موسمیاتی تبدیلی، مختصر سردیاں، خشک چشمے اور لکڑی پر بڑھتا انحصار زراعت اور صدیوں پرانی کالاش ثقافت کو دباؤ میں لے آیا۔
فروزں رپورٹ
چترال: خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر چترال کی خوبصورت کالاش وادی اپنی منفرد تہذیب، قدیم روایات، قدرتی حسن اور ثقافتی ورثے کے لیے مشہور ہے۔
تاہم موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی کٹائی، بے قاعدہ بارشوں، اچانک سیلاب، پانی کی قلت اور زرعی پیداوار میں کمی نے مقامی آبادی کے لیے نئے ماحولیاتی اور معاشی مسائل پیدا کر دیے ہیں۔
بمبوریت، رمبور اور بریر کی وادیوں کے رہائشیوں کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران موسم کے انداز میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
سردیوں میں برف باری کا دورانیہ کم اور مقدار محدود ہوگئی ہے۔ گرمیاں زیادہ گرم ہوگئی ہیں۔ بارشیں غیر یقینی ہوگئی ہیں جبکہ اچانک آنے والے سیلاب بھی زیادہ تواتر سے آنے لگے ہیں۔
ان تبدیلیوں سے زرعی زمین اور فصلوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ سڑکیں، مکانات، آبپاشی کے نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور سیلاب کا بڑھتا خطرہ
کالاش وادی کے رہائشی اور سماجی کارکن ڈینیئل فیروز نے بتایا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران موسمیاتی تبدیلی کے اثرات زیادہ نمایاں ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق بار بار آنے والے سیلاب نے روزمرہ زندگی، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کو شدید متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اچانک آنے والے سیلاب زرعی زمین اور فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ کئی مقامات پر مکانات بھی متاثر ہوئے ہیں۔
وادی میں داخل ہونے والی مرکزی سڑک کے ساتھ اندرونی رابطہ سڑکیں بھی بار بار متاثر ہوتی ہیں۔ اس سے مقامی آبادی اور سیاحوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مسئلہ صرف سیلاب تک محدود نہیں۔ قدرتی آبی ذرائع بھی دباؤ کا شکار ہیں اور کئی چشموں میں پانی کا بہاؤ کم ہوگیا ہے۔

خشک ہوتے چشمے، متاثر ہوتی زراعت
کالاش وادی میں زراعت کا انحصار زیادہ تر چشموں اور بارش پر ہے۔
ڈینیئل فیروز کے مطابق کئی چشموں میں پانی کی سطح کم ہوگئی ہے جبکہ بعض مکمل طور پر خشک ہوچکے ہیں۔ وہ زمینیں جہاں پہلے باقاعدگی سے فصلیں اگائی جاتی تھیں، اب پانی کی کمی سے متاثر ہو رہی ہیں۔
مکئی اور گندم یہاں کی اہم فصلیں ہیں۔ تاہم پانی کی قلت اور غیر یقینی بارشوں کے باعث پیداوار کم ہورہی ہے۔
خاص طور پر گندم کے لیے بروقت بارش ضروری ہے۔ اہم مرحلے پر مناسب بارش نہ ہونے سے پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ اس کا براہ راست اثر گھریلو خوراک اور آمدنی پر پڑتا ہے۔

جنگلات پر بڑھتا دباؤ
کالاش آبادی کے لیے جنگلات پر انحصار بھی ایک بڑا ماحولیاتی مسئلہ بن چکا ہے۔
قدرتی گیس کی سہولت نہ ہونے کے باعث مقامی لوگ سال بھر کھانا پکانے، سردیوں میں گھروں کو گرم رکھنے اور دیگر گھریلو ضروریات کے لیے لکڑی استعمال کرتے ہیں۔
لکڑی روایتی گھروں، مویشیوں کے باڑوں اور دیگر تعمیرات میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
تعمیراتی لکڑی کے لیے بعض اوقات اجازت نامہ درکار ہوتا ہے۔ تاہم ایندھن کے طور پر لکڑی کی مسلسل طلب جنگلات پر دباؤ برقرار رکھتی ہے۔
مقامی صحافی سمیر کے مطابق چترال کے بعض علاقوں میں لکڑی پر انحصار ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔
تعمیرات اور گھریلو ایندھن دونوں لکڑی کی طلب میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض افراد مقررہ حد سے زیادہ لکڑی حاصل کرتے ہیں جبکہ ایندھن کے لیے لکڑی جمع کرنا بھی جنگلات پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے متبادل توانائی کے ذرائع فراہم کرنا جنگلات کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں
بلیو ٹنگ کا خطرہ، برطانیہ میں مویشیوں کی بدترین وبا
سفید دم عقاب 155 سال بعد پاکستان کی فضاؤں میں پہنچ گیا
بکریاں بھی جنگلات کے لیے دباؤ کا باعث
مویشی پالنا بھی جنگلات پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔
بڑی تعداد میں بکریاں جنگلات اور پہاڑی چراگاہوں میں لے جائی جاتی ہیں، جہاں وہ نئی کونپلیں اور پودے کھا جاتی ہیں۔ اس سے جنگلات کی قدرتی افزائش متاثر ہوتی ہے۔
ڈینیئل فیروز کے مطابق ایک طرف بڑے درخت مسلسل کاٹے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب نئے پودوں کو نشوونما کا موقع نہیں مل رہا۔
وقت کے ساتھ اس صورت حال سے جنگلات کا رقبہ اور کثافت دونوں کم ہوسکتے ہیں۔
تاہم بکریاں کالاش معاشرے اور ثقافت کا اہم حصہ ہیں۔ سماجی اور مذہبی رسومات، خصوصاً تدفین اور سوگ کی تقریبات میں ان کا اہم کردار ہے، جہاں بڑی تعداد میں بکریاں ذبح کی جاتی ہیں۔

برف باری کے انداز میں تبدیلی
ڈینیئل فیروز کے مطابق سردیوں کی برف باری کے انداز میں بھی تبدیلی آئی ہے۔
ماضی میں دسمبر، جنوری اور دیگر سرد مہینوں میں باقاعدگی سے برف باری ہوتی تھی۔ تاہم حالیہ برسوں میں اس کے وقت، مقدار اور تسلسل میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔
سردیوں میں کم برف باری، زیادہ گرم گرمیوں اور غیر متوقع بارشوں کے ساتھ مل کر مقامی زندگی کو مزید متاثر کر رہی ہے۔
پہاڑی علاقوں میں جنگلات مٹی کے کٹاؤ کو روکنے، قدرتی آبی نظام برقرار رکھنے اور پہاڑی ڈھلوانوں کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جنگلات میں کمی کے ساتھ شدید بارشیں اور کمزور ڈھلوانیں لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں میں ملبے کے بہاؤ اور اچانک سیلاب کی شدت میں اضافہ کرسکتی ہیں۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق مون سون کے دوران ندی نالوں میں بڑے پتھر اور ملبہ آنے سے سڑکیں اور آبپاشی کی نہریں متاثر ہوتی ہیں۔
فیروز کے مطابق محکمہ جنگلات کی موجودگی کے باوجود وسیع جنگلات کے مقابلے میں فیلڈ عملے اور جنگلات کے محافظوں کی تعداد کم ہے۔
مؤثر نگرانی، شفاف اجازت ناموں کا نظام اور مقامی سطح پر متبادل ایندھن کی فراہمی جنگلات پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
سماجی کارکن لوگ رحمت نے زور دیا کہ کالاش ثقافت کو اس کے قدرتی ماحول سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
روایات، مذہبی رسومات، زراعت، مویشی پالنا، پانی کے ذرائع اور جنگلات ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔

