Farozaan

مارگلہ ہلز میں تیندوؤں کی یلغار، کیا شہری علاقے خطرے میں؟

مارگلہ ہلز کے اطراف تعمیرات اور شہری پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، جس سے انسان اور جنگلی حیات کے درمیان ٹکراؤ کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اسلام آباد: ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک اور اس کے اطراف تیندووں کی بڑھتی نقل و حرکت خطرے کی علامت ہے۔ یہ رجحان انسان اور جنگلی حیات کے درمیان بڑھتے ہوئے ٹکراؤ کو ظاہر کرتا ہے۔

ادارے کے مطابق قدرتی رہائش گاہوں کا سکڑنا، جنگلات کی تقسیم اور شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ اس صورتحال کی بڑی وجوہات ہیں۔

یہ رجحان انسان اور جنگلی حیات کے درمیان بڑھتے ہوئے ٹکراؤ کو ظاہر کرتا ہے۔

تعمیراتی سرگرمیاں اور ماحولیاتی خدشات

ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے پارک کے قریب مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ ایک اہم ماحولیاتی نظام رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعمیرات اور زمین کے استعمال میں تبدیلی سے جنگلی حیات کے قدرتی راستے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ماحولیات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ ایک اہم ماحولیاتی نظام رکھتا ہے۔

مختلف علاقوں میں تیندووں کی موجودگی

عالمی یومِ تیندوا کے موقع پر ادارے نے بتایا کہ حالیہ مہینوں میں اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں تیندووں کو دیکھا گیا۔

مارچ میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے کیمپس میں ایک عام تیندوادیکھا گیا۔ اس کے بعد قریبی علاقوں سے بھی ایسی اطلاعات موصول ہوئیں۔

اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ نے صورتحال کے پیش نظر پنجرے نصب کیے۔

تیندوا تاحال لاپتا

اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ نے صورتحال کے پیش نظر پنجرے نصب کیے۔ شہریوں کو احتیاطی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔

اس کے باوجود تیندوے کو تاحال ٹریس نہیں کیا جا سکا۔

ماہرین کی رائے

وائلڈ لائف ماہر محمد جمشید اقبال چوہدری کے مطابق تیندوے ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال ان کی بے دخلی کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قدرتی رہائش گاہوں میں کمی کے باعث جنگلی جانور انسانی آبادیوں کا رخ کر رہے ہیں۔

ممکنہ خطرات اور حل

ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے مویشیوں پر حملے بڑھ سکتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں تیندووں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا خدشہ بھی موجود ہے۔

اس مسئلے کے حل کے لیے ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان گلیات میں مویشی انشورنس اسکیم پر کام کر رہا ہے۔ اس کا مقصد متاثرہ کسانوں کو مالی مدد فراہم کرنا اور تنازعات کم کرنا ہے۔

ادارے نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا بھی بتایا۔ ان میں اے آئی کیمرہ ٹریپس، جی پی ایس کالرز، ریسکیو سسٹمز اور رینجرز کی تربیت شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

برفانی چیتے کے حملے: گلگت بلتستان میں 65 سے زائد مویشی ہلاک، مقامی افراد پریشان

لیبر ڈے 2026: موسمیاتی تبدیلی اور پاکستانی مزدور، روزگار اور بقا کا بحران

ہیٹ ویو الرٹ: سندھ میں درجہ حرارت معمول سے 6 ڈگری تک بڑھنے کا امکان

مستقبل کا خدشہ

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مارگلہ ہلز اور اسلام آباد میں ایسے واقعات مزید بڑھ سکتے ہیں۔



admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

1 day ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

This website uses cookies.