موسمیاتی تبدیلی سے زرعی پیداوار میں کمی، پانی اور زمین کی مسابقت بڑھ سکتی ہے، جنوبی ایشیا اور ساحل میں سماجی کشیدگی کا خطرہ
فروزاں رپورٹ
جنوبی ایشیا سے ساحل خطے تک محققین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث زرعی پیداوار میں آنے والی تبدیلیاں زمین کی قیمتوں، پانی تک رسائی اور غذائی تحفظ کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس صورتحال سے تنازعات کے خطرات بڑھنے کا خدشہ ہے۔
موسمیاتی تبدیلی، فصلوں کی پیداوار میں کمی اور عالمی تجارتی نظام میں رکاوٹیں کمزور ممالک میں سماجی عدم استحکام اور مسلح تنازعات کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ ایک نئی تحقیق میں ایسے علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں زرعی پیداوار میں تبدیلی زمین، پانی اور دیگر وسائل کے حصول کے لیے مسابقت بڑھا سکتی ہے۔

زرعی پیداوار میں تبدیلی کا جائزہ
کلائمیٹ ڈرائیون ایگریکلچرل ڈیکلائن انڈیکس (سی اے ڈی آئی) ایسے علاقوں کی نشاندہی کرتا ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے باعث زراعت میں آنے والی تبدیلیاں وسائل پر دباؤ اور کشیدگی میں اضافہ کر سکتی ہیں۔
یہ انڈیکس ماہرِ معاشیات ہانس مولر اور ان کے ساتھی محققین نے تیار کیا ہے۔ ہانس مولر انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک اینالیسس اور بارسلونا اسکول آف اکنامکس سے وابستہ ہیں۔
مولر کے مطابق زرعی پیداوار میں سب سے زیادہ کمی گرم خطوں میں دیکھی جا رہی ہے۔
کمبوڈیا، بنگلہ دیش، برونڈی، نائجیریا، پیراگوئے اور ایل سلواڈور سمیت کئی ممالک پہلے ہی غذائی پیداوار میں کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ مولر نے شمالی افریقہ پر بھی زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

خشک سالی اور شدید موسم کا اثر
دنیا کے کئی حصوں میں خشک سالی اور شدید موسمی حالات فصلوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ال نینو کے دوبارہ فعال ہونے سے آئندہ سال لاکھوں افراد کے لیے غذائی قلت مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
جنگوں، تجارتی رکاوٹوں، برآمدی پابندیوں اور کھاد کی بڑھتی قیمتوں نے بھی غذائی عدم تحفظ میں اضافہ کیا ہے۔
یوکرین جنگ عالمی اناج منڈیوں کو بارہا متاثر کر چکی ہے۔ دوسری جانب ایران میں جنگ کے باعث آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال نے ایندھن اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق آئندہ 25 برسوں میں دنیا کی تقریباً نصف آبادی ایسے علاقوں میں رہ سکتی ہے جہاں زرعی زمین سے حاصل ہونے والی خوراک کی پیداوار کم ہو جائے گی۔

پیداوار میں اضافہ بھی کشیدگی بڑھا سکتا ہے
تاہم سی اے ڈی آئی تحقیق کے مطابق تشدد کے بڑھتے خطرات کا تعلق صرف زرعی پیداوار میں کمی سے نہیں ہے۔ زرعی پیداوار میں اضافہ بھی کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔
وہ زمین جو پہلے کم پیداواری تھی، مستقبل میں زیادہ قیمتی ہو سکتی ہے۔ اس سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ سکتی ہے اور زمین کی ملکیت اور وسائل تک رسائی کے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔
مولر نے سوڈان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ملک کی مجموعی غذائی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے۔ تاہم بعض علاقوں میں بیک وقت پیداوار میں کمی بھی ہو سکتی ہے۔
ایسی تبدیلیاں معاشرے میں نئے فائدہ اٹھانے والوں اور متاثر ہونے والوں کو جنم دے سکتی ہیں۔ اس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یورپ میں زرعی زمین کی نئی دوڑ
یورپ میں شراب کی پیداوار کے بڑے مراکز پہلے ہی پہاڑی علاقوں میں زمینیں خرید رہے ہیں۔ انہیں توقع ہے کہ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث یہ علاقے انگور کی کاشت کے لیے زیادہ موزوں ہو جائیں گے۔
جنوبی ایشیا اور ساحل خطہ زیادہ حساس
جرمن کونسل برائے خارجہ تعلقات کے ماہر عبداللہ فہیمی نے جنوبی ایشیا اور ساحل خطے کو خصوصی توجہ کا مستحق قرار دیا ہے۔
ان علاقوں کو موسمیاتی خطرات کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھتی آبادی کا بھی سامنا ہے۔
جنوبی ایشیا میں تقریباً 2 ارب افراد آباد ہیں۔ خطہ گندم، مکئی اور پام آئل کی درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔
یہاں کا زرعی شعبہ ہیٹ ویوز، سیلاب، زمین کی پیداواری صلاحیت میں کمی اور سمندر کی سطح بلند ہونے کے باعث کھارے پانی کے زمینوں میں داخل ہونے جیسے خطرات سے دوچار ہے۔
فہیمی کے مطابق ہمالیہ اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلے خطے میں زراعت اور پینے کے لیے درکار پانی کا بڑا حصہ فراہم کرتے ہیں۔
گلیشیئرز اور برف کے پگھلنے سے مختصر مدت میں پانی کی دستیابی بڑھ سکتی ہے۔ تاہم فہیمی کے مطابق اس صدی کے بعد کے حصے میں یہی تبدیلیاں ایک بڑے انسانی بحران کا خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔
نیپال میں تباہ کن سیلاب: موسمیاتی بحران یا ناانصافی؟
اے ٹوینٹی تھری اے: 40 سال بعد آئس برگ کا خاتمہ
مضبوط اداروں کی ضرورت
محققین نے واضح کیا کہ موسمیاتی اور غذائی بحران خود بخود تنازعات کو جنم نہیں دیتے۔
ایسے ادارے جو لوگوں کو زمین، پانی اور روزگار تک رسائی کے معاملات پر مذاکرات اور منصفانہ حل تلاش کرنے میں مدد دیتے ہیں، اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
محققین کے مطابق یہی ادارہ جاتی صلاحیت اس بات کا تعین کر سکتی ہے کہ بڑھتے ہوئے موسمیاتی اور غذائی دباؤ کو تنازعات میں تبدیل ہونے سے کس طرح روکا جائے۔

