Environmental News • Farozaan

ماہرین کا کوپ 31 سے قبل پاکستان کو مضبوط موسمیاتی حکمتِ عملی اپنانے پر زور

ایس ڈی پی آئی میں پری کوپ 31 موسمیاتی مکالمے کے دوران ماہرین اور شرکاء اجلاس میں شریک ہیں۔

کانفرنس میں قابلِ اعتماد اعدادوشمار، قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں اور مضبوط بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ شرکت کرنا ہوگی

اسلام آباد(فرحین العاص) موسمیاتی ماہرین اور پالیسی سازوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو ترکیہ کے شہر انطالیہ میں منعقد ہونے والی کوپ 31 کانفرنس میں محض موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ملک کے طور پر اپنا مقدمہ پیش نہیں کرنا چایئے۔ بلکہ قابلِ اعتماد اعدادوشمار، قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں اور مضبوط بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ شرکت کرنا ہوگی۔

یہ بات ماہرین نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی اور پاکستان قابلِ تجدید توانائی اتحاد کے اشتراک سے اسلام آباد میں منعقد پری کوپ مکالمے اور مشاورتی اجلاس میں کہی۔ جس کا عنوان ’’پاکستان کا کوپ 31 کی جانب سفر‘‘ تھا۔

اجلاس کے دوران پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کی جانب سے کوپ 31 کی تیاریوں اور پاکستان کی موسمیاتی ترجیحات سے متعلق چار پالیسی دستاویزات بھی جاری کی گئیں۔

گلیشیئرز کے مشترکہ انتظام اور موسمیاتی اعدادوشمار کے تبادلے پر زور

پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو بیلم میں طے کیے گئے۔ موسمیاتی مالیاتی اہداف کو عملی شکل دینے کے لیے واضح اور قابلِ عمل نظام پر زور دینا ہوگا۔

انہوں نے ہندوکش ہمالیہ کے ممالک میں گلیشیئرز کے مشترکہ انتظام اور موسمیاتی اعدادوشمار کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیا۔ اور کہا کہ گلیشیئرز کے پگھلنے، زمینی تودے گرنے، اچانک سیلاب ایک بہت بڑا خطرہ ہیں۔ جبکہ گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے جیسے خطرات پورے خطے کو متاثر کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر عابد نے حالیہ تباہی کے بعد نیپال کے ساتھ یکجہتی کو بھی کوپ 31 میں پاکستان کی ترجیحات کا حصہ بنانے کی تجویز دی۔

پاکستان کو عملی اقدامات کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرنا ہوگا

گلوبل کلائمیٹ چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عارف گوہر نے کہا کہ پاکستان کو انطالیہ میں صرف ایک متاثرہ ملک کے طور پر پیش نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے پاکستان کے لیے چار بنیادی ترجیحات بیان کیں۔ اور کہا کہ ان میں شواہد اور قابلِ اعتماد اعدادوشمار لازمی ہیں۔ جبکہ سرمایہ کاری، مضبوط بین الاقوامی اتحاد اور وفاقی و صوبائی سطح پر قومی موسمیاتی؛از اہداف پر عمل درآمد شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا۔ کہ گروپ 77 اور چین جیسے مذاکراتی پلیٹ فارمز پر اس کی مؤثر آواز موجود ہو۔

موسمیاتی مالیات بڑا مالیاتی مسئلہ بھی ہے

نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر گورایا نے کہا کہ موسمیاتی مالیات صرف ماحولیاتی معاملہ نہیں۔ بلکہ ایک بڑا مالیاتی مسئلہ بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آفات سے نمٹنے اور خطرات کم کرنے کے اپنے ادارہ جاتی تجربے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا چاہیے۔ اور اپنی حکمتِ عملی کو ’’کمزوری سے عملی اقدام‘‘ کی طرف لے جانا چاہیے۔

:یہ بھی پڑھیں

کیا کوپ 30 ناکام ہوا؟

کوپ 30 بیلیم: پاکستان کا نیا مؤقف اور موسمیاتی انصاف

پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر پالیسی ڈاکٹر شفقت منیر احمد نے کہا کہ گزشتہ کوپ کانفرنسوں کے بعد عملی پیش رفت حوصلہ افزا نہیں رہی۔ پاکستان کو نقصان اور تباہی، موافقت اور موسمیاتی اثرات میں کمی کے معاملات پر واضح مذاکراتی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔

کوپ 31 کو عمل درآمد کی کانفرنس قرار دے دیا گیا

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام پاکستان کے شیراز علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کوپ 31 میں خالی ہاتھ نہیں جا رہا۔ بلکہ اس کے پاس قومی سطح پر طے شدہ موسمیاتی شراکت کا تیسرا مرحلہ موجود ہے۔ جبکہ ملک دوسرے مرحلے کے تحت اپنے غیر مشروط اہداف مقررہ حد سے آگے حاصل کر چکا ہے۔

انہوں نے کوپ 31 کو ’’عمل درآمد کی کانفرنس‘‘ قرار دیا۔ اور کہا کہ اب کاغذی منصوبوں سے عملی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کی طرف بڑھنے کا وقت ہے۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے چیئرمین حمزہ فرخ نے کہا کہ عالمی موافقتی فنڈز ضرورت کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔ پاکستان کو موسمیاتی اثرات میں کمی کے امکانات پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ اور ایک مؤثر کاربن مارکیٹ دفتر قائم کرنا ہوگا۔

قابلِ تجدید توانائی اور موسمیاتی مالیات بھی اہم موضوعات

پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے توانائی یونٹ کے سربراہ عبید الرحمٰن ضیا نے کہا کہ کوپ 31 جغرافیائی سیاسی تقسیم اور خلیج کے تنازع کے باعث توانائی کی رسد میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے متاثر ہو سکتی ہے۔

پاکستان قابلِ تجدید توانائی اتحاد کے رکن باسط غوری نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بحران کے بعد پاکستان کو تیزی سے بڑھتے ہوئے شمسی توانائی کے استعمال کو صاف بجلی کی طرف منتقلی کی مثال کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔

پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کی زینب نعیم نے کہا کہ موسمیاتی مالیات کوپ 31 کا سیاسی مرکز ہوگا۔ اور ترقی پذیر ممالک کو پروگرام پر مبنی مالیاتی نظام کا مطالبہ کرنا چاہیے۔

پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کی رابعہ بخاری نے کہا کہ پاکستان نے اب تک قرض کے بدلے قدرتی ماحول کے تحفظ کے منصوبوں سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ جبکہ سندھ کا ڈیلٹا بلیو اور ری چارج پاکستان جیسے منصوبے اس مقصد کے لیے وسعت دیے جا سکتے ہیں۔

موسمیاتی مالیات کے ماہر سہیل مقبول ملک نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ صرف زیادہ رقم حاصل کرنا نہیں۔ بلکہ یہ بھی ہے۔ کہ سرمایہ کیسے حاصل کیا جائے۔ خطرات کیسے کم کیے جائیں۔ اور اس کے فوائد کن لوگوں تک پہنچیں۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے سینئر پالیسی مشیر نور احمد نے موسمیاتی تبدیلی کو انسانیت کے لیے ایک وجودی خطرہ قرار دیا۔ اورکہا کہ دنیا اب تک اس جنگ میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ جبکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے 70 سے 75 فیصد اخراج کا تعلق ایشیا کے خطے سے ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں