Environmental News • Environmental Reports

موسمیاتی بحران، خطرے کی گھنٹی بج گئی، اقوام متحدہ کے سربراہ کی وارننگ

Climate Crisis, Warning Bell Rings as UN Chief Issues Alert

موسمیاتی بحران اب دور کی وارننگ نہیں، اقوام متحدہ کے سربراہ نے خبردار کیا کہ عالمی بحران سے نمٹنے کا وقت کم ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سمندر کی سطح میں اضافے سے متاثر ہونے والے ممالک کی مدد کے عزم کا اظہار کیا ہے، تاہم اس حوالے سے کئی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔

نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کے مطالبات نمایاں رہے۔

مختلف ممالک کے سربراہان اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا کہ موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کی مہلت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔

تاہم اجلاس کے دوران موسمیاتی تبدیلی دیگر اہم عالمی معاملات کے مقابلے میں پس منظر میں رہی۔ ان میں ایران سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات، اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی تقریر سے قبل مختلف وفود کا اجلاس سے واک آؤٹ اور مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی پر بڑھتی ہوئی تشویش شامل تھی۔

یہ صورتحال نئی نہیں ہے۔ اقوام متحدہ ایک طرف موسمیاتی تبدیلی پر عالمی قیادت اور مختلف ممالک کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب جنگوں اور دیگر بحرانوں کے باعث عالمی اہداف کے حصول کی کوششیں پیچیدہ ہوتی جا رہی ہیں۔

انتونیو گوتریس نے اپنی تقریر میں موسمیاتی بحران، جنگوں اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف عالمی مسائل کو ایک دوسرے سے جوڑا۔

سمندر کی سطح میں اضافے پر عالمی تعاون

جنرل اسمبلی نے سمندر کی سطح میں اضافے سے متعلق ایک اعلامیہ منظور کیا ہے۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ بڑھتے ہوئے شدید اور ناقابلِ واپسی خطرات کے باعث عالمی تعاون اور فوری، مربوط اقدامات کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔

انتونیو گوتریس نے اپنی تقریر میں موسمیاتی بحران، جنگوں اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف عالمی مسائل کو ایک دوسرے سے جوڑا۔

رواں سال کے اختتام پر اپنی مدت مکمل کرنے والے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اعتماد کمزور ہو چکا ہے اور موسمیاتی بحران دور کی وارننگ سے روزمرہ کی حقیقت بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت بھی اتنی تیزی سے آگے بڑھی ہے کہ اس کے تخلیق کار بھی حیران رہ گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ الگ الگ بحران نہیں بلکہ ایک ہی کہانی کے مختلف باب ہیں۔

گوتریس کے جانشین کا تاحال انتخاب نہیں ہوا۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اس عہدے کے لیے سات امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ مزید امیدوار بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اقوام متحدہ کا اگلا سیکریٹری جنرل موسمیاتی تبدیلی کو گوتریس کی طرح اپنی ترجیحات میں مرکزی حیثیت نہ دے۔

کولمبیا بزنس اسکول کے ماہر اقتصادیات گرنوٹ ویگنر کے مطابق رواں سال موسمیاتی شعبے میں ہونے والی بعض اہم پیش رفت اقوام متحدہ کے اقدامات کے بجائے ایران جنگ کے نتیجے میں سامنے آئی۔

ان کے مطابق جنگ نے دنیا کے کئی حصوں میں فوسل ایندھن کے متبادل ذرائع اپنانے کے عمل کو تیز کیا۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے بھی کہا کہ ایران جنگ نے عالمی توانائی کی معیشت کے حوالے سے صورتحال کو زیادہ واضح کیا ہے۔

ان کے مطابق کئی برسوں سے توانائی کے شعبے میں تین بنیادی سوالات زیرِ بحث رہے ہیں۔ کیا سب سے محفوظ توانائی کا انتخاب کیا جائے، سب سے کم لاگت والی توانائی کو ترجیح دی جائے یا سب سے صاف توانائی کا انتخاب کیا جائے؟

فاتح بیرول کے مطابق موجودہ صورتحال میں پہلی مرتبہ یہ تینوں مقاصد ایک دوسرے کے قریب آتے دکھائی دے رہے ہیں۔

بعض جزیرہ ریاستوں کے مکمل طور پر زیرِ آب آنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

سمندر کی سطح میں اضافے سے 77 کروڑ افراد کو خطرہ

سمندر کی سطح میں اضافے سے متعلق اعلامیے کا مقصد عالمی تعاون کو مضبوط بنانا اور ان ممالک کی مدد کرنا ہے جو بڑھتی ہوئی سمندری سطح سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 77 کروڑ افراد ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جو سمندر کی سطح میں اضافے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

بعض جزیرہ ریاستوں کے مکمل طور پر زیرِ آب آنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

گوتریس نے کہا کہ 2024 میں عالمی سطح سمندر تقریباً 6 ملی میٹر بلند ہوئی، جو ریکارڈ کی گئی سب سے زیادہ سالانہ شرح ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندر کی سطح میں اضافے کی رفتار بھی بڑھ رہی ہے۔

اعلامیے میں آئندہ اقدامات پر بھی زور دیا گیا ہے۔ ان میں موسمیاتی خطرات کم کرنے اور ان سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے متاثرہ ممالک کو مزید مالی معاونت فراہم کرنا شامل ہے۔

اعلامیے میں اس صورتحال کے قانونی پہلوؤں کے لیے رہنما اصول بھی شامل ہیں کہ اگر کسی ملک کا کچھ یا تمام علاقہ سمندر میں ڈوب جائے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔

اعلامیہ سمندر کی سطح میں اضافے کے باوجود ریاست کے تسلسل، خودمختاری، خودمختار حقوق و ذمہ داریوں اور اقوام متحدہ کی رکنیت کو بین الاقوامی قانون کے مطابق تسلیم کرتا ہے۔

یعنی اگر کسی ملک کے پاس رہنے کے لیے زمینی علاقہ باقی نہ رہے، تب بھی وہ ریاست قانونی طور پر اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے۔

افریقہ کا عالمی فیصلہ سازی میں مؤثر کردار کا مطالبہ

انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افریقہ کی مستقل نشست نہ ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے میں براعظم کی مناسب نمائندگی نہ ہونا غیر منصفانہ اور ناقابلِ دفاع ہے۔

متعدد عالمی رہنماؤں نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی نظام انہیں محدود اختیارات دیتا ہے، جبکہ انہیں ایسے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو دیگر ممالک کے اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔

گھانا کے صدر جان ڈرامانی مہاما نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی عالمی مساوات کا سب سے بڑا امتحان ہے۔

انہوں نے کہا کہ افریقہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 4 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن موسمیاتی تباہ کاریوں کا سب سے بھاری بوجھ برداشت کرنے والے خطوں میں شامل ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی، سمندر کی سطح میں اضافے اور عالمی عدم مساوات کے درمیان تعلق کو نمایاں کیا گیا۔

تاہم ان مسائل سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات، مالی معاونت اور عالمی تعاون اب بھی بڑے چیلنجز ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں