فروزاں رپورٹ
دنیا کے انتہائی امیر افراد دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی کے مقابلے میں زیادہ کاربن آلودگی پھیلاتے ہیں۔ عالمی سطح پر عدم مساوات کے خلاف کام کرنے والے ادارے آکسفیم کی پیر کو جاری کردہ ایک نئی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے۔
آکسفیم امریکہ میں ماحولیاتی انصاف کی سینئر مشیر ریچل کارل کے مطابق، امریکہ سمیت دنیا بھر کے انتہائی امیر افراد موسمیاتی بحران پیدا کرنے میں غیر متناسب کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ اس بحران کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور ان آفات سے منافع بھی کماتے ہیں جن کے پیدا ہونے میں ان کا اپنا کردار ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، دنیا کے امیر ترین ایک فیصد افراد کی تعداد تقریباً 80 لاکھ ہے۔ ان کی اوسط سالانہ آمدنی 4 لاکھ 42 ہزار ڈالر ہے۔ یہ طبقہ دنیا کے غریب ترین 3 ارب 50 کروڑ افراد کے مقابلے میں کہیں زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کرتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے امیر ترین 0.1 فیصد افراد میں شامل کوئی ایک شخص ایک سال کے دوران امریکہ کے اوسط شہری کے مقابلے میں 48 گنا زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے۔
آکسفیم نے آمدنی کے مختلف طبقات کے کاربن اخراج کا حساب لگانے کے لیے موسمیاتی اثرات کے تعین کے ماڈلز اور اسٹاک ہوم انوائرنمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے تیار کردہ کھپت پر مبنی اخراج کے اعداد و شمار استعمال کیے۔
موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے کاربن اخراج کو محدود کرنا انتہائی اہم ہے۔ اسی ماہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔ اس مقصد کے لیے 2030 تک عالمی اخراج میں 18 فیصد کمی لانا ہوگی۔
تحقیقات سے طویل عرصے سے یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ امیر ممالک عالمی کاربن اخراج میں غیر متناسب حصہ ڈالتے ہیں۔ تاہم، ایک ہی ملک کے اندر بھی امیر اور غریب طبقوں کے اخراج میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
امریکہ، چین کے بعد دنیا میں کاربن خارج کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ تاہم، ملک کی تمام آبادی اس آلودگی میں یکساں حصہ نہیں ڈالتی۔
رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں امیر ترین 0.1 فیصد افراد کی اوسط سالانہ آمدنی 19 لاکھ 80 ہزار ڈالر ہے۔ یہ افراد صرف 118.3 دن، یعنی تقریباً چار ماہ میں اتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کر دیتے ہیں جتنی ملک کے غریب ترین نصف افراد نے گزشتہ 30 برسوں کے دوران خارج کی۔
امریکہ کے غریب ترین نصف طبقے کی اوسط سالانہ آمدنی 25 ہزار 600 ڈالر بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، نجی طیارے کاربن اخراج کے بڑے ذرائع میں شامل ہیں۔ سال 2025 میں ان طیاروں سے ایک کروڑ 60 لاکھ میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوئی۔ یہ مقدار 20 لاکھ سے زائد گھروں کی ایک سال کی توانائی کی کھپت سے ہونے والے اخراج کے برابر ہے۔
دنیا میں نجی طیاروں کے استعمال کی سب سے زیادہ شرح امریکہ میں ہے، جہاں سے دنیا کے مجموعی نجی طیاروں کی 68 فیصد پروازیں اڑان بھرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، دنیا کے تمام نجی طیارے صرف دو سیکنڈ میں اتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں جتنی دنیا کے غریب ترین 50 فیصد افراد میں شامل کوئی شخص پورے سال میں خارج کرتا ہے۔ اس طبقے کی اوسط سالانہ آمدنی صرف 1,500 ڈالر ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال نجی طیارے 65 لاکھ گھنٹے سے زیادہ فضا میں رہے۔
ریچل کارل کا کہنا ہے کہ انتہائی امیر افراد کا طرزِ زندگی عام لوگوں سے مختلف ہے۔ وہ نہ صرف زیادہ آلودگی پیدا کرنے والی اشیا اور سہولتوں کا استعمال کرتے ہیں بلکہ آلودگی پھیلانے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے کا امکان بھی ان میں زیادہ ہوتا ہے۔
رپورٹ میں ایسی 217 کمپنیوں کا جائزہ لیا گیا ہے جو موسمیاتی آفات پیدا کرنے، ان کے لیے تیاری کرنے یا ان کے بعد بحالی کے عمل سے منافع کماتی ہیں۔ ان کمپنیوں نے 2025 میں اوسطاً 1.8 ارب ڈالر کمائے، جبکہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ رقم اپنے حصص یافتگان میں تقسیم کی۔
رپورٹ کے مطابق، دنیا کے امیر ترین ایک فیصد افراد 1990 کے بعد سے عالمی حدت میں اضافے کے 20 فیصد کے ذمہ دار ہیں۔ یہ حصہ عالمی آبادی میں ان کے تناسب سے 20 گنا زیادہ ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امیر ترین ایک فیصد میں شامل کسی شخص نے شدید گرمی کی لہروں میں اوسط انسان کے مقابلے میں 34 گنا زیادہ حصہ ڈالا ہے۔
اس کے علاوہ، اس طبقے کے ایک سال کے کاربن اخراج کے نتیجے میں شدید گرمی سے ہونے والی تقریباً 19 لاکھ اضافی اموات کا خدشہ ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ انتہائی امیر افراد اپنے زیادہ کاربن اخراج کے باوجود موسمیاتی بحران کے اثرات سے نسبتاً زیادہ محفوظ رہتے ہیں۔ اس کے برعکس، کم آمدنی والے افراد موسمیاتی آفات اور شدید موسمی حالات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے پاس اکثر تباہی کے بعد اپنے گھر، روزگار اور زندگی بحال کرنے کے لیے ضروری مالی وسائل بھی نہیں ہوتے۔
امیر افراد کے لیے محفوظ مقامات پر رہنا اور آفات کے دوران خود کو محفوظ رکھنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ وہ نجی فائر فائٹرز اور بجلی فراہم کرنے والے جنریٹرز جیسی سہولتیں حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح، ہنگامی حالات میں محفوظ رہائش کے لیے اضافی رقم خرچ کرنا بھی ان کے لیے ممکن ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
پاکستان میں فضائی آلودگی، زندگی کے 3.9 سال کم
نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ایم آئی ٹی کا بڑا موسمیاتی قدم
رپورٹ کے مصنفین نے تجویز دی ہے کہ انتہائی امیر افراد کے کاربن اخراج پر ٹیکس عائد کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے نجی طیاروں کے استعمال جیسی زیادہ آلودگی پیدا کرنے والی آسائشوں اور سرگرمیوں پر ٹیکس لگایا جا سکتا ہے، تاکہ ان کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہو۔
اس کے علاوہ، فوسل فیول، یعنی کوئلے، تیل اور گیس سے منافع کمانے والی کمپنیوں کے غیر معمولی منافع پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ان ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور ان کے مطابق ڈھلنے کے اقدامات کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس میں ترقی پذیر ممالک، خصوصاً عالمی جنوب کے ممالک، کے لیے موسمیاتی مالی معاونت میں اضافہ اور دنیا بھر میں موسمیاتی تحفظ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری شامل ہے۔
ریچل کارل کا کہنا ہے کہ عدم مساوات کم کرنے کے ایسے بہت سے مواقع موجود ہیں جن کے ذریعے کرہ ارض اور مقامی آبادیوں دونوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ آلودگی پھیلانے والوں کو اپنے پیدا کردہ نقصان کی قیمت ادا کرنی چاہیے۔
سندھ انرجی اینڈ کلائمیٹ کانفرنس 2026، کراچی میں صاف توانائی، موسمیاتی انصاف اور سولر پینلز…
پاکستان میں فضائی آلودگی سے سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار اموات، لاہور میں عمر سات…
نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ڈیٹا سینٹرز، مضر آلودہ گیسوں، زراعت اور تعلیم پر 14 نشستیں،…
برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں، 82 ہزار…
موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، امریکی پروفیسر کا منفرد اقدام، پڑوسیوں کو موسمیاتی بحران سے آگاہی…
ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی…
This website uses cookies.