Environmental Reports

موسمیاتی تبدیلی میں انسانی کردار کے ناقابلِ تردید شواہد

موسمیاتی تبدیلی میں انسانی اثرات کے شواہد مزید مضبوط، نئی تحقیق میں گرین ہاؤس گیسوں اور عالمی حدت کا تعلق واضح

نورویچ، برطانیہ: سائنس دانوں نے کہا ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے باعث عالمی حدت میں اضافے کے سائنسی شواہد پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں۔ ایک نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق، تین دہائیوں سے زائد عرصے کی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج زمین کے پورے موسمیاتی نظام میں تبدیلیوں کا سبب بن رہا ہے۔

یہ تحقیق امریکی حکومت کی اس رپورٹ کے برعکس ہے جس میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق سائنسی شواہد پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

تحقیق کے مطابق، موسمیاتی تبدیلیوں کے مخصوص نشانات، جنہیں سائنسی اصطلاح میں ’فنگر پرنٹس‘ کہا جاتا ہے، کے مطالعے سے ایسے مضبوط شواہد سامنے آئے ہیں جو انسانی سرگرمیوں اور زمین کے موسمیاتی نظام میں تبدیلیوں کے درمیان تعلق واضح کرتے ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ امریکی ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) کی جانب سے 2009 میں جاری کردہ تاریخی فیصلے کی سائنسی بنیاد اس وقت بھی مضبوط تھی۔ اس فیصلے میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو انسانی صحت کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔ گزشتہ 17 برس کے دوران ہونے والی سائنسی پیش رفت نے اس بنیاد کو مزید مضبوط کیا ہے۔

یہ تحقیقی جائزہ پیر، 12 اکتوبر کو سائنسی جریدے ’ارتھز فیوچر‘ میں شائع ہوا۔ اس کی قیادت یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا کے پروفیسر بینجمن سانٹر نے کی۔

تحقیق میں موسمیاتی تبدیلیوں کے فنگر پرنٹس سے متعلق مطالعات کی تاریخ کا جائزہ لیا گیا۔ اس طریقے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے انداز اور ان کے وقوع پذیر ہونے کے وقت کا تجزیہ کرکے انسانی سرگرمیوں اور قدرتی عوامل کے اثرات میں فرق کیا جاتا ہے۔

یہ جائزہ امریکی محکمہ توانائی کی جولائی 2025 کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔ سائنس دانوں نے اس رپورٹ کو ’سنگین خامیوں پر مبنی‘ قرار دیا ہے۔

امریکی حکومتی رپورٹ پر سائنس دانوں کے تحفظات

یہ جائزہ امریکی محکمہ توانائی کی جولائی 2025 کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔ سائنس دانوں نے اس رپورٹ کو ’سنگین خامیوں پر مبنی‘ قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے فنگر پرنٹس کی تحقیق کی ساکھ اور گرین ہاؤس گیسوں کو انسانی صحت کے لیے خطرہ قرار دینے کے فیصلے کی سائنسی بنیاد پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

محققین کے مطابق، امریکی محکمہ توانائی کی رپورٹ 2009 میں دستیاب سائنسی شواہد کی اہمیت اور اس کے بعد ہونے والی نمایاں سائنسی پیش رفت کی درست عکاسی نہیں کرتی۔

گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو خطرہ قرار دینے والے فیصلے کو واپس لینے کی کوششوں نے انسانی صحت اور اخراج میں کمی کے اقدامات پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات پیدا کیے ہیں۔ سائنس دانوں کو یہ تشویش بھی ہے کہ اس فیصلے کی منسوخی سے امریکا میں دیگر ماحولیاتی ضوابط ختم کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

محققین نے نشاندہی کی کہ موسمیاتی تحقیق میں پیش رفت کے ساتھ عالمی حدت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

زمین کے پورے موسمیاتی نظام میں انسانی اثرات

پروفیسر بینجمن سانٹر اور ان کے ساتھی محققین کا تعلق یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا، میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی)، کولوراڈو اسٹیٹ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے فنگر پرنٹس کی شناخت کے طریقے اب اس مقام تک پہنچ چکے ہیں جہاں زمین کے پورے موسمیاتی نظام میں انسانی سرگرمیوں کے اثرات کی نشاندہی ممکن ہے۔ یہ اثرات قدرتی ماحول اور انسانی معاشروں کی ترقی اور بقا کی صلاحیت کو بھی تیزی سے متاثر کر رہے ہیں۔

محققین نے نشاندہی کی کہ موسمیاتی تحقیق میں پیش رفت کے ساتھ عالمی حدت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 2009 کے بعد کا عرصہ آلات کے ذریعے ریکارڈ کیے گئے زمینی درجۂ حرارت کے اعداد و شمار میں دنیا کے 10 گرم ترین سالوں پر مشتمل ہے۔

اس صورتِ حال نے قدرتی موسمیاتی اتار چڑھاؤ کے مقابلے میں انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی حدت کے شواہد کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

پروفیسر بینجمن سانٹر نے کہا کہ 2009 کے فیصلے کے بعد شائع ہونے والی موسمیاتی تحقیق پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اور اس کے شواہد ناقابلِ تردید ہیں۔

ان کے مطابق، انسانی سرگرمیوں اور مشاہدہ کی گئی موسمیاتی تبدیلیوں کے درمیان تعلق واضح کرنے والے بڑھتے ہوئے شواہد اس ضرورت کو تقویت دیتے ہیں کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو محدود کرنے اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر پالیسیاں اختیار کی جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اسباب کا سائنسی تعین کرنے والی تحقیق بھی خطرے سے دوچار ہے۔ یہ تحقیق ان حلقوں کے لیے ناگوار ہے جو فوسل فیول پر زیادہ انحصار کرنے والے مستقبل کے حامی ہیں، کیونکہ یہ فوسل فیول جلانے اور انسانی صحت، کرۂ ارض، معاشرتی نظام اور معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کے درمیان تعلق واضح کرتی ہے۔

محققین کے مطابق، فنگر پرنٹ اسٹڈیز گرین ہاؤس گیسوں کے انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والے اضافے اور ان خطرات کے درمیان براہِ راست تعلق واضح کرتی ہیں۔

تین دہائیوں کی تحقیق اور تاریخی سائنسی نتیجہ

پروفیسر سانٹر گزشتہ 30 برس سے زائد عرصے سے دنیا بھر کے سائنس دانوں کے ساتھ مل کر موسمیاتی نظام کے مختلف پہلوؤں میں انسانی سرگرمیوں کے اثرات کی شناخت پر کام کر رہے ہیں۔

ان کی ابتدائی تحقیق نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کے 1995 کے تاریخی نتیجے میں بھی کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت پینل نے قرار دیا تھا کہ شواہد کا مجموعی جائزہ عالمی آب و ہوا پر انسانی سرگرمیوں کے قابلِ شناخت اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔

نئے تحقیقی جائزے میں سالانہ، دہائیوں پر محیط اور موسمیاتی تبدیلیوں کے موسمیاتی فنگر پرنٹس سے متعلق مطالعات پر توجہ دی گئی۔ اس کے علاوہ، انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید موسمی واقعات کی خصوصیات کے درمیان تعلق سے متعلق وسیع سائنسی شواہد کا بھی جائزہ لیا گیا۔

شدید موسمی واقعات گرمی کے دباؤ، سیلاب، جنگلات میں آتش زدگی اور فصلوں کو نقصان پہنچنے جیسے اثرات کے ذریعے انسانی صحت، فلاح و بہبود اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔

محققین کے مطابق، فنگر پرنٹ اسٹڈیز گرین ہاؤس گیسوں کے انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والے اضافے اور ان خطرات کے درمیان براہِ راست تعلق واضح کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نہرِ خیام: ماحول کا تحفظ یا کاروبار کا فروغ؟

موسمیاتی تحریک میں پھوٹ، امریکی توانائی بل متنازع

عالمی حدت کے اثرات، فضا سے سمندروں کی گہرائیوں تک

میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی پروفیسر سوزن سولومن نے کہا کہ دنیا بھر کے مختلف تحقیقی اداروں کی جانب سے کی جانے والی سخت سائنسی جانچ پر مبنی مطالعات نے انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کی حقیقت اور سنگینی پر اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

ان کے مطابق، ان مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین کے موسمیاتی نظام کے متعدد ایسے پہلو، جن کی آزادانہ طور پر نگرانی کی جاتی ہے، عالمی حدت کے باعث سائنسی طور پر متوقع انداز میں تبدیل ہوئے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے اثرات کرۂ ہوائی کی بالائی تہوں سے لے کر دنیا کے سمندروں کی گہرائیوں تک دیکھے جا سکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ایڈنبرا کی ڈاکٹر گیبی ہیگرل نے کہا کہ ایسے طریقے بھی تیار کیے گئے ہیں جن کی مدد سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں نے شدید موسمی واقعات کی تعداد اور شدت کو کس طرح تبدیل کیا ہے۔ ان طریقوں سے یہ بھی جانچا جا سکتا ہے کہ آج پیش آنے والا کوئی موسمی واقعہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے باعث کس حد تک تبدیل ہوا ہے۔

اس تحقیق کا عنوان ’موسمیاتی تبدیلی پر انسانی اثرات کے فنگر پرنٹ شواہد: 2009 کے فیصلے کے بعد پیش رفت‘ ہے۔ اس کے مصنفین میں بینجمن ڈی سانٹر، سوزن سولومن، ڈیوڈ ڈبلیو جے تھامپسن، چیانگ فو اور گیبریل سی ہیگرل شامل ہیں۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے ’ارتھز فیوچر‘ میں شائع ہوئی ہے، جو زمین اور اس کے باشندوں کی صورتِ حال، پائیدار اور موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کے قابل معاشروں، دورِ انسان (اینتھروپوسین) کی سائنس اور مشترکہ مستقبل کی پیش گوئیوں سے متعلق تحقیق شائع کرتا ہے۔

admin

Recent Posts

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، عالمی وعدوں پر اعتماد کا امتحان

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…

2 days ago

سیاہ فام ووٹرز کی دوہری جنگ، مہنگائی اور ماحولیاتی خطرات

سیاہ فام ووٹرز کے لیے بجلی کے بلوں میں کمی، صاف پانی اور آلودگی سے…

2 days ago

تھرپارکر میں خشک سالی کا بحران، گھر بار چھوڑنے پر مجبور لوگ

تھرپارکر میں خشک سالی، فصلیں متاثر، قدرتی چارہ ختم، 80 لاکھ سے زائد مویشیوں کے…

3 days ago

گھانا سے ایمازون تک سونے کی دوڑ، جنگلات خطرے میں

گھانا سے ایمازون تک سونے کی قیمتوں میں 120 فیصد اضافہ، غیر قانونی کان کنی…

3 days ago

پاکستان میں بھوک کا بحران: خالی پیٹ، کمزور بچے اور بڑھتے موسمیاتی خطرات

پاکستان میں بھوک کا بحران، گلوبل ہنگر ایڈیکس 2026 میں 122 ممالک میں 106ویں نمبر…

4 days ago

سندھ کا پہلا انجینئرڈ لینڈ فل منصوبہ شروع

سندھ کا پہلا انجینئرڈ لینڈ فل شروع، ماحولیاتی تحفظ کے لیے 105 ملین ڈالر، 4…

5 days ago

This website uses cookies.