انہوں نے کہا کہ ہجرت کرنے والے پرندے نہ صرف ماحولیاتی نظام کی صحت کے اشاریے ہوتے ہیں بلکہ زرعی شعبے میں کیڑوں کے کنٹرول، پولینیشن اور بیجوں کی ترسیل جیسے اہم عمل میں بھی مدد دیتے ہیں۔ اس سال کا عالمی موضوع “مشترکہ جگہیں: پرندوں کے لیے دوستانہ شہر اور کمیونٹیز بنانا” ہے، جو شہری منصوبہ بندی میں پائیداری، قدرتی آبی ذخائر، مقامی درختوں کی شجرکاری، اور غیر قانونی شکار کی روک تھام جیسے اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ تیز رفتار شہری پھیلاؤ، بلند و شیشے والی عمارتیں، روشنی کی آلودگی، اور قدرتی رہائش گاہوں کی تباہی مہاجر پرندوں کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ یہ مسائل ان کے لیے ہجرت کا راستہ کھو دینا یا ٹکرانے جیسے حادثات کا سبب بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی وفاقی و صوبائی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر سائنسی بنیادوں پر پالیسی سازی، عوامی آگاہی، اور پائیدار ترقی کے ذریعے مہاجر پرندوں کی بقاء کو یقینی بنانے میں سرگرم عمل ہے۔
محمد سلیم شیخ نے کہا کہ پرندوں کی حفاظت صرف حیاتیاتی تنوع کا معاملہ نہیں بلکہ یہ عالمی ذمہ داری بھی ہے۔ “ہجرت کرنے والے پرندوں کا تحفظ ہمارے ماحولیاتی نظام، پائیدار مستقبل، اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے ناگزیر ہے۔”
پاکستان میں فضائی آلودگی سے سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار اموات، لاہور میں عمر سات…
نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ڈیٹا سینٹرز، مضر آلودہ گیسوں، زراعت اور تعلیم پر 14 نشستیں،…
برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں، 82 ہزار…
موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، امریکی پروفیسر کا منفرد اقدام، پڑوسیوں کو موسمیاتی بحران سے آگاہی…
ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی…
آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…
This website uses cookies.