Articles Farozaan

موسمیاتی تبدیلی: ڈی جی فشریز نے بڑے خطرات سے آگاہ کردیا

Climate Change: DG Fisheries Warns of Major Threats

موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی، پانی کی قلت اور ساحلی کٹاؤ سے نمٹنے کے لیے مینگرووز کے تحفظ پر زور، ڈی جی فشریز

محکمہ فشریز سندھ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عاصم کریم نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے سمندر موسمیاتی تبدیلی کے براہِ راست اثرات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ سندھ بھی ان خطرات سے محفوظ نہیں۔

ان کے مطابق بڑھتا ہوا سمندری درجہ حرارت، ساحلی کٹاؤ، پانی کی قلت، شدید گرمی اور موسمی بے یقینی مستقبل کے لیے سنگین چیلنجز ہیں۔

وہ پانچویں کراچی کلائمیٹ فیسٹیول سے خطاب کر رہے تھے۔

وہ پانچویں کراچی کلائمیٹ فیسٹیول سے خطاب کر رہے تھے۔

سمندری درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ

ڈاکٹر عاصم کریم نے کہا کہ عالمی سائنس دانوں کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں سمندری پانی کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اس کے نتیجے میں سمندری حیاتیاتی تنوع، مرجانی چٹانیں، مچھلیوں کی افزائش اور ان کی قدرتی نقل مکانی کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سمندروں کی بڑھتی ہوئی گرمی صرف عالمی غذائی تحفظ ہی نہیں بلکہ ان کروڑوں افراد کے روزگار کے لیے بھی خطرہ ہے، جو اپنی معاشی ضروریات کے لیے ماہی گیری پر انحصار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 350 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی رکھنے والا سندھ ان عالمی تبدیلیوں سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔

سندھ کے ساحلی وسائل کو خطرات

انہوں نے کہا کہ تقریباً 350 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی رکھنے والا سندھ ان عالمی تبدیلیوں سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ بحیرہ عرب کے درجہ حرارت میں اضافہ، سمندری طوفانوں کی شدت اور ساحلی ماحولیاتی نظام پر بڑھتا ہوا دباؤ واضح تنبیہ ہے کہ سمندری وسائل کے تحفظ، پائیدار ماہی گیری اور مینگرووز کے فروغ کو قومی ترجیحات میں شامل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اداروں، ماہرین، ماہی گیر برادری اور سول سوسائٹی کے باہمی تعاون سے ان چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور صحت مند سمندری ماحول یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

ڈی جی فشریز نے کہا کہ کراچی کی موجودہ صورتحال کسی حد تک سمندر کی کیفیت کی عکاسی کرتی ہے۔

آبی حیات کی نقل مکانی اور آلودہ پانی کا مسئلہ

ڈی جی فشریز نے کہا کہ کراچی کی موجودہ صورتحال کسی حد تک سمندر کی کیفیت کی عکاسی کرتی ہے۔ سمندر میں بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث آبی حیات نقل مکانی کر رہی ہے، جبکہ آلودہ پانی کے مسلسل اخراج سے سمندر کا قدرتی نظام بھی متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مختلف مطالعات کے مطابق روزانہ تقریباً 700 ملین گیلن آلودہ پانی سمندر میں شامل ہو رہا ہے، جو انتہائی تشویشناک ہے۔

ڈاکٹر عاصم کریم کے مطابق ماحولیاتی مسائل پر کام کرنے والی تنظیموں کو حکومتی اداروں کے ساتھ رابطے میں رہنا چاہیے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ محکمہ فشریز ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

تنقید برائے تنقید کے بجائے اصلاح کے جذبے کے تحت ہونی چاہیے تاکہ اداروں کی کارکردگی مزید بہتر ہو سکے۔

فشریز کمیونٹی کے لیے فیول سبسڈی

ڈاکٹر عاصم کریم نے کہا کہ محکمہ فشریز ایک انقلابی اقدام کے تحت چھوٹی کشتیوں پر ماہی گیری کرنے والے افراد کے لیے فیول سبسڈی متعارف کرا رہا ہے، جس کے تحت فی بوٹ ایک سے دو لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ محکمہ فشریز کمیونٹی کی استعداد کار بڑھانے اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کے لیے بھی مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر فشریز کمیونٹی یا اس شعبے سے وابستہ تنظیموں کے پاس مزید تجاویز ہوں تو محکمہ ان کا خیرمقدم کرے گا تاکہ صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر فشریز کمیونٹی یا اس شعبے سے وابستہ تنظیموں کے پاس مزید تجاویز ہوں تو محکمہ ان کا خیرمقدم کرے گا تاکہ صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

تعمیری تنقید کی ضرورت

انہوں نے کہا کہ تنقید ضرور کی جائے، لیکن وہ تعمیری اور مثبت ہونی چاہیے۔ تنقید برائے تنقید کے بجائے اصلاح کے جذبے کے تحت ہونی چاہیے تاکہ اداروں کی کارکردگی مزید بہتر ہو سکے۔

ان کے مطابق سندھ خصوصاً شدید گرمی، پانی کی قلت، ساحلی کٹاؤ اور موسمی بے یقینی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

سندھ موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر

ڈی جی فشریز نے کہا کہ دنیا اس وقت غیر معمولی موسمیاتی بحران سے گزر رہی ہے۔ بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت، شدید گرمی کی لہریں، غیر متوقع بارشیں، سیلاب اور خشک سالی اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی مستقبل نہیں بلکہ موجودہ دور کا مسئلہ بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ نہایت کم ہے۔

ان کے مطابق سندھ خصوصاً شدید گرمی، پانی کی قلت، ساحلی کٹاؤ اور موسمی بے یقینی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

ایسے حالات میں ماحول دوست طرزِ زندگی، قدرتی وسائل کا تحفظ اور اجتماعی شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ اور پائیدار مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔

شدید گرمی سے بچاؤ اور ساحلی آبادیوں کے مسائل

ڈاکٹر عاصم کریم نے کہا کہ شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ شہری علاقوں میں رہنے والے افراد سمیت ہر شخص کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر فشریز کمیونٹی کی بات کی جائے تو ساحلی علاقوں کے رہائشی نسبتاً زیادہ مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ کئی علاقوں میں بجلی موجود نہیں، جبکہ جہاں بجلی ہے وہاں بھی 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود ماہی گیر سمندر میں طغیانی یا شدید گرمی کے دوران حفاظتی اقدامات سے آگاہ ہوتے ہیں، کیونکہ فشرمین سوسائٹی اور دیگر تنظیمیں مسلسل محکمہ فشریز کے ساتھ رابطے میں رہتی ہیں اور ان کی تجاویز کی روشنی میں اقدامات کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

یورپ کے بعد امریکا میں بھی گرمی کا ریڈ الرٹ

سویڈن میں موسمیاتی احتجاج، حکومت دباؤ میں

مقامی درخت لگانے پر زور

ڈی جی فشریز نے کہا کہ درختوں کی کمی گرمی کی شدت میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ شجرکاری کے بجائے درخت کاٹے جا رہے ہیں، جبکہ جو نئے درخت لگائے جاتے ہیں ان میں بھی زیادہ تر غیر مقامی اقسام شامل ہوتی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ مقامی درختوں کو ترجیح دی جائے اور درخت لگانے کے بعد ان کی حفاظت بھی یقینی بنائی جائے۔ ان کے مطابق اگر ہر شہری صرف ایک درخت لگا کر اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری لے تو گرمی کی شدت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں