Environmental Reports

عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات، امیروں پر ٹیکس کا مطالبہ

عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات، امیروں پر ٹیکس اور آئی ایم ایف، عالمی بینک کی پالیسیوں پر نظرثانی کا مطالبہ

اس ہفتے تھائی لینڈ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس منعقد ہو رہے ہیں۔ ان میں حکومتوں، سول سوسائٹی، قانون سازوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دنیا بھر میں شدید موسمی واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ضروری مالی وسائل کی فراہمی کا سوال نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔

اجلاسوں کے میزبان شہر بنکاک نے حال ہی میں سیلابی تباہی کے باعث ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔ رواں موسمِ گرما میں یورپ کو تباہ کن گرمی کی لہروں اور جنگلات میں لگنے والی آگ کا سامنا کرنا پڑا۔ چند ہفتے قبل نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 1,250 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں لاپتا ہو گئے۔ اس صورت حال کے بعد اقوام متحدہ اور امدادی شراکت داروں نے ہنگامی امداد کے لیے 49.6 ملین امریکی ڈالر کی اپیل کی۔

یہ آفات واضح کرتی ہیں کہ موسمیاتی اقدامات کے لیے مالی وسائل کی فراہمی محض مستقبل کے مذاکرات کا موضوع نہیں۔ لوگ پہلے ہی شدت اختیار کرتے موسمیاتی بحران کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ دوسری جانب خوراک کی قیمتوں اور توانائی کے بلوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

اس کے باوجود موسمیاتی خطرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک سخت مالیاتی قوانین اور شرائط کی گرفت میں ہیں۔ یہ شرائط ان کے مالی وسائل محدود کرتی ہیں، قرضوں کا بوجھ بڑھاتی ہیں اور حکومتوں پر سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتی ہیں۔ دوسری جانب آلودگی کے بڑے ذمہ دار دولت مند طبقے ان بحرانوں سے منافع کما رہے ہیں، لیکن اپنی منصفانہ ذمہ داری ادا نہیں کر رہے۔

ان کے ذریعے مالی بوجھ دولت مند اور آلودگی پھیلانے والے طبقوں کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے۔

معاشی انصاف اور موسمیاتی انصاف کا تعلق

موسمیاتی بحران شدت اختیار کر رہا ہے، لیکن عالمی پالیسی اقدامات اس ضرورت سے پیچھے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کی روک تھام، اس کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے اور ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے مناسب مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔

ملکی اور عالمی ٹیکس نظام میں اصلاحات اس سلسلے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کے ذریعے مالی بوجھ دولت مند اور آلودگی پھیلانے والے طبقوں کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح موسمیاتی اقدامات کے لیے ضروری وسائل بھی جمع کیے جا سکتے ہیں۔

آئی ایم ایف اور عالمی بینک کو عالمی مالیاتی نظام میں طاقتور مقام حاصل ہے۔ ان اداروں کو چاہیے کہ وہ آج کے متعدد باہم جڑے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اپنے طریقۂ کار میں تبدیلی لائیں، نہ کہ مسائل کو مزید سنگین بنائیں۔

ممالک کو درپیش زمینی حقائق کے مطابق آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی پالیسیوں میں اصلاحات کا مطالبہ۔

ان اداروں کا کردار سرکاری اخراجات محدود کرنے اور مالی دباؤ بڑھانے کے بجائے ممالک کو پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں مدد دینا ہونا چاہیے۔

حکومتیں کتنا ٹیکس جمع کرتی ہیں، اس کے ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ وہ آمدن کیسے حاصل کرتی ہیں۔

کئی دہائیوں سے آئی ایم ایف اور عالمی بینک ترقی پذیر ممالک کو سرکاری بجٹ میں کٹوتیوں اور ٹیکسوں میں اضافے پر مبنی کفایت شعاری کی پالیسیاں اپنانے کا مشورہ دیتے رہے ہیں۔ ان پالیسیوں نے متعدد ممالک کو ایک نقصان دہ معاشی چکر میں پھنسا دیا ہے۔

حکومتیں کتنا ٹیکس جمع کرتی ہیں، اس کے ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ وہ آمدن کیسے حاصل کرتی ہیں۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک بالواسطہ ٹیکسوں، اشیائے صرف پر ٹیکسوں اور قدرتی وسائل کے مزید استحصال پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

عالمی بینک کی تحقیق کے مطابق، متعدد ترقی پذیر ممالک میں بنیادی ضروریات کی اشیا پر بھاری ٹیکسوں کا سب سے زیادہ بوجھ کم آمدنی والے گھرانوں پر پڑتا ہے۔

عام لوگوں سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ اس بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کا مسلسل بڑا حصہ برداشت کریں۔ دوسری جانب بجٹ میں کٹوتیاں اور ناقابلِ برداشت قرضے عوامی سرمایہ کاری کو محدود کر رہے ہیں۔ یہی سرمایہ کاری ایک منصفانہ، محفوظ اور موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کے قابل مستقبل کی تعمیر کے لیے ضروری ہے۔

سوال یہ ہے کہ عالمی اخراج میں اضافے کا سبب بننے والے اثاثوں کی ملکیت کس کے پاس ہے؟

موسمیاتی بحران اور انتہائی دولت کا تعلق

موسمیاتی بحران میں سب سے کم حصہ ڈالنے والے افراد اور ممالک اس کے سب سے شدید اثرات برداشت کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس، دولت مند طبقے اور آلودگی پھیلانے والے بڑے ادارے اکثر اپنی منصفانہ ذمہ داری ادا کرنے سے بچ جاتے ہیں۔

گرین پیس افریقہ کی حالیہ تحقیق موسمیاتی مالیات کی بحث میں ایک اہم سوال سامنے لاتی ہے، جسے اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عالمی اخراج میں اضافے کا سبب بننے والے اثاثوں کی ملکیت کس کے پاس ہے؟

گرین پیس افریقہ کی رپورٹ ’’انتہائی دولت کی موسمیاتی ذمہ داری کو سمجھنا‘‘ کے مطابق، جب سرمایہ کاری اور اثاثوں کی ملکیت سے وابستہ اخراج کو مدنظر رکھا جائے تو موسمیاتی بحران کی ذمہ داری چند دولت مند افراد اور طبقوں میں کہیں زیادہ مرتکز نظر آتی ہے۔

صرف 2022 میں دنیا کے امیر ترین 0.01 فیصد افراد کی سرمایہ کاری سے وابستہ موسمیاتی قرض کا تخمینہ 992 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا، جبکہ کھپت کی بنیاد پر ان سے منسوب موسمیاتی قرض 405 ارب ڈالر تھا۔

یہ نتائج موسمیاتی پالیسی کے روایتی طریقوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ موسمیاتی ذمہ داری کا تعین صرف اس بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا کہ لوگ کیا استعمال کرتے ہیں۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ان کی ملکیت میں کیا ہے، وہ کہاں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ان کی دولت کن معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے اور کن سرگرمیوں سے انہیں منافع حاصل ہوتا ہے۔

اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے زیادہ دولت رکھنے والے افراد اور آلودگی پھیلانے والی بڑی کمپنیوں پر ٹیکس عائد کرنے کو مرکزی اہمیت دینا ہوگی۔ ٹیکس نظام میں اس اصول پر مؤثر عمل درآمد ضروری ہے کہ آلودگی پھیلانے والا اس کی قیمت ادا کرے۔

اس کا مطلب ہے کہ صرف آمدن نہیں بلکہ دولت اور سرمائے کی ملکیت کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ جو لوگ اپنی سرمایہ کاری سے سب سے زیادہ منافع کماتے ہیں، انہیں اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں ہونے والے موسمیاتی نقصانات کے ازالے میں بھی زیادہ حصہ ڈالنا چاہیے۔

یہ عمل بین الاقوامی ٹیکس تعاون کے لیے اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔

منصفانہ عالمی ٹیکس قوانین، لوگوں اور ماحول کا تحفظ

منصفانہ ٹیکس نظام کی ضرورت ہے، جو نقصان پہنچانے اور اس سے منافع کمانے والوں پر زیادہ بوجھ ڈالے، نہ کہ عام لوگوں پر کھپت کے ٹیکسوں کے ذریعے مالی دباؤ بڑھائے۔

اسی طرح عوامی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھے اور متاثرہ آبادیوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد ملے۔ قرضوں اور کفایت شعاری کی پالیسیوں کے باعث ایسی سرمایہ کاری کو کمزور نہیں ہونا چاہیے۔

اس کے ساتھ ایسے بین الاقوامی ٹیکس قوانین بھی ضروری ہیں جو ٹیکس سے بچنے کے نقصان دہ طریقوں کی روک تھام کریں۔ ان طریقوں کے باعث ممالک اربوں ڈالر کی ممکنہ سرکاری آمدن سے محروم ہو جاتے ہیں۔ نئے قوانین کے ذریعے ممالک کو کثیرالقومی کمپنیوں کا احتساب کرنے اور ضروری مالی وسائل جمع کرنے کا اختیار بھی ملنا چاہیے۔

اسی لیے اقوام متحدہ میں ایک مضبوط اور جامع عالمی ٹیکس معاہدے کے لیے جاری مذاکرات اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ عمل بین الاقوامی ٹیکس تعاون کے لیے اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کا یہ عمل ایک ایسا عالمی فریم ورک تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو طے کرے گا کہ ٹیکس وصول کرنے کے حقوق مختلف ممالک میں کس طرح تقسیم ہوں گے، سرحد پار ٹیکس کے معاملات کیسے حل کیے جائیں گے اور بین الاقوامی ٹیکس تعاون کس طرح کام کرے گا۔

یہ عالمی ٹیکس قوانین کو منصفانہ بنانے کا ایک تاریخی موقع ہے۔ اس سے تمام ممالک کو برابری کی بنیاد پر فائدہ پہنچانے اور آلودگی پھیلانے والے دولت مند طبقوں پر ٹیکس عائد کرکے عوامی وسائل جمع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

بالآخر یہ فریم ورک حکومتوں کو موسمیاتی نقصان کے ذمہ دار امیر ترین طبقوں سے اس نقصان کی قیمت وصول کرنے کا اختیار دے سکتا ہے۔ اس طرح کھربوں ڈالر کے وسائل متحرک کیے جا سکتے ہیں۔ یہ وسائل منصفانہ توانائی منتقلی، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، متاثرہ اور کمزور آبادیوں کے لیے موسمیاتی خطرات برداشت کرنے کے قابل بنیادی ڈھانچے اور ضروری عوامی خدمات پر خرچ کیے جا سکتے ہیں۔

یہ مباحث الگ تھلگ نہیں ہو سکتے۔ انہیں بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اجلاسوں میں براہِ راست زیرِ بحث لانا ضروری ہے۔ ناقدین کے مطابق، یہ دونوں ادارے اس وقت ایسے حلوں کو فروغ دے رہے ہیں جو مسائل کی بنیادی وجوہات دور کرنے میں ناکام ہیں۔

آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے حکومتوں کو اپنی ٹیکس پالیسیوں میں ایسی اصلاحات کرنے کی آزادی ملنی چاہیے جن کا فائدہ صرف دولت مند اقلیت کے بجائے اکثریتی آبادی کو پہنچے۔

موسمیاتی انصاف اور انسانوں سمیت کرۂ ارض کے محفوظ مستقبل کا حصول اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب عالمی مالیاتی نظام کو زیادہ منصفانہ بنایا جائے اور موسمیاتی بحران کی اصل قیمت اس کے ذمہ داروں سے وصول کی جائے۔

admin

Recent Posts

ٹیکسٹائل کے کاروباروں کے لیے گرین فنانس ٹول کٹ متعارف کرا دی گئی

ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی…

19 hours ago

خلائی ٹیکنالوجی سے آفات کی پیشگی اطلاع، اسلام آباد میں عالمی کانفرنس

آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…

23 hours ago

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، عالمی وعدوں پر اعتماد کا امتحان

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…

3 days ago

سیاہ فام ووٹرز کی دوہری جنگ، مہنگائی اور ماحولیاتی خطرات

سیاہ فام ووٹرز کے لیے بجلی کے بلوں میں کمی، صاف پانی اور آلودگی سے…

3 days ago

تھرپارکر میں خشک سالی کا بحران، گھر بار چھوڑنے پر مجبور لوگ

تھرپارکر میں خشک سالی، فصلیں متاثر، قدرتی چارہ ختم، 80 لاکھ سے زائد مویشیوں کے…

4 days ago

گھانا سے ایمازون تک سونے کی دوڑ، جنگلات خطرے میں

گھانا سے ایمازون تک سونے کی قیمتوں میں 120 فیصد اضافہ، غیر قانونی کان کنی…

4 days ago

This website uses cookies.