Environmental Reports Farozaan

موسمیاتی تبدیلی: گرمی امیروں کو ٹھنڈک، غریبوں کو موت دے گی

Climate Change: Heat Brings Cooling to the Rich, but Death to the Poor

موسمیاتی تبدیلی: 2050 تک ہر سال 4 لاکھ 30 ہزار اضافی اموات کا خدشہ، پاکستان سمیت غریب ممالک زیادہ متاثر ہوں گے۔

موسمیاتی تبدیلی عالمی سطح پر امیر اور غریب ممالک کے درمیان عدم مساوات کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جہاں امیر ممالک میں ایئر کنڈیشننگ کا استعمال تیزی سے بڑھے گا، وہیں غریب ممالک میں شدید گرمی کے باعث اموات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

2050 تک لاکھوں اضافی اموات کا خدشہ

کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی رپورٹ کے مطابق 2050 تک درجہ حرارت میں اضافے کے باعث ہر سال تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار اضافی اموات ہو سکتی ہیں۔ یہ تعداد ماضی کے موسمی حالات کے مقابلے میں ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق ان اموات میں سے تقریباً 10 گنا زیادہ کم آمدنی والے ممالک میں ہوں گی۔

تاہم دنیا کے کئی غریب ممالک میں کروڑوں افراد کو آج بھی قابلِ اعتماد اور سستی بجلی دستیاب نہیں۔

بجلی کی کمی، سب سے بڑا چیلنج

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ایئر کنڈیشننگ ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ تاہم دنیا کے کئی غریب ممالک میں کروڑوں افراد کو آج بھی قابلِ اعتماد اور سستی بجلی دستیاب نہیں۔ اسی وجہ سے وہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے خود کو محفوظ رکھنے سے قاصر ہیں۔

کلائمیٹ امپیکٹ لیب کے شریک بانی اور یونیورسٹی آف شکاگو کے پروفیسر مائیکل گرین اسٹون نے کہا کہ “ایئر کنڈیشنر جان بچانے والا ذریعہ ہے، لیکن بہت سے ممالک کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ امیر ممالک کی طرح بڑھتی ہوئی گرمی کا مقابلہ کر سکیں۔”

کم آمدنی والے ممالک میں فی فرد بجلی کے استعمال میں متوقع اضافہ صرف اتنا ہوگا کہ ایک ایل ای ڈی بلب تقریباً چار ماہ تک جلایا جا سکے۔

غریب ممالک میں بجلی کا استعمال محدود رہے گا

رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث درمیانی آمدنی والے ممالک میں ٹھنڈک کے لیے بجلی کا استعمال کم آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں سات گنا زیادہ بڑھے گا۔

کم آمدنی والے ممالک میں فی فرد بجلی کے استعمال میں متوقع اضافہ صرف اتنا ہوگا کہ ایک ایل ای ڈی بلب تقریباً چار ماہ تک جلایا جا سکے۔

“اموات اور ٹھنڈک کا جال”

رپورٹ میں 18 ممالک کے ایسے علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں مجموعی طور پر 67 کروڑ 60 لاکھ افراد رہتے ہیں۔ ان علاقوں کو “اموات اور ٹھنڈک کا جال” قرار دیا گیا ہے، جہاں شدید گرمی کا خطرہ بہت زیادہ جبکہ بجلی کے استعمال میں اضافہ نہایت محدود ہوگا۔

اندازہ ہے کہ 2050 تک صرف انہی علاقوں میں ہر سال تقریباً 3 لاکھ 77 ہزار افراد گرمی سے متعلق وجوہات کے باعث جان کی بازی ہار جائیں گے۔

پاکستان بھی متاثرہ ممالک میں شامل

یہ ممالک زیادہ تر شمالی سب صحارا افریقہ میں واقع ہیں، جن میں نائجر، مالی، برکینا فاسو اور چاڈ شامل ہیں۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور میانمار بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔

رپورٹ میں نائجر اور سعودی عرب کا موازنہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک شدید گرمی کا سامنا کرتے ہیں، لیکن سعودی عرب کے پاس ٹھنڈک کے لیے بجلی کے استعمال میں اضافہ کرنے کی کہیں بہتر صلاحیت موجود ہے۔

اندازوں کے مطابق 2050 تک نائجر میں گرم تر آب و ہوا کے باعث سعودی عرب کے مقابلے میں ہر سال 27 ہزار زیادہ جانیں ضائع ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں

کلائمیٹ برج فنڈ: این جی اوز کے لیے نئی فنڈنگ کا اعلان

نیوزی لینڈ: حکومتی پالیسیاں موسمیاتی اہداف کے لیے خطرہ بن گئیں، رپورٹ

ماہرین کی سفارشات

کلائمیٹ امپیکٹ لیب کے محقق اشون روڈے کے مطابق یہ تحقیق ان علاقوں کی نشاندہی کرتی ہے جہاں گرمی سے اموات کا خطرہ سب سے زیادہ اور ایئر کنڈیشننگ تک رسائی سب سے کم ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف بجلی کی فراہمی بہتر بنانا کافی نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ ہیٹ ارلی وارننگ سسٹمز، ہیٹ ایکشن پلانز، صحت کی سہولیات میں توسیع، شہری علاقوں میں شجرکاری اور ہدفی سماجی تحفظ کے پروگرام بھی ناگزیر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بجلی کی منڈی میں اصلاحات کو بھی موسمیاتی موافقت کا حصہ سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ مستقبل میں قابلِ اعتماد اور سستی بجلی ہی یہ طے کرے گی کہ شدید گرمی کے دوران کتنی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔




اپنا تبصرہ لکھیں