Farozaan

درآمدی ایندھن سے نجات،پاکستان کو پائیدار توانائی نظام کی ضرورت

درآمدی ایندھن سے نجات، الیکٹرک گاڑیوں کی آسان فنانسنگ، آر ایل این جی بجلی گھروں پر نظرثانی، صاف توانائی کے فروغ پر زور

ملتان : پاکستان میں درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور پائیدار توانائی نظام کو فروغ دینے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی آسان فنانسنگ، مائع قدرتی گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کی پالیسی پر نظرثانی اور شمسی و ہوائی توانائی میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق توانائی کا مسئلہ صرف بجلی کی پیداوار تک محدود نہیں۔ اس کا براہ راست تعلق ملکی معیشت، ماحولیاتی تحفظ اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے بھی ہے۔ تیل اور گیس کی درآمد پر زیادہ انحصار ملکی معیشت پر مالی دباؤ بڑھاتا ہے۔ فوسل فیول کے استعمال سے فضائی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

ان مسائل کے حل اور حکومت پاکستان کی توجہ صاف توانائی کی جانب مبذول کرانے کے لیے ملتان میں دوآبہ فاؤنڈیشن نے گرو گرین نیٹ ورک اور انڈس کنسورشیم کے تعاون سے عوامی فورم منعقد کیا۔ فورم کا عنوان ’’درآمدی ایندھن سے نجات: توانائی کا تحفظ اور صاف ستھری نقل و حرکت یقینی بنانا‘‘ تھا۔

فورم میں اس بات پر غور کیا گیا کہ پاکستان کس طرح درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرکے زیادہ محفوظ، ماحول دوست اور پائیدار توانائی نظام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

اجلاس میں محمد اجمل خان چانڈیہ، پارلیمانی سیکرٹری برائے اعلیٰ تعلیم اور رکن پنجاب اسمبلی، سابق رکن پنجاب اسمبلی سبین گل خان، دوآبہ فاؤنڈیشن کے منیجر پروگرامز جاوید اقبال، شعبہ موسمیاتی تبدیلی، ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر مقرّب علی، فارمرز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر غلام مصطفیٰ اور سابق رکن پنجاب اسمبلی عامر سعید انصاری سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

اس موقع پر شازیہ سرور، شائستہ بخاری، تنزیلہ، ماہرین، اراکین پارلیمنٹ، سول سوسائٹی کے نمائندے، صحافی، ماحولیاتی کارکن اور قابل تجدید توانائی کے شعبے سے وابستہ افراد بھی موجود تھے۔

فورم میں دو اہم مطالبات پیش کیے گئے، جن کی شرکا نے حمایت کی اور دستاویز پر دستخط کرکے اپنی توثیق کی۔

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے آسان فنانسنگ کا مطالبہ

فورم میں دو اہم مطالبات پیش کیے گئے، جن کی شرکا نے حمایت کی اور دستاویز پر دستخط کرکے اپنی توثیق کی۔

پہلے مطالبے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے اپیل کی گئی کہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے خصوصی رعایتی فنانسنگ پالیسی متعارف کرانے پر غور کیا جائے۔ اس پالیسی کے تحت کمرشل بینکوں کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے کی ترغیب دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد ماحول دوست نقل و حمل اپنا سکیں۔

مطالبے میں موجودہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کو مقامی سطح پر برقی گاڑیوں میں تبدیل کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ رکشوں اور رائیڈ ہیلنگ نیٹ ورکس کو بجلی پر منتقل کرنے کے لیے سہولتیں دینے کی تجویز پیش کی گئی۔

فورم کے شرکا نے یونیورسٹی کے طلبہ، بالخصوص نوجوان خواتین اور نوجوانوں کے لیے بھی مالی معاونت کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی طرف منتقل ہوسکیں۔

مطالبے میں پاکستان بھر میں قابل تجدید توانائی سے چلنے والے چارجنگ اسٹیشنز کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کی سفارش بھی کی گئی۔

شرکا کے مطابق ایسے اقدامات سے صاف ستھری ٹرانسپورٹ کو فروغ ملے گا، توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور طویل مدت میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے اہداف حاصل کیے جاسکیں گے۔

اس کے ساتھ ایل این جی سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی مزید توسیع اور استعمال کے لیے کیے جانے والے وعدوں اور منصوبوں پر بھی نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا۔

آر ایل این جی بجلی گھروں کی پالیسی پر نظرثانی

دوسرے مطالبے میں حکومت پاکستان سے کہا گیا کہ ری گیسیفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) سے چلنے والے بجلی گھروں کو قبل از وقت ریٹائر کرنے یا متبادل مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔

اس کے ساتھ ایل این جی سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی مزید توسیع اور استعمال کے لیے کیے جانے والے وعدوں اور منصوبوں پر بھی نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا۔

فورم کے شرکا کے مطابق بجلی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے گردشی قرضے اور درآمدی فوسل فیول پر انحصار ملکی معیشت کے لیے اہم چیلنجز ہیں۔ اس لیے عوامی وسائل کو درآمدی ایندھن پر خرچ کرنے کے بجائے شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبوں اور ان سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر خرچ کیا جانا چاہیے۔

شرکا نے کہا کہ مقامی قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے سے پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات زیادہ پائیدار اور ماحول دوست انداز میں پوری کرسکتا ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے آسان فنانسنگ کا مطالبہ بظاہر مالیاتی معاملہ ہے،

الیکٹرک گاڑیاں، فضائی آلودگی میں کمی کا ذریعہ

آسان فنانسنگ کا مطالبہ بظاہر مالیاتی معاملہ ہے، لیکن الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے اثرات ماحول اور شہری زندگی پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کے بڑے شہروں میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، پرانی گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اور پٹرول و ڈیزل کا استعمال فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ نقل و حمل کے شعبے کو بتدریج بجلی پر منتقل کرنے سے اس آلودگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم اس منتقلی کے ماحولیاتی فوائد بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ بجلی کا زیادہ حصہ شمسی اور ہوائی توانائی جیسے قابل تجدید ذرائع سے حاصل کیا جائے۔

برقی گاڑیوں کا فروغ صرف نئی گاڑیاں خریدنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ موجودہ موٹر سائیکلوں، رکشوں اور دیگر دو یا تین پہیوں والی گاڑیوں کو مقامی سطح پر برقی گاڑیوں میں تبدیل کرنے کے اقدامات بھی اہم ہیں۔

اسی طرح رکشہ ڈرائیوروں اور رائیڈ ہیلنگ نیٹ ورکس کو آسان مالی سہولتیں فراہم کرکے اس منتقلی کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

نوجوانوں اور خواتین کو اس عمل میں شامل کرنا بھی ضروری ہے۔ جامعات میں زیر تعلیم طلبہ کے لیے ماحول دوست سفری سہولتیں آلودگی کم کرنے کے ساتھ تعلیم اور روزگار تک رسائی کے نئے امکانات پیدا کرسکتی ہیں۔

اس کے لیے بجلی کی پیداوار، ترسیل، تقسیم اور ذخیرہ کرنے کے نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔

شمسی اور ہوائی توانائی میں سرمایہ کاری ضروری

فورم میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ توانائی کے نظام میں تبدیلی صرف الیکٹرک گاڑیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے لیے بجلی کی پیداوار، ترسیل، تقسیم اور ذخیرہ کرنے کے نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔

پاکستان میں سورج کی روشنی وافر مقدار میں دستیاب ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان وسائل کو منظم اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے تحت استعمال کیا جائے۔

شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبوں کو بیٹری اسٹوریج اور جدید ترسیلی و تقسیمی نظام سے منسلک کرکے ان سے زیادہ مؤثر انداز میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

دنیا بھر میں توانائی کے شعبے میں اسمارٹ گرڈ اور بجلی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ پاکستان کو بھی ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ صاف توانائی کی فراہمی زیادہ قابل اعتماد بنائی جاسکے۔

توانائی کی بچت اور عوامی شعور پر زور

اس موقع پر رکن پنجاب اسمبلی محمد اجمل خان چانڈیہ نے کہا کہ فورم میں توانائی، ماحولیات اور عام آدمی سے متعلق اہم مسائل پر گفتگو کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ انفرادی سوچ کے بجائے اجتماعی شعور کو فروغ دینا اور عوام کو صرف امدادی پروگرام فراہم کرنے کے بجائے بااختیار اور ہنرمند بنانا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو مستعد اور ذمہ دار بن کر اپنے رویوں میں تبدیلی لانی چاہیے اور توانائی کی بچت کے کلچر کو فروغ دینا چاہیے۔ توانائی کے بحران کے حل کے لیے پالیسی سازی اور عملی اقدامات میں بہتری کی ضرورت ہے۔

اجمل خان چانڈیہ نے کہا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرکے اور مؤثر بلدیاتی ادارے قائم کرکے عوامی مسائل بہتر انداز میں حل کیے جاسکتے ہیں۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کے قیام سے بھی انتظامی بہتری کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے الیکٹرک گاڑیوں اور ویسٹ مینجمنٹ کو ماحول دوست شعبے قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کے ان اقدامات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کو الیکٹرک گاڑیوں کے لیے آسان فنانسنگ فراہم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے، جبکہ حکومت پنجاب کی جانب سے قرضوں اور مالی سہولتوں کے اقدامات کو بھی ماحول دوست منصوبوں سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔

صاف توانائی، معاشی خود انحصاری کی بنیاد

صاف توانائی کا معاملہ صرف ماحولیاتی تحفظ تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق معاشی خود انحصاری سے بھی ہے۔ اگر پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بیرونی ذرائع پر مسلسل انحصار کرتا رہے تو عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات ملکی معیشت اور عام شہریوں پر پڑتے رہیں گے۔

اس کے برعکس مقامی شمسی اور ہوائی توانائی میں سرمایہ کاری، توانائی کی بچت، جدید بجلی کے نظام، بیٹری اسٹوریج اور برقی نقل و حمل کو فروغ دے کر ایک زیادہ مستحکم اور پائیدار توانائی نظام تشکیل دیا جاسکتا ہے۔

اس مقصد کے لیے حکومت، نجی شعبے، مالیاتی اداروں، جامعات، ماہرین، میڈیا اور سول سوسائٹی کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کو ایک دوسرے کے مقابل سمجھنے کے بجائے انہیں ایک دوسرے کا معاون بنانا ضروری ہے۔

منگولین فالکن نیلامی، دو باز 3 لاکھ 50 ہزار ریال میں فروخت

پاکستان کے لیے اب اہم سوال یہ ہے کہ توانائی کی ضروریات صرف موجودہ دور کے لیے پوری کی جائیں یا آنے والی نسلوں کے لیے بھی صاف اور محفوظ مستقبل یقینی بنایا جائے۔

صاف ہوا، صاف توانائی اور محفوظ ماحول ہر پاکستانی کا حق ہے۔ اس حق کے تحفظ کے لیے پالیسی سازی سے لے کر عوامی رویوں تک ہر سطح پر تبدیلی ناگزیر ہے۔

توانائی کا مستقبل صرف زیادہ بجلی پیدا کرنے میں نہیں، بلکہ صاف، مقامی، مؤثر اور پائیدار توانائی کے نظام کی تشکیل میں ہے۔

admin

Recent Posts

خلائی ٹیکنالوجی سے آفات کی پیشگی اطلاع، اسلام آباد میں عالمی کانفرنس

آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…

3 hours ago

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، عالمی وعدوں پر اعتماد کا امتحان

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…

2 days ago

سیاہ فام ووٹرز کی دوہری جنگ، مہنگائی اور ماحولیاتی خطرات

سیاہ فام ووٹرز کے لیے بجلی کے بلوں میں کمی، صاف پانی اور آلودگی سے…

2 days ago

تھرپارکر میں خشک سالی کا بحران، گھر بار چھوڑنے پر مجبور لوگ

تھرپارکر میں خشک سالی، فصلیں متاثر، قدرتی چارہ ختم، 80 لاکھ سے زائد مویشیوں کے…

3 days ago

گھانا سے ایمازون تک سونے کی دوڑ، جنگلات خطرے میں

گھانا سے ایمازون تک سونے کی قیمتوں میں 120 فیصد اضافہ، غیر قانونی کان کنی…

3 days ago

پاکستان میں بھوک کا بحران: خالی پیٹ، کمزور بچے اور بڑھتے موسمیاتی خطرات

پاکستان میں بھوک کا بحران، گلوبل ہنگر ایڈیکس 2026 میں 122 ممالک میں 106ویں نمبر…

4 days ago

This website uses cookies.