تنویر احمد،بیورو چیف گلگت
دیامر/گلگت: گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے علاقے تھور میں آسمانی بجلی گرنے کے بعد ہونے والی شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
سیلاب کے نتیجے میں رہائشی مکانات، زرعی اراضی، رابطہ سڑکیں، مال مویشی اور قیمتی املاک متاثر ہوئیں، جبکہ متعدد دیہات کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہو گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق سیلابی ریلے تھور میک، تھور اینگر، تھور شیتن اور دیگر ملحقہ علاقوں میں داخل ہو گئے۔
ایک رہائشی مکان مکمل طور پر سیلاب کی نذر ہو گیا۔ سیلابی پانی ایک گاڑی، گھریلو سامان، مال مویشی، تقریباً 200 گرام سونا اور نقد رقم بھی بہا لے گیا۔
مقامی مسجد کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ کھڑی فصلیں تباہ ہونے سے کسانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
شدید سیلاب کے باعث مختلف رابطہ سڑکیں منقطع ہو گئیں، جس سے متاثرہ علاقوں تک رسائی دشوار ہو گئی۔ سڑکوں کی بندش کے باعث امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، ملبہ ہٹانے اور متاثرہ خاندانوں کی امداد میں مصروف ہیں۔
متاثرہ عوام نے حکومت گلگت بلتستان اور ضلعی انتظامیہ سے فوری امدادی کارروائیوں، متاثرہ سڑکوں کی بحالی، نقصانات کے ازالے اور متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ضلعی دفتر نے واقعے کے فوری بعد امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرین کے لیے خوراک، خیمے، ضروری اشیائے زندگی اور دیگر امدادی سامان روانہ کر دیا گیا ہے۔ بند سڑکوں کی بحالی کے لیے بھاری مشینری بھی متاثرہ علاقوں کی جانب بھیج دی گئی ہے تاکہ متاثرین تک بروقت رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔
ان کے مطابق آسمانی بجلی گرنے، کلاؤڈ برسٹ، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے جیسے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ رواں برس قدرتی آفات کے باعث سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق بروقت حفاظتی اقدامات اور مؤثر پیشگی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں
یومِ عاشورہ: گلگت میں گرین عاشورہ مہم، 500 پودے مفت تقسیم
بلوچستان میں درختوں کی کٹائی پر پابندی، 5 افسران معطل
واضح رہے کہ گلگت بلتستان دنیا کے بڑے گلیشیئرز کا مسکن ہونے کے باعث موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے خطوں میں شامل ہے۔
گزشتہ برس بھی ضلع دیامر کی وادی بابوسر میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلابی ریلوں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی تھی، جس میں سیاحوں سمیت دو درجن سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
پاکستان میں فضائی آلودگی سے سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار اموات، لاہور میں عمر سات…
نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ڈیٹا سینٹرز، مضر آلودہ گیسوں، زراعت اور تعلیم پر 14 نشستیں،…
برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں، 82 ہزار…
موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، امریکی پروفیسر کا منفرد اقدام، پڑوسیوں کو موسمیاتی بحران سے آگاہی…
ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی…
آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…
This website uses cookies.