Environmental Reports

فرانس میں ہیٹ ویو کا قہر

فرانس میں ہیٹ ویو شدت اختیار کر گیا، 90 فیصد آبادی شدید گرمی کی لپیٹ میں، ماہرین نے موسمیاتی خطرات سے خبردار کر دیا۔

فرانس میں 17 جون سے جاری شدید ہیٹ ویو نے ریکارڈ توڑ درجہ حرارت، 800 سے زائد اسکولوں کی بندش اور پیرس ریجن میں چلنے والی 10 فیصد ٹرینوں کی منسوخی کا سبب بن گیا ہے۔

فرانسیسی محکمہ موسمیات “میٹیو فرانس” کے مطابق گرمی کی شدت “غیر معمولی” ہے۔ اس کا موازنہ اگست 2003 کی ہیٹ ویو سے کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں 15 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس کا مطلب ہے کہ تقریباً 90 فیصد آبادی شدید اور غیر معمولی گرمی کا سامنا کر رہی ہے۔

90 فیصد آبادی شدید گرمی کی لپیٹ میں

میٹیو فرانس نے منگل کو ملک کے 96 میں سے 54 مرکزی محکموں میں ریڈ الرٹ جاری کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً 90 فیصد آبادی شدید اور غیر معمولی گرمی کا سامنا کر رہی ہے۔

یہ صورتحال فرانس کی تاریخ میں پہلی بار سامنے آئی ہے۔ اس سے ایک روز قبل ملک بھر میں درجہ حرارت 36 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ریکارڈ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یورپ میں موسمیاتی تبدیلی کا ایک بڑا اثر شدید موسمی واقعات کی شدت اور تعداد میں اضافہ ہے۔

ماہرین کی پیش گوئیاں درست ثابت ہونے لگیں

اقوام متحدہ کے بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (آئی پی سی سی) کی چھٹی رپورٹ کے شریک مصنف اور محقق فرانسوا ژیمنے کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ہرگز حیران کن نہیں۔

ان کے مطابق سائنس دان گزشتہ کئی دہائیوں سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے خبردار کرتے آ رہے ہیں۔ اس ہفتے دیکھے جانے والے درجہ حرارت مستقبل میں معمول بن جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یورپ میں موسمیاتی تبدیلی کا ایک بڑا اثر شدید موسمی واقعات کی شدت اور تعداد میں اضافہ ہے۔ اس کے نتیجے میں ہیٹ ویوز زیادہ بار اور زیادہ طویل دورانیے کے ساتھ آئیں گی۔

ان کے بقول یہ بالکل وہی منظرنامہ ہے جس کی پیش گوئی برسوں پہلے کی جا چکی تھی۔

فرانسوا ژیمنے نے کہا کہ درجہ حرارت میں اضافے کا عمل عوامی قرض کی طرح مسلسل بڑھنے والا ہے۔

درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہوگا

فرانسوا ژیمنے نے کہا کہ درجہ حرارت میں اضافے کا عمل عوامی قرض کی طرح مسلسل بڑھنے والا ہے۔

اگر کاربن اخراج فضا میں جمع ہوتا رہے گا تو درجہ حرارت بھی بڑھتا رہے گا اور نئے ریکارڈ بنتے رہیں گے۔

ان کے مطابق موجودہ درجہ حرارت مستقبل میں معمول سمجھا جائے گا۔ 2028، 2030، 2040 اور 2050 کے مقابلے میں آج کی گرمی نسبتاً کم محسوس ہوگی۔

اسکولوں اور سرکاری عمارتوں کی بہتری ناگزیر

انہوں نے زور دیا کہ سرکاری عمارتوں اور اسکولوں کی ازسرنو تعمیر اور بہتری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

ان کے مطابق عمارتوں کی خستہ حالت اب واضح ہو چکی ہے۔ حکومت نے 2019 میں توانائی کے مؤثر استعمال کے لیے عمارتوں کی مرمت کا منصوبہ شروع کیا تھا، تاہم بعد میں اسے ترک کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ عمارتوں کی بہتری نہ صرف عوامی صحت کے لیے ضروری ہے بلکہ طلبہ کی توجہ اور تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

فرانسوا ژیمنے کے مطابق شدید گرمی سے سب سے زیادہ متاثر وہ افراد ہوتے ہیں جو عمارتوں کی بالائی منزلوں پر چھوٹے اپارٹمنٹس میں رہتے ہیں۔

شدید گرمی سے سب سے زیادہ کون متاثر ہوتا ہے؟

فرانسوا ژیمنے کے مطابق شدید گرمی سے سب سے زیادہ متاثر وہ افراد ہوتے ہیں جو عمارتوں کی بالائی منزلوں پر چھوٹے اپارٹمنٹس میں رہتے ہیں۔

ایسے مقامات پر اموات کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ان افراد کے لیے جمنازیم اور دیگر سرکاری مقامات پر کولنگ سینٹرز قائم کیے جائیں۔

ایئر کنڈیشننگ پر نئی بحث کی ضرورت

فرانسوا ژیمنے نے کہا کہ ایئر کنڈیشننگ کے حوالے سے جاری بحث کو نئے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق ماضی میں استعمال ہونے والی ماحول دشمن ریفریجرینٹ گیسیں اب یورپی یونین میں ممنوع قرار دی جا چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فرانس میں بجلی کا بیشتر حصہ کم کاربن ذرائع سے حاصل ہوتا ہے، اس لیے اب ایئر کنڈیشنرز کے موسمیاتی اثرات محدود رہ گئے ہیں۔

اگرچہ ایئر کنڈیشنرز شہروں میں مقامی سطح پر حرارت میں اضافہ کرتے ہیں، تاہم چونکہ لوگ زیادہ وقت عمارتوں کے اندر گزارتے ہیں، اس لیے صحت عامہ کے لحاظ سے ان کے فوائد زیادہ ہیں۔

ان کے مطابق بعض رہائشی یونٹس میں ایئر کنڈیشننگ جانیں بچانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

اجتماعی اقدامات کی ضرورت

انہوں نے کہا کہ ایئر کنڈیشننگ ایک معاشی مسئلہ بھی ہے کیونکہ اس تک رسائی سب کے لیے یکساں نہیں۔

اسی لیے شہروں کو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھالنے، سبز مقامات بڑھانے اور شہری منصوبہ بندی بہتر بنانے جیسے اجتماعی اقدامات ضروری ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی اور سیاسی چیلنجز

فرانسوا ژیمنے کے مطابق بعض حلقے سمجھتے ہیں کہ اگر لوگ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے کم متاثر ہوں گے تو کاربن اخراج میں کمی کی کوششیں کمزور پڑ جائیں گی، لیکن تحقیق اس تصور کی تائید نہیں کرتی۔

ان کے بقول موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کرنا ضروری نہیں کہ لوگوں کو ماحول دوست اقدامات پر آمادہ بھی کر دے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے ووٹر اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اگر چین یا امریکا مؤثر اقدامات نہیں کرتے تو کسی ایک ملک کی کوششوں کا کوئی فائدہ نہیں، حالانکہ یہ تصور درست نہیں۔

خصوصاً موسمیاتی موافقت کے اقدامات دوسروں کے فیصلوں سے قطع نظر ضروری اور فائدہ مند ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ صدارتی انتخابات میں امیدواروں کو موسمیاتی موافقت کے حوالے سے واضح منصوبے پیش کرنے چاہئیں، تاہم خدشہ ہے کہ امیگریشن کا موضوع دیگر تمام مسائل پر غالب آ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان انرجی سیکیورٹی چارٹر، صاف اور مقامی توانائی کی جانب اہم قدم

موسمیاتی تبدیلی کو قومی منصوبہ بندی کا محور بنانے کی تجویز

حکومتوں کے بجائے معاشرہ تبدیلی کی قیادت کرے گا

فرانسوا ژیمنے کا کہنا تھا کہ شاید ایک غلطی یہ بھی ہوئی کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے حکومتوں پر بہت زیادہ انحصار کیا گیا۔

ان کے مطابق مستقبل میں اس تبدیلی کی قیادت نجی شعبہ، سول سوسائٹی اور مقامی حکومتیں زیادہ مؤثر انداز میں کر سکتی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ہیٹ ویو کے دوران چند دن موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو ضرور ہوتی ہے، لیکن درجہ حرارت کم ہوتے ہی یہ مسئلہ دوبارہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ پھر جب اگلی ہیٹ ویو آتی ہے تو ایک بار پھر یہی کہا جاتا ہے کہ ہم اس کے لیے تیار نہیں تھے۔

admin

Recent Posts

کراچی کو موسمیاتی آفات سے بچانے کے لیے درست ڈیٹا ضروری، محمد توحید

کراچی کو موسمیاتی آفات سے محفوظ بنانے کے لیے مقامی اختیارات، درست ڈیٹا اور مؤثر…

16 hours ago

پانچواں کراچی کلائیمٹ فیسٹیول: گورنر سندھ کا بڑا بیان

پانچواں کراچی کلائمیٹ فیسٹیول میں گورنر سندھ نے عوام سے درخت لگانے، ماحول کو آلودگی…

2 days ago

پاکستان انرجی سیکیورٹی چارٹر، صاف اور مقامی توانائی کی جانب اہم قدم

پاکستان انرجی سیکیورٹی چارٹر، صاف، مقامی اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، بیٹری اسٹوریج، الیکٹرک…

4 days ago

موسمیاتی تبدیلی کو قومی منصوبہ بندی کا محور بنانے کی تجویز

موسمیاتی تبدیلی پر پارلیمانی مشاورت، ماہرین اور ارکانِ پارلیمنٹ کا حکومت سے فوری اور مؤثر…

5 days ago

کراچی کولنگ پلان: شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے عملی قدم

کراچی کولنگ پلان کے تحت کولنگ سینٹرز، شہری ہریالی، ہیٹ الرٹس اور اسپتالوں کی تیاری…

5 days ago

سمندری نگرانی منصوبہ بچ گیا، ٹرمپ انتظامیہ پیچھے ہٹ گئی

سمندری نگرانی منصوبے کی بندش روک دی گئی، قومی سائنس فاؤنڈیشن ماہرین سے مشاورت کے…

6 days ago

This website uses cookies.