فروزاں رپورٹ
وسطی امریکی ملک پاناما کے جنوبی حصے میں جمعے کو 7.7 شدت کا زلزلہ آیا۔ اس سے عمارتوں کو نقصان پہنچا اور سڑکیں منہدم ہو گئیں۔ دارالحکومت پاناما سٹی میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ہزاروں افراد عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ تاہم، ملک بڑے پیمانے پر تباہی اور جانی نقصان سے بظاہر محفوظ رہا۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق، زلزلہ زمین میں 12.6 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا۔ اس کا مرکز دارالحکومت پاناما سٹی سے تقریباً 200 کلومیٹر دور ایک کم آبادی والے علاقے میں تھا۔ زلزلے کے جھٹکے تقریباً ایک منٹ تک محسوس کیے گئے۔
پاناما سٹی میں بلند و بالا عمارتوں میں شدید لرزش محسوس کی گئی۔ لوگ جان بچانے کے لیے عمارتوں سے نکل کر محفوظ مقامات کی جانب دوڑ پڑے۔
46 سالہ شہری سالمون اینڈیون نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے شدید اور طویل تھے، جس سے وہ خوف زدہ ہو گئے۔ ان کے مطابق، بھاری فرنیچر، بستر اور باورچی خانے میں رکھی اشیا بھی لرز رہی تھیں۔ وہ اپنی 15 منزلہ عمارت خالی کرکے باہر نکل آئے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں 20 سے زائد منزلہ عمارت کی چھت پر قائم سوئمنگ پول سے پانی نیچے گرتا دکھائی دیا۔ ایک اور ویڈیو میں پاناما کینال پر قائم پل شدید لرزتا نظر آیا۔ تاہم، پل اپنی جگہ برقرار رہا اور اس پر گاڑیوں کی آمدورفت جاری رہی۔
پاناما کے صدر خوسے راؤل مولینو نے صورتحال کو ایک بڑے سانحے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ بعض سڑکیں مکمل طور پر منہدم ہو گئی ہیں۔
وسطی صوبے کوکلے کے شہر پینونومے میں ایک دکان پر کام کرنے والی 38 سالہ کیشیئر خوانا الوئیو نے بتایا کہ زلزلہ انتہائی خوف ناک تھا۔ ان کے مطابق، انہوں نے اپنی زندگی میں اس نوعیت کے جھٹکے کبھی محسوس نہیں کیے۔ ان کی بیٹی اسکول میں پھنس گئی تھی۔
زلزلے کے بعد آنے والے گھنٹوں میں ملک بھر میں 40 سے زائد آفٹر شاکس محسوس کیے گئے۔ اس کے باوجود پاناما کینال اور کوبرے پاناما تانبے کی کان نے معمول کے مطابق کام جاری رکھا۔ توکومین انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے بھی پروازوں کی عارضی معطلی ختم کر دی۔
دارالحکومت پاناما سٹی کے مرکزی کاروباری علاقے میں دفتری ملازمین کو شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا۔ عمارتیں خالی کرائے جانے کے بعد لوگ گھروں کو واپس جانے کے لیے پریشان دکھائی دیے۔
معاشی امور کی وزارت کے 37 سالہ ملازم خوان سانچیز نے بس کا انتظار کرتے ہوئے کہا کہ تمام عمارتیں خالی کرا لی گئی ہیں اور ہر شخص باہر موجود ہے۔ اب سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اپنے گھروں تک کیسے پہنچیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاناما کے تقریباً 43 ہزار شہری ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں زلزلے کے شدید اثرات مرتب ہونے کا خدشہ تھا۔
پاناما کے قومی ادارۂ ارضیاتی علوم کے ڈائریکٹر نیستور لوکے نے بتایا کہ دارالحکومت میں زلزلے کی لرزش تقریباً 40 سیکنڈ تک محسوس کی گئی۔ تاہم، دیگر علاقوں میں جھٹکوں کا دورانیہ اس سے زیادہ ہو سکتا ہے۔
پاناما میں شدید زلزلے غیر معمولی ہیں۔ جھٹکوں کے باعث بعض بزرگ شہری خوف زدہ ہو کر سڑکوں پر آ گئے اور کئی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
امریکی جیولوجیکل سروے نے اندازہ لگایا کہ زلزلے سے ہونے والا معاشی نقصان پاناما کی مجموعی قومی پیداوار کے ایک سے 10 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ بجلی فراہم کرنے والی کمپنی نیچرجی نے ملک کے چھ صوبوں میں بجلی کی بندش کی اطلاع دی۔
یہ بھی پڑھیں
درامدی ایندھن سے نجات،پاکستان کو پائیدار توانائی نظام کی ضرورت
منگولین فالکن نیلامی، دو باز 3 لاکھ 50 ہزار ریال میں فروخت
پاناما میں آئندہ پیر کو ملک گیر انخلا کی مشق بھی طے تھی۔ اس کا مقصد ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا جائزہ لینا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ زلزلے سے متعلق اطلاعات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکا مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…
سیاہ فام ووٹرز کے لیے بجلی کے بلوں میں کمی، صاف پانی اور آلودگی سے…
تھرپارکر میں خشک سالی، فصلیں متاثر، قدرتی چارہ ختم، 80 لاکھ سے زائد مویشیوں کے…
گھانا سے ایمازون تک سونے کی قیمتوں میں 120 فیصد اضافہ، غیر قانونی کان کنی…
پاکستان میں بھوک کا بحران، گلوبل ہنگر ایڈیکس 2026 میں 122 ممالک میں 106ویں نمبر…
سندھ کا پہلا انجینئرڈ لینڈ فل شروع، ماحولیاتی تحفظ کے لیے 105 ملین ڈالر، 4…
This website uses cookies.