فروزاں رپورٹ
ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس میں دونوں جماعتوں کی جانب سے شدید ردِعمل کے بعد دنیا کے سمندروں کی صحت سے متعلق اہم معلومات فراہم کرنے والے ایک بڑے سمندری نگرانی نظام کو ختم کرنے کے اپنے متنازع فیصلے سے یوٹرن لے لیا ہے۔
“سمندری مشاہداتی اقدام” کا قیام 2016 میں عمل میں آیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت بحرالکاہل اور بحرِ اوقیانوس کے مختلف حصوں میں تقریباً 900 آلات نصب کیے گئے تھے۔
یہ آلات سمندر کی گہرائیوں میں شدید دباؤ اور نمکیات کے اثرات برداشت کرنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کیے گئے ہیں۔
مئی کے آخر میں قومی سائنس فاؤنڈیشن، جو 386 ملین ڈالر مالیت کے اس گہرے سمندری نظام کی مالی معاونت کرتی ہے، نے اعلان کیا تھا کہ وہ الاسکا، واشنگٹن، اوریگن، شمالی کیرولائنا اور گرین لینڈ کے ساحلوں کے قریب نصب تیرتے ہوئے اور زیرِ آب آلات کو ہٹا دے گی۔
ادارے نے اس اقدام کو نگرانی کے نظام کے دائرۂ کار میں کمی قرار دیا تھا۔
تاہم جمعرات کو قومی سائنس فاؤنڈیشن نے اعلان کیا کہ منصوبے میں کمی کے اقدامات روک دیے گئے ہیں۔ ادارہ ماہرین پر مشتمل ایک مشاورتی پینل بھی تشکیل دے گا تاکہ اس منصوبے کے لیے ایک پائیدار راستہ تلاش کیا جا سکے۔
اوریگن اور واشنگٹن کے ساحلوں کے قریب ایک تنصیب پہلے ہی ہٹائی جا چکی ہے، تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ ان آلات کو دوبارہ نصب کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
فاؤنڈیشن نے واضح کیا کہ باقی مقامات سے مزید آلات ہٹانے یا نگرانی کے نظام کو محدود کرنے کا عمل آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔
قومی سائنس فاؤنڈیشن کا یہ فیصلہ شدید تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔ ماہرین کو خدشہ تھا کہ امریکا ایسے وقت میں سمندروں کی نگرانی سے پیچھے ہٹ رہا ہے جب سمندری ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔
غیر معمولی حد تک بڑھتے درجہ حرارت تباہ کن طوفانوں کو جنم دے رہے ہیں، ماہی گیری کے شعبے کو خطرات لاحق ہیں جبکہ بحرِ اوقیانوس کی اہم سمندری روؤں کے نظام کے ممکنہ انہدام کے خدشات بھی موجود ہیں۔
سمندری سائنس دانوں نے، جن سے میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے گفتگو کی گئی تھی، اس نگرانی نظام کو ختم کرنے کے فیصلے کو “احمقانہ” اور “حقائق کے منافی” قرار دیا تھا۔
حکمران اور حزبِ اختلاف دونوں جماعتوں کے قانون سازوں نے بھی اس فیصلے پر اعتراضات اٹھائے۔
اوریگن سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جیف مرکلی نے کہا کہ “سمندری مشاہداتی اقدام کو ختم کرنا انتہائی غیر دانشمندانہ اقدام ہے، جو ٹیکس دہندگان کے لاکھوں ڈالر ضائع کرنے اور موسمیاتی معلومات کے ایک اہم ذریعے کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔”
بدھ کے روز سینیٹر جیف مرکلی اور الاسکا سے تعلق رکھنے والی سینیٹر لیزا مرکوسکی نے ایوانِ بالا میں ایک دو جماعتی قانون منظور کرایا۔
اس قانون کے تحت قومی سائنس فاؤنڈیشن کو ہدایت دی گئی کہ سائنس دانوں اور ساحلی آبادیوں سے مشاورت اور مکمل جائزے تک اس نظام کو ختم کرنے کے لیے وفاقی فنڈز استعمال نہ کیے جائیں۔
جمعرات کے اعلان کے بعد سینیٹر لیزا مرکوسکی نے اس فیصلے کو ملک بھر کی ساحلی آبادیوں اور ماہی گیروں کے لیے بڑی کامیابی قرار دیا۔
دوسری جانب امریکی ایوانِ نمائندگان کی سائنس کمیٹی کی سینئر رکن زوئی لوفگرین نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ ادارہ پہلے ہی کتنا نقصان پہنچا چکا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا، “یہ صورتحال کبھی پیدا ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ یہ منصوبہ غیر قانونی تھا۔ قومی سائنس فاؤنڈیشن انتشار اور عجلت پر مبنی فیصلوں کے ذریعے ادارہ چلا رہی ہے۔ ان معلومات پر انحصار کرنے والے سائنس دان اور ساحلی معیشتیں اس سے بہتر رویے کی مستحق ہیں۔”
یہ بھی پڑھیں
گرین اسکلز بوٹ کیمپ: صحافیوں کی ماحولیاتی تربیت
برسلز کانفرنس: پانی کو ہتھیار بنانا ناقابلِ قبول، مصدق ملک
زوئی لوفگرین کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کی ٹیم قومی سائنس فاؤنڈیشن کے آئندہ اقدامات پر گہری نظر رکھیں گے۔
ان کے مطابق ادارے کو فوری طور پر ہٹائے گئے تمام آلات دوبارہ نصب کرنے اور ماہرین کی باضابطہ رائے حاصل ہونے تک نگرانی کے نظام میں کسی بھی قسم کی مزید کمی کا عمل روک دینا چاہیے۔
قومی سائنس فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ سمندری سائنس، تحقیقی بنیادی ڈھانچے کے ذمہ دارانہ انتظام اور ان تمام فریقین کی معاونت کے لیے پُرعزم ہے جو اس نظام پر انحصار کرتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی پر پارلیمانی مشاورت، ماہرین اور ارکانِ پارلیمنٹ کا حکومت سے فوری اور مؤثر…
کراچی کولنگ پلان کے تحت کولنگ سینٹرز، شہری ہریالی، ہیٹ الرٹس اور اسپتالوں کی تیاری…
گرین اسکلز بوٹ کیمپ کے تحت صحافیوں کو ماحولیاتی صحافت، فیکٹ چیکنگ، کلائمیٹ فنانس اور…
برسلز کانفرنس میں وفاقی وزیر مصدق ملک کا واضح پیغام، پانی، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی…
موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرات کے پیشِ نظر نمائشی مہمات کے بجائے مؤثر اقدامات، عوامی…
مفاہمتی یادداشت کے تحت موسمیاتی تحقیق، سماجی تحفظ، تعلیمی تعاون اور پالیسی سازی کے شعبوں…
This website uses cookies.