Farozaan

پانی، درخت اور صاف ہوا کو لامحدود قدرتی وسائل سمجھنا سب سے بڑی غلط فہمی

پانی کی مستقل ضرورت دریائے سندھ بھی پوری نہیں کرسکتا، پلاسٹک کا استعمال انسانی صحت کےلیے بڑا خطرہ، سی پی اے کانفرنس میں ماہرین کی تنبیہ

سندھ اسمبلی میں منعقدہ دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن (سی پی اے) کانفرنس کے دوسرے روز ماحولیاتی مسائل مرکزی موضوع بن گئے، جہاں ماہرین، قانون سازوں اور سماجی کارکنوں نے متفقہ طور پر خبردار کیا کہ پانی، درخت اور صاف ہوا جیسے قدرتی وسائل لامحدود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان وسائل کا بے دریغ استعمال نہ روکا گیا تو آنے والے برسوں میں ملک کو سنگین ماحولیاتی اور انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کانفرنس کی میزبانی سینیٹر شیری رحمان نے کی، جبکہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور آلودگی کے بڑھتے خطرات پر تفصیلی گفتگو کی۔

پلاسٹک آلودگی اور صحت کے خطرات

اجلاس میں پلاسٹک کے بڑھتے استعمال کو انسانی صحت کے لیے تشویشناک قرار دیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ روزمرہ زندگی میں پلاسٹک کا بے دریغ استعمال کئی مہلک بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ خاص طور پر بریسٹ کینسر جیسے امراض سے اس کا تعلق ظاہر کیا گیا۔

شرکاء نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ کتابوں کی بائنڈنگ اور دیگر اشیاء میں استعمال ہونے والا پلاسٹک بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ مؤثر ری سائیکلنگ نظام نہ ہونے کے باعث مسئلہ مزید شدت اختیار کر رہا ہے، جبکہ صنعتیں کم لاگت اور ماحول دوست متبادل اختیار کرنے سے گریزاں ہیں۔

سینیٹر شیری رحمان سی پی اے کانفرنس کے دوسرے روز سیشن کی میزبانی کر رہی ہیں12

پانی کی کمی، سنگین قومی مسئلہ

ماہرین نے خبردار کیا کہ پانی کو لامحدود وسیلہ سمجھنا سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر تقریباً ختم ہو چکے ہیں، جبکہ پنجاب میں میٹھے پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ بھی ہمیشہ کے لیے پانی فراہم نہیں کر سکتا۔ مون سون بارشیں وقتی سہارا تو دیتی ہیں، مگر بعض اوقات یہی بارشیں سیلاب کی صورت میں تباہی کا باعث بن جاتی ہیں۔

حکومتی اقدامات اور ٹیکنالوجی کا استعمال

رکن قومی اسمبلی تمکین اختر نیازی نے خطاب میں کہا کہ صاف پانی کی فراہمی اور جدید واٹر ٹریٹمنٹ سسٹمز وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں فضائی آلودگی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں

گلگت بلتستان میں موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ای کیئر پروگرام شروع

ہالیجی جھیل : مہمان پرندوں کی پناہ گاہ آلودگی اور پانی کی کمی کے باعث ویران ہو رہی ہے

اجلاس میں بتایا گیا کہ وفاقی سطح پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) سیٹلائٹ امیجنگ کے ذریعے سیلاب، ہیٹ ویو اور خوراک و پانی کی کمی جیسے خطرات کی نگرانی کر رہا ہے تاکہ بروقت فیصلے کیے جا سکیں۔

اجتماعی ذمہ داری پر زور

کانفرنس کے اختتام پر مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی تحفظ صرف حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی شعور اور عملی اقدامات کے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر آج سنجیدہ فیصلے نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو پانی، خوراک اور صحت جیسے بنیادی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

  1. ↩︎
  2. ↩︎
admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

1 day ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

This website uses cookies.