Farozaan

ہاتھی کا عالمی دن: ہاتھی کی بھی سنو

ہاتھی کی بھی سنو: جنگلات کی کٹائی، پانی کی کمی، شدید گرمی، خشک سالی اور غیر قانونی شکار ہاتھیوں کی بقا کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔

ماحولیاتی آلودگی نے کسی کو معاف نہیں کیا۔ کرۂ ارض کا ہر جاندار انسانی سرگرمیوں کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ ہماری زمین کے سب سے بڑے اور عظیم الجثہ قدرتی شاہکار ہاتھی کو بھی اس سے استثنا حاصل نہیں۔ حد یہ ہے کہ خطرات اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ خدا نخواستہ دنیا اس قیمتی نوع سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے۔

اس حقیقت کو بھانپتے ہوئے ضروری ہے کہ ہر فرد کو آگاہی دی جائے کہ کس طرح آلودگی کے عفریت پر قابو پا کر ہم قدرتی و جنگلی حیات کو بچا سکتے ہیں اور درحقیقت خود کو بھی محفوظ بنا سکتے ہیں۔ اسی لیے ہر سال 12 اگست کو عالمی سطح پر ہاتھیوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد افریقہ اور ایشیا کے ہاتھیوں کو محفوظ رکھنا، ان کے مساکن کو بچانا اور ان کا غیر قانونی شکار روکنا ہے۔

اسی کے ساتھ اس مقصد کے لیے فنڈز بھی مختص کیے گئے۔

ہاتھیوں کے عالمی دن کا آغاز

ہاتھیوں کا عالمی دن منانے کی ابتدا 2012 میں اس وقت ہوئی جب کینیڈا کی فلم ساز پٹریکا سمز اور تھائی لینڈ کی ملکہ کی سرپرستی میں ہاتھیوں کی بہبود پر کام کرنے والی تنظیم ری انٹروڈکشن فاؤنڈیشن نے دنیا کے ہاتھیوں کو بچانے کے لیے مل کر اشتراکِ عمل سے کام کرنے کا فیصلہ کیا۔

کینیڈین فلم ساز پٹریکا سمز کے ہاتھیوں کے بچاؤ کے کام کو پذیرائی ملی۔ اسی کے ساتھ اس مقصد کے لیے فنڈز بھی مختص کیے گئے۔ دنیا بھر سے کم از کم سو ہاتھیوں کی نقل و حرکت، خوراک، صحت اور افزائشِ نسل پر باقاعدہ نگرانی کا نظام وضع کیا گیا۔ رفتہ رفتہ پذیرائی ملنے پر ہاتھیوں کے بچاؤ کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا۔

بہت سے ہاتھیوں کی موت اس لیے ہو جاتی ہے کہ انہیں پانی نہیں ملتا اور پیاس ان کی جان لے لیتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور ہاتھیوں کو خطرات

دیگر جنگلی حیات کی طرح ہاتھی کو بھی ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے کئی خطرات کا سامنا ہے، جن میں جنگلات کا کٹاؤ، ہاتھیوں کا قتلِ عام اور ماحولیاتی تبدیلیاں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

یقیناً ماحولیاتی آلودگی کا شاخسانہ ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں، جو ہاتھی جیسے اہم جاندار کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہو رہی ہیں۔ ان میں خاص طور پر پانی کی کمی خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔

ایک بالغ اور صحت مند ہاتھی کو روزانہ 150 سے 200 لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طور پر افریقہ کے وہ ہاتھی جو سوانا میں رہتے ہیں، ان کے جسم سے تیزی سے پانی خارج ہوتا ہے۔ بہت سے ہاتھیوں کی موت اس لیے ہو جاتی ہے کہ انہیں پانی نہیں ملتا اور پیاس ان کی جان لے لیتی ہے۔

دوسری مصیبت ماحول کا تیزی سے بڑھتا ہوا درجہ حرارت، ہریالی کی کمی، خشک سالی اور بے موسمی بارشیں ہیں، جنہوں نے بھی ان کی زندگی دوبھر کر دی ہے۔

بارشوں کی کمی سے کام کے اور ضرورت کے درخت اور پودے گھٹ رہے ہیں، جس کی وجہ سے ہاتھی کو خوراک کی کمی کا سامنا بھی ہے۔ خوراک اور پانی کی کمی بوڑھے ہاتھیوں کے لیے زیادہ جان لیوا ہے۔ اپنے جسم کی غذائی ضروریات کو پورا نہ کر سکنے کی وجہ سے وہ کمزور ہو جاتے ہیں اور باآسانی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

سخت گرمی، ماحولیاتی آلودگی اور پانی کے کم ہوتے ذخائر جہاں باقی جانداروں کے لیے پریشان کن ہیں، وہاں ہاتھی جیسے بڑے جانوروں کے لیے یہ سب برداشت کرنا آسان نہیں۔

ان سب حالات کی سنگینی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب ان کا ظالمانہ شکار بھی شروع کر دیا جاتا ہے۔

مساکن کی بربادی اور بیماریوں کا خطرہ

موسمی تبدیلیاں، دریاؤں کے بہاؤ، برف کے پگھلاؤ، سیلابوں، زلزلوں اور آفات کے ساتھ انسانی سرگرمیاں، خاص طور پر جنگلات کی بے دریغ کٹائی، مساکن کی بربادی اور نسل آگے بڑھانے کے لیے پرسکون ماحول کا میسر نہ ہونا بھی ہاتھیوں کو بربادی سے دوچار کیے ہوئے ہیں۔

موسمی تبدیلیاں ہریالی کی مقدار، خوراک کی فراوانی اور پانی کی دستیابی کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ اس وجہ سے جنگلی حیات، خاص طور پر ہاتھیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

آلودگی کے باعث طرح طرح کے امراض لاحق ہو رہے ہیں۔ موسمی تغیرات کے باعث متعدد جرثومے پیدا ہو کر انہیں فٹ اینڈ ماؤتھ بیماری میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ان سب حالات کی سنگینی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب ان کا ظالمانہ شکار بھی شروع کر دیا جاتا ہے۔

اسی طرح یہ لیڈر ہتھنیاں جانتی ہیں کہ کون سے علاقے میں ان کے دشمن موجود ہیں، جو ان کے بچوں پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔

ماحولیاتی نظام میں ہاتھیوں کا اہم کردار

بظاہر تو ہماری روزمرہ زندگی میں ہاتھی کا کوئی قابلِ ذکر کردار نظر نہیں آتا، لیکن قدرت کے بنائے ہوئے ماحولیاتی نظام میں ہاتھیوں کی اہمیت اپنی جگہ پر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ان کا شکار نہ صرف ماحول دوست جانور کو ختم کر رہا ہے بلکہ ماحولیاتی نظام میں ان کا جو کردار ہے، وہ کوئی اور ادا بھی نہیں کر سکتا۔

قدرت کی شان ہے کہ ہاتھی سمجھ دار اور مل جل کر رہنے والا سماجی جانور ہے۔ ان میں موجود عمر رسیدہ مادہ ہتھنی عقل مند ہوتی ہے۔ وہ باخبر ہوتی ہے کہ جنگل کے کس حصے میں کون سا موسم، کتنا پانی اور خوراک دستیاب ہے۔

اسی لیے یہ مادہ ہاتھی اپنے قبیلے کی رہنمائی کرکے انہیں زندگی کی آسائشیں مہیا کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔ اسی طرح یہ لیڈر ہتھنیاں جانتی ہیں کہ کون سے علاقے میں ان کے دشمن موجود ہیں، جو ان کے بچوں پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔

ان کے حساس دل کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ان کے قبیلے کا کوئی ہاتھی کسی بھی وجہ سے موت کی وادی میں اتر جائے تو ان میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ دوسرے ہاتھی مردہ ہاتھی کے گرد جمع ہو کر آنسو بہاتے اور اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

یوں ہاتھی کے دانت حاصل کرنے کے لیے زمین کے اتنے بڑے جاندار کو ہوس کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔

ہاتھی دانت، شکار اور انسانی لالچ

ہاتھیوں کی ایسی انواع جن کے ہاتھی دانت (ٹسک) قدرے بڑے ہوتے ہیں، ان کے لیے یہ خوبصورت دانت قدرتی تحفے کے بجائے جان کا دشمن بن جاتے ہیں۔ انسان انہیں ہدف بنا کر شکار کرتا ہے۔

یوں ہاتھی کے دانت حاصل کرنے کے لیے زمین کے اتنے بڑے جاندار کو ہوس کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ دانت ان کے لیے عطیۂ خداوندی ہیں، کیونکہ ان کی مدد سے وہ بڑے بڑے درختوں اور جھاڑیوں کو صاف کرتے، پانی نکالتے اور کھدائی کرتے ہیں۔

لیکن انسان اس فطری سہولت کو ناپسند کرتے ہوئے صرف اپنی تجارتی ضروریات کو دیکھتا ہے۔ حالانکہ ایک ماحولیاتی نظام میں انہیں ’’انجینئرز‘‘ کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ جنگلوں میں رہتے ہوئے جڑی بوٹیوں اور پودوں کے بیجوں کو پھیلاتے ہیں۔

جنگلات میں بہت سے درخت اس لیے اگتے ہیں کہ ہاتھی پرانے درختوں کو اکھاڑ پھینکتے ہیں، جن کے بیج بکھر جاتے ہیں اور نئے درختوں کو اگنے کا موقع مل جاتا ہے۔

ان کے اس کردار کی وجہ سے جنگلات آباد اور سرسبز ہیں اور دوسری جنگلی حیات کو فطری مساکن مل رہے ہیں۔ درختوں کی افزائش کے باعث ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کم ہو جاتی ہے اور فضا کو صاف و صحت مند بنانے میں مدد ملتی ہے۔

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسے جنگلات جہاں ہاتھی مار دیے گئے ہیں یا ان کی آبادی گھٹا دی گئی ہے، وہاں کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زیادتی سے ماحول آلودہ رہتا ہے، کیونکہ اس گیس کو جذب کرنے والے درخت موجود نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

چودہ اگست اور پاکستان کا ماحولیاتی مستقبل

انگلینڈ میں 36 ڈگری کی قیامت؟ امبر ہیلتھ الرٹ جاری

ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات

ہاتھیوں کا عالمی دن اس برس کرۂ ارض کے انسانوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ درج ذیل اقدامات اٹھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں تاکہ ہمارا سیارہ اس بے نظیر شاہکار سے محروم نہ ہو جائے۔

دانتوں اور جسم سے بنی اشیا کا مکمل بائیکاٹ ضروری ہے تاکہ ہاتھیوں کے غیر قانونی شکار کی حوصلہ شکنی ہو اور شکاری ان معصوم جانوروں کی زندگی کا سودا چھوڑ دیں۔

ایسی تمام تنظیموں کی مدد اور مالی تعاون کو یقینی بنایا جائے جو جنگلی حیات، خاص طور پر ہاتھیوں کے تحفظ پر کام کر رہی ہیں۔ تمام تنظیموں اور اداروں کی مالی مدد کی جائے جو ہاتھیوں کی نسل بڑھانے اور زخمی ہاتھیوں کا علاج کرواتی ہیں۔

شجرکاری مہم میں بھرپور شرکت کی جائے۔ نئے جنگلات لگانے والے اداروں سے تعاون کیا جائے اور موجودہ جنگلات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ ہر قوم اور مملکت کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

تعلیمی اداروں میں جنگلی حیات کے تحفظ اور ان ممالک کے عوام میں، جہاں ہاتھی پائے جاتے ہیں، ان کے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی اور شعور بیدار کیا جائے۔

انسان نے اپنے ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ماحول دوست اقدامات اٹھا کر ہاتھیوں سے وفا نہ کی اور ان کی آواز نہ سنی تو اپنی بقا سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

admin

Recent Posts

خواتین، فطرت اور سبز انقلاب: ترقی کے ماڈل پر ازسرِنو غور

خواتین، خصوصاً دیہی اور مقامی خواتین کی آواز، روایتی علم اور کردار کو تسلیم کرنا…

14 hours ago

موسمیاتی بحران: سویڈن میں انتخابات سے قبل 10 ہزار افراد کا احتجاج

موسمیاتی بحران پر مؤثر اقدامات کے لیے اسٹاک ہوم میں 10 ہزار افراد نکل آئے،…

19 hours ago

مٹی، کسان اور بیج کا رشتہ تباہی اور بربادی کے دھانے پر

بیج کی اسیری اور دسترخوان کی آزادی: جی ایم او زراعت، تیسری دنیا، غذائی خودمختاری…

2 days ago

انکار سے پروپیگنڈے تک: کریملن کا نیا موسمیاتی ہتھیار

انکار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، کریملن نے موسمیاتی تبدیلی کو یورپی یونین مخالف پروپیگنڈے اور…

3 days ago

کراچی پورٹ کوریڈور: ترقی یا ماحولیاتی خطرہ؟

کراچی پورٹ کوریڈور: رہائشی علاقوں کے تحفظ کے لیے ماحولیاتی منظوری فوری طور پر روکنے…

4 days ago

لال مرچ اور بدلتا موسم

لال مرچ اور بدلتا موسم، کنری کی پہچان، معیشت اور کسانوں کو موسمیاتی تبدیلی اور…

5 days ago

This website uses cookies.