Environmental News • Environmental Reports

پلاسٹک کی آلودگی: حکومتی اقدامات، کیا آگاہی اور کیا ری سائیکلنگ کا نظام اہم ہے؟

پلاسٹک کی صنعت سے وابستہ افراد کے روزگار اور سستے متبادل کی عدم دستیابی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اسلام آباد (فرحین العاص): پلاسٹک کی آلودگی پاکستان کے لیے ایک بڑھتا ہوا ماحولیاتی چیلنج ہے۔ پلاسٹک کے تھیلے، کھانے پینے کی اشیا کی پیکنگ اور دیگر یک بار استعمال ہونے والی مصنوعات نہ صرف گلیوں اور نالوں میں کچرے کا سبب بنتی ہیں۔ بلکہ دریاؤں، آبی ذخائر اور قدرتی ماحول کو بھی متاثر کرتی ہیں۔

دوسری جانب، پلاسٹک کی صنعت سے وابستہ افراد کے روزگار اور سستے متبادل کی عدم دستیابی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اسلام آباد میں پلاسٹک کے تھیلوں اور دیگر ممنوعہ مصنوعات کے خلاف حکومتی اقدامات کا مقصد شہر کو پلاسٹک کی آلودگی سے پاک کرنا ہے۔ تاہم، اس پالیسی کی کامیابی میں صرف پابندی اور جرمانوں پر نہیں۔بلکہ متبادل مصنوعات کی دستیابی، مؤثر نگرانی، کچرے کی چھانٹی اور ری سائیکلنگ کا نظام کا کردار بھی اہم  ہے۔

یورپی یونین کے پروگرام  سوئچ ایشیا  کی 2025 میں شائع ہونے والی رپورٹ “پلاسٹک پالیسز ان پاکستان” کے مطابق، پاکستان میں 2023 کے دوران سالانہ تقریباً 20 لاکھ ٹن پلاسٹک ویسٹ پیدا ہوا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس کچرے کا تقریباً 86 فیصد غیر مؤثر طریقے سے ٹھکانے لگایا جاتا تھا۔ یہ اعداد و شمار ملک میں پلاسٹک ویسٹ کے انتظام کو بہتر بنانے کی ضرورت واضح کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں پلاسٹک پر پابندی اور حکومتی کارروائیاں

اسلام آباد میں پلاسٹک کے تھیلوں کے خلاف اقدامات نئے نہیں ہیں۔ پہلے 2019 بعد ازں وفاقی حکومت نے 2023 میں سنگل یوز پلاسٹک (پابندی) ضوابطمتعارف کرائے۔

ان ضوابط کے تحت اسلام آباد کی حدود میں مختلف یک بار استعمال ہونے والی پلاسٹک مصنوعات، جن میں مخصوص تھیلے، اسٹرا، ڈسپوزیبل کراکری، کٹلری اور کھانے پینے کی اشیا کے بعض کنٹینرز شامل ہیں، کے استعمال پر پابندیاں عائد کی گئیں۔

سوئچ ایشیا کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں پلاسٹک سے متعلق قوانین مختلف علاقوں میں مختلف نوعیت کے ہیں۔ متبادل مصنوعات کی قیمت، دستیابی، نجی شعبے کی مزاحمت اور قوانین کے نفاذ میں مشکلات بھی پلاسٹک پر پابندیوں کی مؤثریت کو متاثر کرتی ہیں۔

رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ آگاہی مہمات کے ساتھ کچرے کے انتظام اور ری سائیکلنگ کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بہتر بنانا ضروری ہے۔

مائیکرو پلاسٹک: انسانی صحت کے لیے ابھرتی ہوئی تشویش

پلاسٹک کی آلودگی صرف سڑکوں، نالوں اور آبی ذخائر تک محدود نہیں۔ وقت کے ساتھ پلاسٹک کے بڑے ٹکڑے ٹوٹ کر چھوٹے ذرات میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ جنہیں مائیکرو پلاسٹک اور اس سے بھی چھوٹے ذرات کو نینو پلاسٹک کہا جاتا ہے۔

سال 2022 میں سائنسی جریدے انوائرمنٹ انٹرنیشنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں انسانی خون کے نمونوں میں پلاسٹک کے ذرات کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی۔ بعد ازاں، فروری 2025 میں نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے انسانی دماغ کے بافتوں میں مائیکرو اور نینو پلاسٹک کی موجودگی رپورٹ کی۔

یہ تحقیقات انسانی جسم میں پلاسٹک کے ذرات کی موجودگی کے حوالے سے اہم شواہد فراہم کرتی ہیں، تاہم ان کی بنیاد پر ہر ممکنہ بیماری یا طویل مدتی صحت کے نقصان کو قطعی طور پر پلاسٹک سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ماہرماحولیات ڈاکتڑ نعیم پرویز  کے مطابق، پلاسٹک کی آلودگی کو کم کرنے کے لیے اس کے غیر ضروری استعمال میں کمی، دوبارہ قابل استعمال مصنوعات کی حوصلہ افزائی اور مؤثر کچرا مینجمنٹ کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

ماہر ماحولیات کے مطابق مائیکرو پلاسٹک انسانی صحت کے لیے ایک اہم تشویش بنتا جا رہا ہے۔ پلاسٹک کے باریک ذرات انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں اور خون کے ذریعے دماغ سمیت جسم کے مختلف حصوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں سائنسی تحقیق جاری ہے، اس لیے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے دو پہلوؤں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

پہلا یہ کہ پلاسٹک کے استعمال کو محدود کیا جائے، جبکہ دوسرا یہ کہ اس کے متبادل متعارف کرائے جائیں۔ تاہم، پلاسٹک کی صنعت سے وابستہ بے شمار لوگوں کا روزگار بھی اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ہے۔

  متاثر ہونے والے چھوٹے کاروبار

پلاسٹک کی صنعت سے وابستہ افراد کا روزگار بھی اس بحث کا اہم پہلو ہے- ایشیا سوئچ کی 2025 کی رپورٹ میں 2020 کے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پاکستان میں پلاسٹک کی پروسیسنگ اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 11 ہزار سے زیادہ چھوٹے، درمیانے اور بڑے کاروبار کام کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق،  2020 میں اس صنعت سے تقریباً پانچ لاکھ افراد براہ راست اور 15 لاکھ افراد بالواسطہ طور پر وابستہ تھے۔

یہ اعداد و شمار 2020 کے تخمینوں پر مبنی ہیں، موجودہ روزگار کی تازہ گنتی نہیں۔ تاہم، ان سے واضح ہوتا ہے کہ پلاسٹک پالیسی میں تبدیلی کے دوران کاروبار اور روزگار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ماہر ماحولیات ڈاکٹر پرویز نعیم نے کہا ہے کہ بہتر حکمتِ عملی یہ ہوگی کہ حکومت پلاسٹک مصنوعات تیار کرنے والے صنعت کاروں کے ساتھ مل کر کام کرے اور سائنسی برادری کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مینوفیکچررز کو ایسے متبادل فراہم کیے جائیں جو ماحول دوست، قابلِ عمل اور معاشی طور پر موزوں ہوں۔ اس طرح کاروبار اور روزگار کو نقصان پہنچائے بغیر پلاسٹک کے استعمال میں بتدریج کمی لائی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پلاسٹک کہانی: تحفظ سے تباہی تک

ڈیم: کیا پاکستان کے لیے سیلابی متبادل حل ہے؟

 شہریوں کی رائے: ماحول کا تحفظ یا روزمرہ اخراجات؟

ریڑھی بان اور چھوٹا دکاندار: متبادل کی قیمت کون ادا کرے گا؟

اسلام آباد کے ایک مرکز میں کام کرنے والے محمد سلیم، سبزی فروش کا کہنا ہے کہ، چھوٹے دکانداروں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ سستے اور آسانی سے دستیاب متبادل تھیلوں کا انتظام ہے۔

“ہمیں معلوم ہے کہ پلاسٹک ماحول کے لیے نقصان دہ ہے، لیکن روزانہ گاہک سبزی خریدتے ہیں اور تھیلا بھی مانگتے ہیں۔ اگر متبادل تھیلا مہنگا ہو تو چھوٹے دکاندار کے لیے اسے مفت دینا مشکل ہے۔ حکومت پابندی ضرور لگائے، لیکن مناسب قیمت پر متبادل بھی فراہم کرے اور ہمیں واضح ہدایات دے۔”

یہ نقطہ نظر اس سوال کو سامنے لاتا ہے کہ پابندی پر عمل درآمد کے ساتھ چھوٹے کاروباروں کو متبادل مصنوعات تک رسائی اور ضروری رہنمائی کیسے فراہم کی جائے۔

بڑے اسٹور کا خریدار: تھیلے کی قیمت اضافی بوجھ ہے؟

اسلام آباد کی مقامی مارکیٹ میں واقع ایک بڑے سپر اسٹور میں خریداری کرنے والے احمد رضا، کے مطابق، خریداری کے دوران تھیلے کے اضافی پیسے بعض صارفین کے لیے مشکل پیدا کر سکتے ہیں۔

“اگر ہم پہلے ہی خریداری پر رقم خرچ کر رہے ہیں تو تھیلے کے الگ پیسے دینا بعض اوقات اضافی بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ چاہتے یہں کہ ہم پلاسٹک چھوڑ دیں تو اسے سستے یا دوبارہ استعمال ہونے والے تھیلوں کے بارے میں بھی آگاہی دینی چاہیے۔”

یہاں اہم سوال صرف یہ نہیں کہ تھیلے کے پیسے وصول کیے جائیں یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ آیا صارفین کو دوبارہ استعمال کے قابل تھیلے خریدنے اور ساتھ رکھنے کی ترغیب دی جا رہی ہے یا نہیں۔

خاتون خریدار: پابندی کی حمایت، مگر پالیسی کے تسلسل پر سوال

عائشہ خان، گھریلو خریداری کے لیے بازار آنے والی خاتون کے مطابق، پلاسٹک پر پابندی ماحول کے تحفظ کے لیے مثبت قدم ہے، تاہم متبادل مصنوعات کی دستیابی اور قوانین کے مسلسل نفاذ کے حوالے سے غیر یقینی برقرار رہتی ہے۔

کچرے کی چھانٹی اور ری سائیکلنگ

ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر نعیم پرویز  کے مطابق، پلاسٹک ویسٹ کے مؤثر انتظام کے لیے کچرے کو جمع کرنے کے بعد اس کی چھانٹی اور دوبارہ استعمال کے قابل مواد کو الگ کرنا ضروری ہے۔

ان کے مطابق، ماضی میں کراچی میں کنویئر بیلٹ کے ذریعے کچرے کی چھانٹی کا نظام استعمال کیا جاتا تھا۔ اس تجربے سے سبق لیتے ہوئے جدید چھانٹی مراکز قائم کیے جا سکتے ہیں، جہاں پلاسٹک، کاغذ، دھات اور دیگر مواد کو الگ کیا جائے۔

اس حوالے سے ایک اہم قدم غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے کچرا جمع کرنے والوں کو باقاعدہ نظام کا حصہ بنانا ہے۔ انہیں محفوظ کام کے حالات، مناسب مراعات اور پلاسٹک جمع کرنے کے مراکز فراہم کیے جائیں تو ری سائیکلنگ کے لیے زیادہ مواد حاصل کیا جا سکتا ہے۔

سوئچ ایشیا کی رپورٹ بھی اس بات پر زور دیتی ہے کہ پاکستان میں مؤثر کچرا مینجمنٹ کے لیے کچرا جمع کرنے والوں کے کردار کو تسلیم کرنا اور چھانٹی، ٹریٹمنٹ اور ری سائیکلنگ (تھری آر)کی سہولتوں میں سرمایہ کاری اور آگاہی  کرنا ضروری ہے۔

پلاسٹک سے سڑکیں اور بورڈز بنانے کے امکانات

پلاسٹک ویسٹ کو دوبارہ استعمال کرنے کی ایک مثال کراچی میں تعمیر کی گئی پلاسٹک مکسڈ سڑک ہے۔سوئچ ایشیا کی رپورٹ کے مطابق، شیل پاکستان اور دیگر شراکت داروں نے کراچی میں ایک منصوبے کے تحت 2.5 ٹن سے زیادہ استعمال شدہ لبریکینٹ بوتلوں کو ری سائیکل کرکے تقریباً 222 میٹر طویل اور 18 میٹر چوڑی سڑک کی تعمیر میں استعمال کیا۔

تاہم، رپورٹ اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ ایسی سڑکوں کی طویل مدتی پائیداری، ماحولیاتی اثرات اور ممکنہ مائیکرو پلاسٹک اخراج کے بارے میں مزید تحقیق ضروری ہے۔ اس لیے اس طریقے کو ہر قسم کے پلاسٹک کے لیے عمومی حل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

اسی طرح، مناسب طریقے سے پراسیس اور کمپریس کیے گئے پلاسٹک سے بورڈز، شیٹس اور دیگر مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے مواد کی نوعیت، استعمال کے معیار، ممکنہ اخراج اور مصنوعات کی پائیداری کی جانچ ضروری ہے۔

اسلام آباد میں پلاسٹک کی آلودگی کم کرنے کے لیے پابندی اور جرمانے اہم اقدامات ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ کئی بنیادی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ جس میں سب سے اہم شہریوں اور تاجروں کی آگاہی اور تربیت ہے۔

نتیجہ

پلاسٹک فری شہر یا ماحول کا مقصد صرف پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی لگانا نہیں۔ بلکہ شہر میں کچرے کے انتظام، صارفین کے رویوں اور کاروباری طریقوں میں پائیدار تبدیلی لانا ہونا چاہیے۔ اور یہ جب ہی ممکن ہوگا۔ جب سستے متبادل فراہم کیے جائیں، صنعت کاروں کو ماحول دوست مصنوعات کی تیاری پر آمادہ کیا جائے۔

کچرا جمع کرنے والوں کو باقاعدہ نظام میں شامل کیا جائے اور ری سائیکلنگ کے لیے بنیادی ڈھانچہ بہتر بنایا جائے تو پلاسٹک کی آلودگی کم کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

حکومت کی کوشش اپنی جگہ قابل ستائش ہے لیکن یہ ایک مجموعی کوشش ہونی چایئے۔ جس میں حکومت سب کو اعتماد میں لے۔ اور عوام حکومت کا ساتھ دے۔  جب ہی ہم پلاسٹک سے اپنے ماحول اور صحت کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں