کاپ 31 میں جنگوں کے ماحولیاتی نقصانات اور کاربن اخراج کا معاملہ، امریکی کردار اور عالمی ذمہ داری پر جواب دہی کے سوالات
فروزاں رپورٹ
مارچ 2026 کے آغاز میں ایران کے دارالحکومت تہران میں سیاہ بارش ہوئی۔ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں ایرانی تیل کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں فضا میں دھوئیں اور سیاہ ذرات کے بادل پھیل گئے۔ تہران کے ایک کروڑ شہریوں کو فضائی آلودگی کے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ حملے 28 فروری کو ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے چند روز بعد کیے گئے تھے۔
اسی دوران جنوبی لبنان میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ اسرائیل نے سفید فاسفورس کا غیر قانونی استعمال کیا۔ یہ ایسا آتش گیر مادہ ہے جو آکسیجن سے رابطے میں آتے ہی آگ بھڑکا دیتا ہے۔ اس کے استعمال سے جنگلات اور زرعی زمینیں بھی متاثر ہوئیں۔
اسرائیلی فوج نے شمسی توانائی کے نظام بھی بلڈوزروں اور بمباری کے ذریعے تباہ کردیے۔ اس کے بعد مقامی آبادی کو بجلی اور پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آلودگی پھیلانے والے ڈیزل جنریٹرز کا سہارا لینا پڑا۔
غزہ میں اسرائیلی حملوں نے رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرکے کروڑوں ٹن ملبے میں تبدیل کردیا۔
امریکہ ان تمام تنازعات میں کسی نہ کسی صورت شریک رہا ہے۔ اس نے ایران کے خلاف براہِ راست جنگ میں حصہ لیا، جبکہ دنیا کے سب سے بڑے اسلحہ برآمد کرنے والے ملک کی حیثیت سے اسرائیل کو بھی بڑے پیمانے پر ہتھیار فراہم کیے۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران اسرائیل کی اسلحے کی درآمدات میں امریکہ کا حصہ 68 فیصد رہا۔ یہی ہتھیار ایران، غزہ اور لبنان میں استعمال ہوئے۔
تاہم ان جنگوں کے ماحولیاتی نقصانات اور ان سے پیدا ہونے والی آلودگی کا مناسب حساب نہیں رکھا جا رہا۔
یہ معاملہ 9 سے 20 نومبر تک ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہونے والی عالمی موسمیاتی کانفرنس کاپ 31 میں بھی زیرِ بحث آنے کا امکان کم ہے۔ ترکیہ نے اس کانفرنس کو عملی اقدامات پر مبنی اجلاس قرار دیا ہے۔ اس میں خوراک، توانائی، مالی معاونت اور نوجوانوں سمیت 12 موضوعاتی دن شامل ہیں۔
تاہم ان موضوعات میں جنگ اور اس کے ماحولیاتی اثرات کے لیے کوئی مخصوص دن مختص نہیں کیا گیا۔
کاپ 31 کے صدر نے اپریل میں اپنے پہلے خط میں محفوظ دنیا کی تعمیر اور باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا تھا، لیکن جنگوں کے ماحولیاتی نقصانات کو واضح طور پر شامل نہیں کیا گیا۔
لبنانی یونیورسٹی میں ماحولیاتی فلسفے اور ابلاغیات کے پروفیسر حبیب معلوف کے مطابق ترکیہ نے امن کی بات تو کی، لیکن جنگوں کی تفصیلات اور ان کے ماحولیاتی اثرات پر گفتگو نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ صرف ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کی نقل و حرکت تک محدود نہیں ہوتی۔ دھماکا خیز ہتھیاروں کے استعمال سے لے کر تباہ شدہ علاقوں کی دوبارہ تعمیر تک مختلف مراحل میں کاربن اخراج ہوتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب جنگلات کاٹ دیے جاتے ہیں اور زیتون کے باغات جل جاتے ہیں تو ان سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے علاوہ ان تاریخی اور ثقافتی اثاثوں کے نقصان کا تخمینہ کیسے لگایا جائے گا؟

جنگوں کے کاربن اخراج کے اعداد و شمار
محققین جنگوں اور ان کے بعد پیدا ہونے والے ماحولیاتی نقصانات کا تخمینہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جریدے ون ارتھ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں مجموعی طور پر 3 کروڑ 32 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اخراج ہوا۔ یہ مقدار اردن کے سالانہ کاربن اخراج کے برابر ہے۔
اسی تحقیق میں اندازہ لگایا گیا کہ جنوبی لبنان میں 2023 اور 2024 کی لڑائی کے دوران تباہ ہونے والے 3 ہزار 600 گھروں کی دوبارہ تعمیر سے 8 لاکھ 80 ہزار ٹن سے زیادہ کاربن اخراج ہوگا۔
ایران میں جنگ کے ابتدائی دو ہفتوں کے دوران تقریباً 50 لاکھ ٹن گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوا۔ یہ مقدار آئس لینڈ کے ایک سال کے اخراج سے بھی زیادہ ہے۔
گرین پیس مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر غیوا نکات کے مطابق غزہ، ایران اور لبنان میں جنگ جاری ہونے کے باوجود جون میں جرمنی کے شہر بون میں ہونے والے موسمیاتی مذاکرات میں جنگوں کے کاربن اخراج کا معاملہ نظر انداز کیا گیا۔

جنگوں کے ماحولیاتی نقصانات کی ذمہ داری کس پر؟
ماہرین کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے موسمیاتی نظام میں جنگوں سے پیدا ہونے والے کاربن اخراج کو شمار کرنے اور اس کی ذمہ داری طے کرنے کا کوئی واضح طریقہ موجود نہیں۔
حبیب معلوف کا کہنا تھا کہ عالمی موسمیاتی کنونشن، پیرس معاہدے اور کیوٹو پروٹوکول میں بھی جنگوں کے اخراج اور اس کی ذمہ داری کا معاملہ شامل نہیں۔
ان کے مطابق جنگ لڑنے والے ممالک، ہتھیار فراہم کرنے والی ریاستیں، مالی معاونت کرنے والے ممالک اور اسلحہ تیار کرنے والی کمپنیوں کو بھی ان نقصانات کے ایک متعین حصے کا ذمہ دار ہونا چاہیے۔
ابھی تک کسی حکومت نے ذمہ داری تقسیم کرنے کے اس طریقہ کار کی باضابطہ حمایت نہیں کی۔ تاہم عرب ممالک نے اس معاملے کو مختلف عالمی اجلاسوں میں اٹھایا ہے۔
غیوا نکات کے مطابق لبنان نے کاپ 29 میں تنازعات سے ہونے والے ماحولیاتی نقصانات کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ کاپ 30 سے قبل لبنان نے اپنے قومی موسمیاتی منصوبے میں فوجی سرگرمیوں، قدرتی کاربن ذخائر کی تباہی اور جنگ کے بعد ہونے والے اخراج کو بھی شامل کیا۔
اردن نے بھی کاپ 29 میں اپنے قومی بیان کے دوران غزہ کی دوبارہ تعمیر سے پیدا ہونے والے موسمیاتی اخراج کا معاملہ اٹھایا تھا۔
کاپ 30 میں فلسطین نے اسرائیلی جنگ کے کاربن اخراج اور ماحولیاتی تباہی کو اجاگر کیا۔ دوسری جانب یمن اور صومالیہ نے تنازعات سے متاثرہ ممالک کے لیے موسمیاتی مالی معاونت تک منصفانہ رسائی کی کوشش کی۔
تاہم عرب ممالک کی جانب سے اب تک کوئی مشترکہ اور مربوط تجویز سامنے نہیں آسکی۔

لبنان کا کاپ 31 میں اہم مطالبہ
لبنان کی وزیرِ ماحولیات تمارا الزین نے انطالیہ میں ہونے والی کانفرنس سے قبل مذاکراتی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ جنگوں کے مکمل موسمیاتی اثرات کو تسلیم کرنے کے لیے واضح فیصلوں کا مطالبہ کیا جائے۔
اس مطالبے میں ہتھیاروں کی تیاری، منتقلی، جنگ کے دوران ہونے والی تباہی اور بعد از جنگ تعمیرِ نو سے پیدا ہونے والے کاربن اخراج کو شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
لبنان کی وزیرِ ماحولیات کے مطابق ماحولیاتی انصاف اس وقت تک ممکن نہیں جب تک جنگوں کے ماحولیاتی اور موسمیاتی نقصانات کو تسلیم کرکے ان کی ذمہ داری کا تعین نہیں کیا جاتا۔
یوکرین کی مثال بھی اس حوالے سے اہم ہے۔ کاپ 29 میں یوکرین کی وزارتِ ماحولیات نے جنگ کے کاربن اخراج کا حساب لگانے کا طریقہ پیش کیا تھا۔
بعد ازاں کاپ 30 میں یوکرین نے روس کے خلاف جنگ سے ہونے والے موسمیاتی نقصانات کا دعویٰ کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ اس دعوے کی مالیت 57 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔
کاپ 31 میں بھی یوکرین روسی جنگ کے ماحولیاتی اثرات کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے کی کوشش کرے گا۔ اس میں خاص طور پر پانی کے وسائل اور بحیرہ اسود کو پہنچنے والے نقصانات پر توجہ دی جائے گی۔
فوجی کاربن اخراج پر امریکہ کو خصوصی چھوٹ
جنگوں کے کاربن اخراج کو شمار نہ کرنے کا معاملہ کئی دہائیوں پرانا ہے اور اس میں امریکہ کا اہم کردار رہا ہے۔
1997 میں کیوٹو پروٹوکول کے مذاکرات کے آخری مرحلے میں امریکی مذاکرات کاروں نے فوجی کارروائیوں کے دوران خارج ہونے والی کئی گرین ہاؤس گیسوں کو رپورٹنگ سے مستثنیٰ کرانے میں کامیابی حاصل کی۔
اس فیصلے کے نتیجے میں بیرونِ ملک فوجی کارروائیوں سے ہونے والا زیادہ تر کاربن اخراج اقوام متحدہ کی رپورٹنگ سے باہر ہوگیا۔
امریکہ کے مرکزی مذاکرات کار اسٹورٹ آئزن اسٹیٹ نے بعد میں کانگریس کو بتایا کہ امریکہ نے پینٹاگون کی جانب سے فوجی کارروائیوں کے تحفظ کے لیے پیش کی گئی تمام ضروری شرائط حاصل کرلی تھیں۔
امریکی سینیٹ نے کیوٹو پروٹوکول کی توثیق بھی نہیں کی تھی۔
2001 میں امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور اس کے دو سال سے بھی کم عرصے بعد عراق پر حملہ کردیا۔
آئل چینج انٹرنیشنل کے اندازے کے مطابق مارچ 2003 سے دسمبر 2007 تک عراق جنگ کے نتیجے میں کم از کم 14 کروڑ 10 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اخراج ہوا۔ تاہم یہ اخراج اقوام متحدہ کو رپورٹ نہیں کیا گیا۔
2015 کے پیرس معاہدے میں فوجی اخراج کو خودکار طور پر حاصل استثنیٰ ختم کردیا گیا، لیکن اس کی رپورٹنگ کا فیصلہ ہر ملک پر چھوڑ دیا گیا۔
امریکہ کے اصرار پر معاہدے کی متعلقہ شق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ نقصانات اور ازالے سے متعلق آرٹیکل 8 کسی ملک کے خلاف قانونی ذمہ داری یا معاوضے کے دعوے کی بنیاد فراہم نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں
گوادر میں 30 فٹ طویل نیلی وہیل مردہ حالت میں ساحل پر آ لگی
عالمی یومِ آگاہی برائے سونامی، تباہی سے پہلے تیاری ضروری
اسلحہ ساز کمپنیوں پر موسمیاتی ٹیکس کی تجویز
بیروت میں قائم عرب این جی او نیٹ ورک فار ڈیولپمنٹ بھی کاپ 31 کی تیاری کر رہا ہے۔
نیٹ ورک کی سینئر پروگرامز اینڈ ریسرچ افسر بیہتر موشینی کے مطابق تنظیم عرب سول سوسائٹی کا مشترکہ مؤقف تیار کر رہی ہے۔ اس میں مسلح تنازعات کے موسمیاتی اثرات کو عالمی رپورٹنگ کے نظام میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
تنظیم نے عالمی اسلحہ ساز کمپنیوں پر موسمیاتی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے، تاکہ جنگوں سے ہونے والے ماحولیاتی نقصانات کے ازالے کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جاسکیں۔
گرین پیس مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ نے بھی غزہ اور جنوبی لبنان میں پانی کے نظام، زرعی زمینوں، جنگلات اور ماحول کو پہنچنے والے نقصانات پر رپورٹس جاری کی ہیں۔
تنظیم نے غزہ میں ماحولیاتی تحقیقات کے لیے ماہرین کو رسائی دینے اور اسرائیل کو ماحولیاتی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگوں کے مکمل موسمیاتی اثرات جاننے کے لیے شفافیت، مستند شواہد اور اخراج کی درست پیمائش ضروری ہے۔
تاہم اقوام متحدہ کے شیڈول کے مطابق کاپ 31 میں جنگوں کے ماحولیاتی نقصانات کا معاملہ صرف ضمنی تقریبات تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ اسے مرکزی مذاکراتی ایجنڈے میں شامل نہیں کیا گیا۔

