فرحین العاص بیورو چیف
اسلام آباد :وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات، خصوصاً سیلابی خطرات، سے نمٹنے کے لیے گفتگو سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
وہ اے جی ایچ ایس لیگل ایڈ سیل کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ اعلیٰ سطحی پینل ڈسکشن ’’موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ دور میں سیلاب کے ساتھ زندگی‘‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ نشست میں پالیسی سازوں، ماہرینِ ماحولیات، محققین، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پر کئی دہائیوں سے بات ہو رہی ہے، لیکن زمینی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں معمولی حصہ ڈالتا ہے، اس کے باوجود اسے موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے صرف منصوبے اور اعلانات کافی نہیں۔ اس کے لیے عملی اقدامات، تحقیق، جدت اور مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے نوجوان نسل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی مسائل کے حل کے لیے نئی سوچ اور تخلیقی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ماحولیاتی چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کیا گیا اور قابلِ تجدید توانائی سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں ترقی حاصل کی گئی۔
نشست کی ناظم اور سینئر ماحولیاتی صحافی عافیہ سلام نے کہا کہ حالیہ موسمیاتی واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ دور کا چیلنج ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو صرف ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے بجائے سیلابی خطرات کم کرنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی اور طویل المدتی اقدامات اپنانا ہوں گے۔
پروفیسر دانش مصطفیٰ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے صرف سائنسی یا تکنیکی اقدامات کافی نہیں، بلکہ معاشرتی سوچ اور رویوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔
انہوں نے سیلاب کے دوران انسانی تحفظ، صحت اور ہنگامی تیاری کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ماہرِ آبیات ڈاکٹر حسن عباس نے گلیشیئرز، دریائی نظام اور حساس ماحولیاتی علاقوں کے تحفظ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو قدرتی نظام کو سمجھتے ہوئے سائنسی بنیادوں پر فیصلے کرنا ہوں گے۔
موسمیاتی و آبی حکمرانی کی ماہر فضیلہ نبیل نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک موجودہ مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
پاکستان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے نمائندے سیموئیل رزک نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، جدید ڈیٹا اور مضبوط ابتدائی انتباہی نظام مستقبل کے خطرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
موسمیاتی تبدیلی: گلگت بلتستان میں کسانوں کی سائنسی تربیت
گلیشیئرز کے نیچے آباد زندگی کیوں جان لیوا خطرے میں ہے؟
پینل کے بعد ہونے والی گول میز نشست میں ماہرین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مقامی حکومتوں کو مضبوط اور متاثرہ کمیونٹیز کو بااختیار بنانا ضروری ہے۔
شرکاء نے کہا کہ مقامی آبادیوں کا تجربہ اور روایتی علم سیلاب سے نمٹنے کی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ یہی کمیونٹیز قدرتی آفات کے دوران ابتدائی ردعمل فراہم کرتی ہیں۔
نشست میں بہتر حکمرانی، ادارہ جاتی اصلاحات، جواب دہی، ابتدائی وارننگ نظام اور کمیونٹی شمولیت کو پاکستان میں موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے لیے بنیادی عوامل قرار دیا گیا۔
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے کے لیے سائنسی تحقیق، مقامی تجربات اور مؤثر پالیسی اقدامات پر مبنی جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
یہ تقریب یورپی یونین کے تعاون سے منعقد کی گئی۔
گلگت بلتستان: جدید سائنسی تحقیق کے نتائج کسانوں اور کھیتوں تک منتقل کرنا زرعی ترقی…
موسمیاتی تبدیلی: پگھلتے گلیشیئرز، غیر مستحکم پہاڑ اور شدید بارشیں دنیا بھر میں سیلاب اور…
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف فن، مقامی کہانیوں اور تخلیقی اظہار سے مؤثر اجتماعی عمل کی…
نیپال میں گلیشئر اور چٹانوں کے انہدام نے ہمالیہ کے بڑھتے خطرات کو نمایاں کردیا،…
موسمیاتی تبدیلی کے باعث 43 فیصد بچے ہر سال اضافی ایک ماہ خطرناک گرمی کا…
موسمیاتی تبدیلی کے باعث گرمی کی لہریں، سیلاب، طوفان اور خشک سالی شدید ہو رہے…
This website uses cookies.