Environmental Reports

دیامر میں آسمانی بجلی کے بعد تباہ کن سیلاب

دیامر کے علاقے تھور میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متعدد دیہات کا رابطہ منقطع، امدادی کارروائیاں جاری

دیامر/گلگت: گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے علاقے تھور میں آسمانی بجلی گرنے کے بعد ہونے والی شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

سیلاب کے نتیجے میں رہائشی مکانات، زرعی اراضی، رابطہ سڑکیں، مال مویشی اور قیمتی املاک متاثر ہوئیں، جبکہ متعدد دیہات کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہو گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق سیلابی ریلے تھور میک، تھور اینگر، تھور شیتن اور دیگر ملحقہ علاقوں میں داخل ہو گئے۔

سیلاب سے بڑے پیمانے پر نقصان

پولیس ذرائع کے مطابق سیلابی ریلے تھور میک، تھور اینگر، تھور شیتن اور دیگر ملحقہ علاقوں میں داخل ہو گئے۔

ایک رہائشی مکان مکمل طور پر سیلاب کی نذر ہو گیا۔ سیلابی پانی ایک گاڑی، گھریلو سامان، مال مویشی، تقریباً 200 گرام سونا اور نقد رقم بھی بہا لے گیا۔

مقامی مسجد کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ کھڑی فصلیں تباہ ہونے سے کسانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

شدید سیلاب کے باعث مختلف رابطہ سڑکیں منقطع ہو گئیں، جس سے متاثرہ علاقوں تک رسائی دشوار ہو گئی۔

رابطہ سڑکیں بند، امدادی سرگرمیوں میں مشکلات

شدید سیلاب کے باعث مختلف رابطہ سڑکیں منقطع ہو گئیں، جس سے متاثرہ علاقوں تک رسائی دشوار ہو گئی۔ سڑکوں کی بندش کے باعث امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، ملبہ ہٹانے اور متاثرہ خاندانوں کی امداد میں مصروف ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ رواں برس قدرتی آفات کے باعث سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

متاثرین کا حکومت سے مطالبہ

متاثرہ عوام نے حکومت گلگت بلتستان اور ضلعی انتظامیہ سے فوری امدادی کارروائیوں، متاثرہ سڑکوں کی بحالی، نقصانات کے ازالے اور متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا مطالبہ کیا ہے۔

امدادی کارروائیاں جاری

دوسری جانب گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ضلعی دفتر نے واقعے کے فوری بعد امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق متاثرین کے لیے خوراک، خیمے، ضروری اشیائے زندگی اور دیگر امدادی سامان روانہ کر دیا گیا ہے۔ بند سڑکوں کی بحالی کے لیے بھاری مشینری بھی متاثرہ علاقوں کی جانب بھیج دی گئی ہے تاکہ متاثرین تک بروقت رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

ماہرین کی موسمیاتی تبدیلیوں پر تشویش

ماہرین کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔

ان کے مطابق آسمانی بجلی گرنے، کلاؤڈ برسٹ، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے جیسے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ رواں برس قدرتی آفات کے باعث سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق بروقت حفاظتی اقدامات اور مؤثر پیشگی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں

یومِ عاشورہ: گلگت میں گرین عاشورہ مہم، 500 پودے مفت تقسیم

بلوچستان میں درختوں کی کٹائی پر پابندی، 5 افسران معطل

ماضی میں بھی تباہ کن سیلاب

واضح رہے کہ گلگت بلتستان دنیا کے بڑے گلیشیئرز کا مسکن ہونے کے باعث موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے خطوں میں شامل ہے۔

گزشتہ برس بھی ضلع دیامر کی وادی بابوسر میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلابی ریلوں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی تھی، جس میں سیاحوں سمیت دو درجن سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

20 hours ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

This website uses cookies.