Farozaan

سال2025کی موسمیاتی تباہی: یہ قدرتی آفت نہیں

سال2025 کی موسمیاتی تباہی کی وجوہات میں فوسل فیول، غلط ترقیاتی پالیسیاں اور ماحولیاتی ناانصافی شامل ہیں، یہ بحران نظام کی ناکامی ہے۔

سال 2025 کی موسمیاتی تباہی کے حوالے سے یاد رکھنا چاہئے کہ یہ قدرتی آفتوں کا سال نہیں تھا۔یہ ایک سیاسی سال تھا جس میں زمین جلی، شہر ڈوبے، فصلیں برباد ہوئیں، لوگ مرے،مگر نظام محفوظ رہا۔

سال 2025 کو اگر محض موسمیاتی آفات کا مجموعہ سمجھا گیاتو یہ ایک سنگین غلطی کے مترادف ہو گا۔

یہ سال دراصل اس عالمی معاشی و سیاسی ڈھانچے کا بے رحم اظہار تھا جو ترقی، سرمایہ اور طاقت کے نام پر زمین کو قربان کر رہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اب محض سائنسی اصطلاح نہیں رہی یہ ایک طبقاتی، نوآبادیاتی اور سامراجی بحران کی شکل اختیار کرچکی ہے جس کی قیمت وہ ادا کر رہے ہیں جنہوں نے اس تباہی میں سب سے کم کردار ادا کیا۔

سال 2025: جب ریکارڈ ٹوٹے، قبریں بھریں

دنیا کے موسمیاتی ادارے اسے تاریخ کے گرم ترین برسوں میں شمار کر رہے ہیں۔ مگر اس ’’ریکارڈ‘‘کا مطلب کیا ہے؟یہ کوئی میڈل نہیں،یہ لاشوں، اجڑی بستیوں اور برباد معیشتوں کا حساب ہے۔

رواں سال درجہ حرارت،سیلاب سمیت دیگر مظاہرنے وہ حدیں عبور کیں جن کے بارے میں سائنس دان برسوں سے خبردار کر رہے تھے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ گرمی کی لہریں قاتل بن

گئیں،بارشیں زندگی دینے کے بجائے

سیلاب لے آئیں،سمندر ترقی نہیں، تباہی

ساحلوں تک لے آئے اور یہ سب کچھ

اچانک نہیں ہوا۔

یہ وہی مستقبل ہے جو ہمیں فوسل فیول لابی، ترقی کے جعلی نعروں اور خاموش عالمی اداروں نے تحفے میں دیا۔

سال2025 کی موسمیاتی تباہی: آفات نہیں، جرم ہو رہے تھے

اس سال ہیٹ ویوز کے نتیجے میں ہونے والے خاموش قتلِ عام نے یورپ سے جنوبی ایشیا تک ہزاروں جانیں لیں۔ مگر ان اموات کو’’قدرتی‘‘کہہ کر فائلوں میں دفن کر دیا گیا۔

یہ سوال کسی نے نہیں پوچھا کہ شہروں کو کنکریٹ کا تندور کیوں بنایا گیا؟

مزدوروں کو 45 ڈگری میں کیوں کام پر مجبور کیا گیا؟

پانی اور بجلی جیسے بنیادی حقوق کو کیوں منڈی کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا؟

اس کو موسمیاتی حادثہ قرار نہیں دیا جا سکتایہ پالیسیوں کی واضع ناکامی تھی۔

سیلاب: ترقی کا الٹا چہرہ

ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا میں سیلابوں نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ ’’ترقی‘‘دراصل کن کے لیے ہے۔ ڈیم، سڑکیں، ہاؤسنگ اسکیمیں اور ساحلی منصوبے،سب کچھ بچ گیا، مگر غریب کی بستیاں بہہ گئیں۔

سال2025 کے سیلابوں نے ثابت کیا کہ پانی راستہ نہیں بھولتا، ہم زمین کا احترام بھول گئے ہیں۔ندی نالوں پر قبضے، جنگلات کی کٹائی اور غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ اب قتل کے ہتھیار بن چکے ہیں۔

سال2025 کی موسمیاتی تباہی کوئی اتفاق نہیں۔ یہ فوسل فیول، غلط ترقی اور ماحولیاتی ناانصافی کا منطقی انجام ہے۔

پاکستان: تجربہ گاہ بنا دیا گیا

پاکستان کوئی ’’متاثرہ ملک‘‘ نہیں رہا ہے یہ اب موسمیاتی تجربات کی تجربہ گاہ بن چکا ہے۔

سال2025میں شمال میں گلیشیئر پھٹے، میدانوں میں سیلاب آیا،شہروں میں نکاسی آب کا نظام ناکام ہوا،گرمی نے غریب کو چن چن کر مارا اور ریاست؟

وہ یا تو امدادی تصاویر میں مصروف رہی، یا عالمی فورمز پر”کلائمیٹ وکٹم“کا کارڈ کھیلتی رہی بغیر اندرونی ماحولیاتی ناانصافیوں کو چھیڑے۔یہ وہی ملک ہے جہاں دریا بیچے جا رہے ہیں۔

ساحل نجی منصوبوں کے حوالے ہو رہے ہیں،جنگلات اعداد و شمار میں بڑھ رہے ہیں، زمین پر گھٹ رہے ہیں۔

سال2025 کی موسمیاتی تباہی: نقصان کا حساب جو کبھی پورا نہیں ہو سکتا

سال2025 میں عالمی سطح پر موسمیاتی آفات سے ہونے والا نقصان سینکڑوں ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ مگر یہ صرف وہ نقصان ہے جسے ناپا جا سکتا ہے۔

مگر کون ناپے گا،بے گھر ہونے والے بچوں کا مستقبل؟کسان کی زمین کے ساتھ دفن ہونے والی خودداری؟

ماں کی وہ قبر جو سیلاب میں بہہ گئی؟یہ وہ خسارہ ہے جس کا کوئی آئی ایم ایف فارمولا نہیں۔

2023، 2024، 2025،ہر سال ہمیں ایک ہی کہانی سنا رہا ہے، مگر ہم انکار میں جی رہے ہیں۔موسمیاتی آفات بڑھ رہی ہیں،وقت کم ہوتا جا رہا ہے اور طاقت ور بدستور محفوظ ہیں،یہ موسمیاتی بحران نہیں، یہ نظام کی ناکامی ہے۔

سال2026: مستقبل یا سزا؟

ماہرین کہہ رہے ہیں کہ سال2025 کی موسمیاتی تباہی کے بعد یہ واضح ہے کہ 2026 میں گرمی مزید بڑھے گی،بارش مزید بے قابو ہوگی،سمندر مزید جارحانہ ہوگا۔

مگر اصل سوال یہ نہیں کہ موسم کیا کرے گا؟ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کیا نہیں کریں گے؟

کیا ہم فوسل فیول کو سبسڈی دیتے رہیں گے؟

ترقی کو ماحول کی لاش پر کھڑا کرتے رہیں گے؟

موسمیاتی انصاف کو محض کانفرنسوں تک محدود رکھیں گے؟یہ وقت مضمون لکھنے کا نہیں،یہ وقت موقف لینے کا ہے۔

سن2025 نے ہمیں بتا دیا ہے کہ یا تو ہم نظام کو بدلیں گے،یا نظام ہمیں بدل کر رکھ دے گا۔

ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ ماحولیاتی بحران کے خلاف جدوجہد صرف درخت لگانے کی مہم نہیں رہی اب یہ زمین، پانی، ہوا اور انسان کے حق کی جدوجہد بن چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فی کس قابلِ تجدید پانی میں 7٪ کمی: آبی بحران کی وارننگ

گلگت کی آلودہ فضا: بچوں کے لیے سانس لینا مشکل

سال 2026 کسی نئی شروعات کا وعدہ نہیں کر رہا۔یہ صرف ہمیں ایک سوال دے رہا ہے کہ کیا ہم تباہی کے اس تسلسل کو قبول کر چکے ہیں؟

یا اب بھی مزاحمت زندہ ہے؟

سال2025 کی موسمیاتی تباہی نے ثابت کر دیا کہ یہ بحران موسم کا نہیں، طاقت، ترقی اور پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

1 day ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

This website uses cookies.