Farozaan

گرمی، جنگ اور فضا میں بارود: ماحولیاتی بحران کی ایک نظر انداز حقیقت

گرمی کے موسم میں لاکھوں ٹن بارود فضا میں چھوڑنے سے عالمی موسمیاتی نظام ہل جاتا ہے، جنگ میں صرف انسان نہیں مرتے

دنیا اس وقت دو بڑے بحرانوں کے بیچ کھڑی ہے۔ ایک طرف موسمیاتی تبدیلیاں زمین کے درجہ حرارت کو تیزی سے بڑھا رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف عالمی سیاست میں کشیدگی اور جنگی سرگرمیاں خطرناک حد تک بڑھ رہی ہیں۔

بظاہر یہ دونوں مسائل الگ نظر آتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔

خاص طور پر گرمی کے موسم میں جب درجہ حرارت پہلے ہی بلند ہو اور اسی دوران دنیا بھر میں لاکھوں ٹن بارود فضا میں چھوڑا جائے تو اس کے اثرات صرف مقامی ماحول تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی موسمیاتی نظام تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق، جنگ صرف انسانی جانوں اور معیشتوں کو تباہ نہیں کرتی بلکہ زمین کے ماحولیاتی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔

دھماکوں، میزائلوں، جنگی طیاروں اور بھاری اسلحے کے استعمال سے بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسیں، زہریلے کیمیائی مادے اور باریک آلودہ ذرات فضا میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ عمل موسمیاتی تبدیلی کو مزید تیز کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

بارود اور فضائی آلودگی

بارود دراصل مختلف کیمیائی مرکبات کا

مجموعہ ہوتا ہے جن میں پوٹاشیم نائٹریٹ، سلفر

اور کاربن جیسے اجزا شامل ہوتے ہیں۔ جب یہ

مرکبات دھماکے کے ذریعے جلتے ہیں تو بڑی

مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو

آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈز اور دیگر زہریلی

گیسیں فضا میں خارج ہوتی ہیں۔

ان گیسوں کے ساتھ باریک ٹھوس ذرات بھی فضا میں شامل ہو جاتے ہیں جو انسانی صحت اور ماحول دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔

ماحولیاتی تحقیق کے مطابق جنگی دھماکوں سے پیدا ہونے والے پی ایم دو اعشاریہ پانچ (پی ایم2.5) اور پی ایم دس (پی ایم10) جیسے ذرات فضا میں طویل عرصے تک معلق رہتے ہیں۔ یہ ذرات سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر پھیپھڑوں اور دل کے امراض کا سبب بن سکتے ہیں۔

جنگ زدہ علاقوں میں فضائی آلودگی کی سطح عام شہروں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔

فوجی سرگرمیاں اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج

حالیہ برسوں میں ماہرین نے اس حقیقت پر زیادہ توجہ دینا شروع کی ہے کہ عالمی فوجی سرگرمیاں بھی گرین ہاؤس گیسوں کے بڑے ذرائع میں شامل ہیں۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف لنکاسٹر کے محققین کی ایک تحقیق کے مطابق، اگر دنیا کی فوجیں ایک ملک ہوتیں تو وہ کاربن اخراج کے لحاظ سے دنیا کے بڑے آلودگی پھیلانے والے ممالک میں شمار ہوتیں۔

اسی طرح براؤن یونیورسٹی کے کاسٹ آف وار پروجیکٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، صرف امریکی فوج نے دو ہزار ایک سے دو ہزار سترہ کے درمیان تقریباً ایک اعشاریہ دو ارب میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں خارج کی۔ یہ اخراج کئی صنعتی ممالک کے مجموعی اخراج کے برابر ہے۔

گرمی میں بارود کا دھواں صرف جنگ نہیں، زمین کے مستقبل کو بھی جلا رہا ہے۔ کیا ہم موسمیاتی تباہی کو خود تیز کر رہے ہیں؟

فوجی طیاروں کی پروازیں، بحری جنگی جہاز، ٹینکوں کی نقل و حرکت، میزائل تجربات اور بارودی دھماکے سب مل کر ماحول میں بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسیں شامل کرتے ہیں، جو عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔

گرمی کے موسم میں جنگی دھماکوں کے اثرات

گرمی کے موسم میں بارودی دھماکوں کے اثرات اور بھی خطرناک ہو جاتے ہیں۔ زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے فضا میں کیمیائی ردعمل تیزی سے ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں دھماکوں سے خارج ہونے والی گیسیں اسموگ اور اوزون جیسے مرکبات میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔

اسی وجہ سے جنگ زدہ علاقوں میں گرمی کے مہینوں میں فضائی آلودگی کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ مزید یہ کہ گرم اور خشک موسم میں بارودی دھماکے جنگلات میں آگ لگنے کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

جنگلات میں لگنے والی آگ نہ صرف ہزاروں ایکڑ زمین کو تباہ کرتی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کاربن کا بڑا ذخیرہ بھی فضا میں خارج ہو جاتا ہے۔

جنگ اور جنگلات کی تباہی

جنگی سرگرمیاں اکثر جنگلات اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔ میزائلوں اور بمباری کے نتیجے میں درخت جل جاتے ہیں، زمین کی ساخت متاثر ہوتی ہے اور حیاتیاتی تنوع کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جنگلات دراصل زمین کے کاربن سنک ہوتے ہیں۔ یعنی وہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے اسے ذخیرہ کرتے ہیں۔ جب جنگلات تباہ ہوتے ہیں تو نہ صرف یہ صلاحیت ختم ہو جاتی ہے بلکہ جلنے والے درخت مزید کاربن فضا میں چھوڑ دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

جنگوں کی آگ میں زمین کی خاموش تباہی

پاکستان میں پانی کا بحران سنگین، درجہ حرارت 5 ڈگری تک بڑھنے کا خدشہ

ویتنام جنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے استعمال ہونے والے کیمیائی مادے ایجنٹ اورنج نے لاکھوں ایکڑ جنگلات کو تباہ کر دیا تھا۔ اس واقعے کو ماحولیاتی جنگ کی ایک بڑی مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

جنگی آلودگی اور انسانی صحت

بارودی دھماکوں سے پیدا ہونے والی آلودگی انسانی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ جنگی علاقوں میں رہنے والے افراد اکثر سانس کی بیماریوں، دمہ، جلدی امراض اور دل کے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق فضائی آلودگی ہر سال دنیا میں لاکھوں اموات کا سبب بنتی ہے اور جنگی علاقوں میں یہ خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

بارود کے دھوئیں میں موجود بھاری دھاتیں اور زہریلے مرکبات طویل عرصے تک زمین اور پانی کو بھی آلودہ رکھتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی اور جنگ کا باہمی تعلق

ماہرین کے مطابق جنگ اور موسمیاتی تبدیلی دراصل ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی پانی، خوراک اور زمین جیسے وسائل پر دباؤ بڑھاتی ہے جس سے تنازعات پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

دوسری طرف جنگی سرگرمیاں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ کر کے موسمیاتی تبدیلی کو مزید تیز کر دیتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے مختلف اداروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر دنیا کو موسمیاتی بحران سے نمٹنا ہے تو جنگی سرگرمیوں کے ماحولیاتی اثرات کو بھی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔

عالمی قانون اور جنگی ماحولیات

بین الاقوامی سطح پر جنگ کے دوران ماحول کے تحفظ کے حوالے سے کچھ قوانین موجود ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

انوائرنمنٹل موڈیفیکیشن کنونشن (ای این ایم او ڈی) اور جنیوا کنونشن کے بعض اصول جنگی سرگرمیوں کے ماحولیاتی اثرات کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر عملی طور پر جنگ کے دوران ماحول اکثر سب سے بڑا متاثرہ فریق بن جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو فوجی سرگرمیوں کے کاربن اخراج کو بھی موسمیاتی معاہدوں کے دائرے میں شامل کریں۔

مستقبل کے خدشات

اگر موجودہ رجحانات جاری رہے تو آنے والے برسوں میں موسمیاتی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ دنیا پہلے ہی ریکارڈ توڑ گرمی، شدید طوفانوں، سیلاب اور خشک سالی کا سامنا کر رہی ہے۔

ایسے میں جنگی سرگرمیوں کا بڑھنا دراصل اس بحران کو مزید گہرا کرنے کے مترادف ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر عالمی برادری نے جنگ کے ماحولیاتی اثرات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو موسمیاتی اہداف حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ گرمی کے موسم میں فضا میں چھوڑا جانے والا بارود صرف دھماکوں کی آواز تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے اثرات فضا کی کیمیائی ساخت، زمین کے درجہ حرارت، جنگلات، پانی اور انسانی صحت تک پھیل جاتے ہیں۔

جنگ دراصل ایک ایسی ماحولیاتی تباہی ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

آج جب دنیا موسمیاتی تبدیلی کے ایک نازک دور سے گزر رہی ہے تو ضروری ہے کہ جنگ اور ماحول کے تعلق کو سنجیدگی سے سمجھا جائے۔ کیونکہ اگر بارود اور گرمی کا یہ امتزاج جاری رہا تو زمین کے ماحولیاتی نظام کو ہونے والا نقصان آنے والی نسلوں کے لیے ایک ناقابل واپسی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

1 day ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

This website uses cookies.