؟

نہرِ خیام کے قریب رہنے والی ڈاکٹر نادیہ کرن نے مجوزہ فوڈ اسٹریٹ کے باعث ٹریفک، بھیڑ اور شور میں اضافے پر تشویش ظاہر کی۔ کلفٹن بلاک 5 کے رہائشی شیراز قریشی نے بھی کہا کہ گنجان رہائشی علاقے میں مزید تجارتی سرگرمیاں مقامی آبادی کی مشکلات بڑھا سکتی ہیں۔

رہائشیوں کے مطابق، دکانوں اور کھانے پینے کے مراکز کے قیام سے پارکنگ، سامان پہنچانے والی گاڑیوں، رات گئے شور، دھوئیں اور کچرے کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے گھروں تک رسائی، نجی زندگی اور تحفظ متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ نہر کے کناروں پر تجارتی تعمیرات سے عوامی کھلی جگہ کم ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ نہر کی صفائی اور مرمت کے لیے ضروری رسائی بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

رہائشیوں نے واضح کیا کہ منصوبے سے متعلق معلومات طلب کرنے یا مشاورت میں شریک ہونے کو اس کی منظوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، صرف نقشے شائع کرنے سے نہر کو تنگ کرنے یا اس کی زمین کے تجارتی استعمال پر ان کی رضامندی تصور نہیں کی جا سکتی۔

مقامی رہائشی ہما احمد نے سوال اٹھایا کہ تعمیراتی مقام پر منصوبے سے متعلق معلوماتی بورڈ کیوں موجود نہیں۔

ماحولیاتی اجازت نامے اور مالی تفصیلات طلب

مقامی رہائشی ہما احمد نے سوال اٹھایا کہ تعمیراتی مقام پر منصوبے سے متعلق معلوماتی بورڈ کیوں موجود نہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ وہاں نمایاں بورڈ نصب کیا جائے، جس پر ذمہ دار ادارے، ٹھیکے دار، منظور شدہ کام، منصوبے کی لاگت اور تکمیل کی تاریخ درج ہو۔

رہائشیوں کی پریس ریلیز میں حکام سے پوچھا گیا ہے کہ آیا موجودہ تعمیرات کے لیے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ، ابتدائی ماحولیاتی جانچ یا کوئی دوسرا ضروری جائزہ تیار کرکے سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی، یعنی سیپا، کو جمع کرایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ آیا متعلقہ ادارے نے اس کی منظوری دی ہے۔

شہریوں نے متعلقہ رپورٹ، سیپا کے فیصلے اور منظوری کی شرائط عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بالخصوص یہ واضح کرنے پر زور دیا گیا ہے کہ آیا ان دستاویزات میں نہر کی ساخت میں تبدیلی اور مجوزہ تجارتی سرگرمیاں شامل ہیں۔

دستیاب مواد سے ان ماحولیاتی منظوریوں کی موجودگی یا عدم موجودگی کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوتی۔

منصوبے کی اعلان کردہ 50 کروڑ روپے کی لاگت کے حوالے سے بھی مظاہرین نے تفصیلات طلب کی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ منظور شدہ بجٹ، فنڈز کے ذرائع، ٹھیکے کے تحت ہونے والے کام، ٹھیکے داروں، ادائیگیوں اور اب تک کے حقیقی اخراجات کا ریکارڈ جاری کیا جائے۔

اعلان کردہ لاگت کو خرچ ہو چکی رقم نہیں سمجھا جا سکتا۔ حقیقی اخراجات کی تفصیلات متعلقہ مالی ریکارڈ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں

موسمیاتی تحریک میں پھوٹ، امریکی توانائی بل متنازع

کوپ 31 اور کوپ 17، کرغزستان کی بڑی پیش رفت

گندے پانی کی صفائی بنیادی ضرورت

احتجاج میں نہر کے ذریعے سمندر تک پہنچنے والے گندے پانی کا مسئلہ بھی نمایاں رہا۔ کلفٹن ڈیفنس کمیونٹی اور کلفٹن بلاک 5 ریزیڈنٹس ایسوسی ایشن سے وابستہ حمیرا خان نے بغیر صفائی کے گندا پانی سمندر میں جانے اور سمندری حیات پر اس کے اثرات کے بارے میں تشویش ظاہر کی۔

راشا طارق نے مطالبہ کیا کہ حکام واضح کریں کہ نئے پائپ گندا پانی کہاں لے جائیں گے، اسے کس مرکز میں صاف کیا جائے گا اور آخرکار کہاں خارج کیا جائے گا۔ ان کے مطابق، بغیر صفائی کے پانی کا رخ سمندر کی جانب موڑ دینے سے آلودگی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

کلفٹن ڈیفنس کمیونٹی کے صدر عبدالرحمن نے کہا کہ شہر میں سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر کے ساتھ پانی کی مناسب نکاسی کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے آبی گزرگاہوں کو محدود کرنے اور ان پر تجاوزات کی کوششوں پر اعتراض کیا۔

شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ان سوالات کے جواب، آزادانہ جائزے اور بامعنی عوامی مشاورت مکمل ہونے تک جاری تعمیرات روک دی جائیں۔

متعلقہ ادارے کی وضاحت کا انتظار

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے ترجمان نے ڈان کو بتایا کہ موجودہ منصوبے پر محکمہ بلدیات کام کر رہا ہے اور اس کا کے ایم سی یا میئر کراچی سے تعلق نہیں۔ تاہم، فراہم کردہ مواد میں محکمہ بلدیات کی جانب سے موجودہ تعمیرات، منظور شدہ نقشوں اور شہریوں کے اعتراضات پر تفصیلی جواب شامل نہیں ہے۔

موجودہ اختلاف کا مرکزی سوال یہ ہے کہ نہر کی بحالی کے نام پر جاری کام کے دوران پانی کی نکاسی، آلودگی کے خاتمے اور عوامی جگہوں کے تحفظ کو کیسے یقینی بنایا جائے گا۔ اس سوال کا واضح جواب منظور شدہ نقشوں، ماحولیاتی جائزوں، نکاسی آب کے حسابات، مالی ریکارڈ اور ذمہ دار ادارے کی وضاحت سے ہی مل سکتا ہے۔

شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ان سوالات کے جواب، آزادانہ جائزے اور بامعنی عوامی مشاورت مکمل ہونے تک جاری تعمیرات روک دی جائیں۔ نہرِ خیام کے مستقبل سے متعلق کسی بھی فیصلے میں کراچی کی نکاسی آب کی ضروریات، ساحلی ماحول اور رہائشیوں کے حقوق کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں