Farozaan

ہنزہ زلزلہ: بالائی علاقوں میں 5.5 شدت کے جھٹکوں سے نقصان، خوف کی فضا

ہنزہ زلزلہ سے چپورسن اور مسگر میں مکانات متاثر، لینڈ سلائیڈنگ سے سڑکیں بند، مکین گھروں سے نکل آئے، کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہو گئے

ملک کے شمالی علاقوں میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اور جمعہ کی صبح آنے والے زلزلے نے گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کی بالائی وادی چپورسن اور مسگر کو شدید متاثر کیا۔

متعدد مکانات، سڑکیں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا۔ خوفزدہ مکین گھروں سے نکل کر کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہو گئے۔

زلزلے کی تفصیلات اور شدت

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق زلزلے کا مرکز لوپغار پاس کے قریب تھا۔

27 مارچ کی صبح تقریباً 2 بج کر 3 منٹ پر 5.5 سے 5.3 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد کئی چھوٹے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے۔

جیولوجیکل سروے آف پاکستان اور پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق یہ زلزلہ ”ارتھ کویک سوارم“ نوعیت کا ہے، یعنی ایک ہی مقام پر مسلسل چھوٹے بڑے جھٹکوں کا سلسلہ۔

جھٹکوں کی شدت اور خدشات

زلزلے کی گہرائی کم تھی، جس کے باعث جھٹکے زیادہ شدت سے محسوس ہوئے۔

چپورسن ویلی اور اطراف میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار ہے۔

ماہرین نے شہریوں کو کمزور عمارتوں سے دور رہنے اور مزید جھٹکوں کی صورت میں کھلی جگہ پر جانے کی ہدایت کی ہے۔

جیولوجیکل سروے آف پاکستان اور پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق یہ زلزلہ ”ارتھ کویک سوارم“ نوعیت کا ہے، یعنی ایک ہی مقام پر مسلسل چھوٹے بڑے جھٹکوں کا سلسلہ۔

چپورسن اور مسگر میں صورتحال

چپورسن وادی میں کئی مکانات کو نقصان پہنچا۔ گھروں میں دراڑیں پڑ گئیں، جس سے رہائش غیر محفوظ ہو گئی۔

لینڈ سلائیڈنگ کے باعث چپورسن جانے والی مرکزی سڑک مکمل بند ہو گئی، جس سے علاقہ دیگر علاقوں سے منقطع ہو گیا۔

دوسری جانب مسگر میں بھی پہاڑوں سے ملبہ گرنے اور گرد و غبار کے بادل اٹھنے کی اطلاعات ہیں۔

مسگر روڈ کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو گئی جبکہ گھروں اور دکانوں کو نقصان پہنچا۔

متاثرین کی مشکلات اور مطالبات

مقامی افراد کے مطابق مسلسل جھٹکوں کے خوف سے لوگ گھروں میں واپس نہیں جا رہے۔

متاثرہ خاندان کھلے میدانوں، خالی جگہوں اور سبزیوں کے ٹنلز میں عارضی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ شدید سردی نے مشکلات بڑھا دی ہیں۔

انہوں نے حکومت سے خیموں، کمبلوں اور خوراک کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

متعدد مکانات، سڑکیں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا۔ خوفزدہ مکین گھروں سے نکل کر کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہو گئے۔

امدادی کارروائیاں اور بحالی کا عمل

انتظامیہ کے مطابق زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

مسگر روڈ کو عارضی طور پر بحال کر دیا گیا ہے جبکہ چپورسن ویلی کی سڑک کھولنے کے لیے بھاری مشینری روانہ کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی میں طوفانی بارش سے تباہی، 18 ہلاکتیں

ماحولیاتی تباہی منافع بن گئی، ٹیکس نظام خاموش

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں تک رسائی بحال کرنے اور نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے کے لیے ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔

جانی نقصان نہیں، مگر معاشی اثرات

اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم متعدد مویشیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یہ مقامی آبادی کے لیے بڑا معاشی نقصان ہے کیونکہ علاقے کے لوگ مویشیوں پر انحصار کرتے ہیں۔

اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم متعدد مویشیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

عوام کے لیے ہدایات

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔

یہ علاقہ زلزلوں کے لحاظ سے حساس ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔

حکومتی اقدامات کا مطالبہ

علاقہ مکینوں نے گلگت بلتستان حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینئر حکام متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں، سڑکوں کی مستقل بحالی یقینی بنائیں اور متاثرین کے لیے خصوصی ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے۔

admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

1 day ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

This website uses cookies.