Environmental Reports

موسمیاتی تبدیلی: ’کلائمیٹ ہشنگ‘ کیوں خطرناک حکمتِ عملی بن گئی؟

موسمیاتی تبدیلی پر نئی تحقیق نے “کلائمیٹ ہشنگ” کو غلط حکمتِ عملی قرار دیا، عوام اب بھی اقدامات کے حامی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ابلاغ ایک اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے۔ ایک طرف ریکارڈ توڑ گرمی، تباہ کن سیلاب، بڑھتے ہوئے انشورنس اخراجات، اور خوراک، پانی و توانائی کے نظام پر بڑھتا دباؤ اس بحران کی شدت ظاہر کر رہے ہیں۔ دوسری جانب اس موضوع پر عوامی گفتگو مسلسل کم ہو رہی ہے۔

سن 2021 میں اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں ہونے والی کوپ 26 کانفرنس کے دوران موسمیاتی تبدیلی عالمی خبروں کا مرکز بنی رہی۔ تاہم اس کے بعد میڈیا کوریج میں 38 فیصد کمی آ چکی ہے۔ اسی طرح ایس اینڈ پی 500 کمپنیوں کی مالیاتی بریفنگز میں پائیداری کا ذکر بھی تقریباً تین چوتھائی کم ہو گیا ہے۔

اس رجحان کو “کلائمیٹ ہشنگ” کہا جاتا ہے، یعنی موسمیاتی تبدیلی پر جان بوجھ کر خاموشی اختیار کرنا۔ بہت سے سیاسی اور کاروباری رہنما اب اس موضوع پر براہِ راست بات کرنے کے بجائے روزگار، صاف توانائی یا عالمی مسابقت جیسے موضوعات پر زور دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پر کھل کر بات کرنا اب فائدہ مند نہیں رہا۔

تاہم تازہ ترین تحقیق اس تصور کو غلط ثابت کرتی ہے۔ نتائج کے مطابق اگر موسمیاتی تبدیلی پر درست اور سادہ انداز میں بات کی جائے تو عوام اس مسئلے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

حال ہی میں راک فیلر فاؤنڈیشن کے تعاون سے برطانیہ، امریکا، کینیڈا، فرانس، جرمنی اور اٹلی میں 83 ہزار سے زیادہ افراد پر مشتمل ایک بڑا سروے بھی مکمل کیا گیا۔

تحقیق کیا کہتی ہے؟

غیر منافع بخش تنظیم پوٹینشل انرجی کولیشن نے گزشتہ برسوں میں ہزاروں گھنٹے فوکس گروپس، پانچ لاکھ سے زائد افراد کے سروے اور سینکڑوں پیغامات کا تجزیہ کیا۔

حال ہی میں راک فیلر فاؤنڈیشن کے تعاون سے برطانیہ، امریکا، کینیڈا، فرانس، جرمنی اور اٹلی میں 83 ہزار سے زیادہ افراد پر مشتمل ایک بڑا سروے بھی مکمل کیا گیا۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ کون سے پیغامات عوام کو متاثر کرتے ہیں، کون سے الفاظ اختلافات بڑھاتے ہیں، اور کون سی زبان اتفاقِ رائے پیدا کرتی ہے۔

عوام اب بھی موسمیاتی اقدامات کے حامی

اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کوئی ہارنے والا مسئلہ نہیں۔

تمام چھ ممالک میں عوام کی واضح اکثریت حکومتی موسمیاتی اقدامات کی حامی ہے۔ یہ حمایت صرف ماحول دوست حلقوں تک محدود نہیں بلکہ دائیں بازو کے کئی ووٹر بھی اس کے حق میں ہیں۔

اگرچہ کئی رہنما اس موضوع سے دور ہو چکے ہیں، لیکن دنیا بھر میں تقریباً دو تہائی افراد اب بھی موسمیاتی اقدامات چاہتے ہیں۔

مسئلہ الفاظ کا ہے

تحقیق کے مطابق اصل مسئلہ موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ اس کے لیے استعمال ہونے والی زبان ہے۔

کئی برسوں سے اس بحث میں ایسے تکنیکی الفاظ استعمال ہو رہے ہیں جو پالیسی ساز تو سمجھتے ہیں، مگر عام لوگوں کے لیے ان کی اہمیت واضح نہیں ہوتی۔

مثال کے طور پر “نیٹ زیرو” موسمیاتی پالیسی کی ایک معروف اصطلاح ہے، لیکن تحقیق میں یہی لفظ چھ ممالک میں سب سے کم مؤثر ثابت ہوا۔

اسی طرح “گرین جابز”، “توانائی کی منتقلی” اور “ڈی کاربنائزیشن” جیسے الفاظ بھی عام افراد کو مبہم اور روزمرہ زندگی سے دور محسوس ہوتے ہیں۔

بیانیہ بدلنے کی ضرورت

تحقیق کے مطابق ضرورت اس بات کی نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی پر بات کم کر دی جائے، بلکہ اس کے بارے میں نیا اور مؤثر بیانیہ اپنایا جائے۔

پالیسیوں کو عوام کی حمایت حاصل ہے، لیکن ان کے گرد استعمال ہونے والی اصطلاحات سامعین کا دائرہ محدود کر دیتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گفتگو کا انداز بدلا جائے تو عوامی حمایت مزید بڑھ سکتی ہے۔

انسانی اثرات پر توجہ دیں

سب سے مؤثر پیغامات وہ ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے براہِ راست انسانی اثرات بیان کرتے ہیں۔

بڑھتے ہوئے انشورنس اخراجات، فضائی آلودگی، شدید گرمی اور صحت کے مسائل جیسے موضوعات لوگوں پر زیادہ اثر ڈالتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ایسے پیغامات، روزگار یا جدت جیسے بالواسطہ موضوعات کے مقابلے میں موسمیاتی اقدامات کی حمایت پیدا کرنے میں 2.6 گنا زیادہ مؤثر ثابت ہوئے۔

صرف ایک مؤثر پیغام سننے کے بعد چھ ممالک میں موسمیاتی اقدامات کی حمایت کم از کم نو فیصد بڑھ گئی۔

اسی لیے آلودگی پر مبنی بیانیہ موسمیاتی تبدیلی کو کم متنازع اور زیادہ قابلِ فہم بنا دیتا ہے۔

آلودگی کو اصل وجہ کے طور پر بیان کریں

تحقیق کے مطابق اگر موسمیاتی تبدیلی کو آلودگی کے نتیجے کے طور پر بیان کیا جائے تو لوگ اس مسئلے کو زیادہ قابلِ حل سمجھتے ہیں۔

آلودگی ایک ایسی حقیقت ہے جسے لوگ دیکھ سکتے ہیں، محسوس کر سکتے ہیں اور اس میں کمی کے طریقے بھی سمجھ سکتے ہیں۔

اسی لیے آلودگی پر مبنی بیانیہ موسمیاتی تبدیلی کو کم متنازع اور زیادہ قابلِ فہم بنا دیتا ہے۔

امید افزا مستقبل دکھائیں

تحقیق کے مطابق عوامی حمایت اس وقت کم ہو جاتی ہے جب موسمیاتی اقدامات کو پابندیوں، قربانیوں یا سخت قوانین سے جوڑا جائے۔

اس کے برعکس اگر صاف توانائی، کم لاگت بجلی، توانائی کا تحفظ، صحت مند معاشرے اور بہتر ماحول جیسے فوائد نمایاں کیے جائیں تو لوگ زیادہ مثبت ردعمل دیتے ہیں۔

لوگ کسی بہتر مستقبل کی تعمیر میں حصہ ڈالنے کے لیے زیادہ تیار ہوتے ہیں، بجائے اس کے کہ انہیں صرف قربانیاں دینے کا کہا جائے۔

خاموشی سب سے بڑا نقصان

تحقیق کے مطابق عوام موسمیاتی اقدامات چاہتے ہیں، اور جب انہیں سادہ، انسانی اور امید افزا انداز میں یہ پیغام دیا جاتا ہے تو ان کی حمایت مزید بڑھ جاتی ہے۔

اسی لیے “کلائمیٹ ہشنگ” ایک خطرناک رجحان قرار دیا جا رہا ہے۔

جب کمپنیاں موسمیاتی تبدیلی پر بات کرنا چھوڑ دیتی ہیں، سیاسی رہنما اس موضوع سے گریز کرتے ہیں، یا میڈیا اس پر کم توجہ دیتا ہے تو عوام میں یہ غلط تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اس مسئلے کی اہمیت کم ہو گئی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

یہ بھی پڑھیں

موسمیاتی تبدیلی: گرمی امیروں کو ٹھنڈک، غریبوں کو موت دے گی

کلائمیٹ برج فنڈ: این جی اوز کے لیے نئی فنڈنگ کا اعلان

نتیجہ

اصل سوال یہ نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی پر بات کی جائے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس پر کس انداز میں بات کی جائے۔

ایسا بیانیہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو لوگوں کی روزمرہ زندگی، صحت، معیشت اور مستقبل سے براہِ راست جڑا ہو۔

ماہرین کے مطابق جیسے جیسے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں، خاموشی اختیار کرنے کے بجائے ایسا نیا بیانیہ اپنانا ضروری ہے جو مسئلے کی سنگینی، اس کی اصل وجہ اور اس کے مؤثر حل کو سادہ، واضح اور امید افزا انداز میں پیش کرے۔

admin

Recent Posts

شدید گرمی کا قہر: موسمیاتی تبدیلی اور لالچ بے نقاب

عالمی سطح پر شدید گرمی: ہیٹ ویوز، جنگلات کی آگ، خشک سالی اور سیلاب سے…

7 hours ago

موسمیاتی تبدیلی: گرمی امیروں کو ٹھنڈک، غریبوں کو موت دے گی

موسمیاتی تبدیلی: 2050 تک ہر سال 4 لاکھ 30 ہزار اضافی اموات کا خدشہ، پاکستان…

2 days ago

کلائمیٹ برج فنڈ: این جی اوز کے لیے نئی فنڈنگ کا اعلان

کلائمیٹ برج فنڈ نے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ شہری آبادی کے لیے جدید موافقتی منصوبوں…

4 days ago

نیوزی لینڈ: حکومتی پالیسیاں موسمیاتی اہداف کے لیے خطرہ بن گئیں، رپورٹ

نیوزی لینڈ: کمیشن کا انتباہ، موجودہ حکومتی فیصلوں سے 2050 کے موسمیاتی اہداف شدید خطرے…

4 days ago

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

6 days ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

6 days ago

This website uses cookies.