Farozaan

“گلگت کی آلودہ فضا: بچوں کے لیے سانس لینا مشکل

گلگت کی آلودہ فضا شہریوں کے لیے خطرہ، سانس کی بیماری، کینسر اور ماحول کی تباہی کے مسائل پیدا کر رہی ہے۔اسسٹنٹ ڈائریکٹرای پی اے،جرار حسین رضوی

گلگت شہر کی ہوائیں کبھی زندگی کا پیغام لاتی تھیں آج یہاں کے باسیوں کے لیے ایک فکر انگیز سوال کھڑا ہو گیا ہے۔ کیا ترقی اور کاروبار کی آڑ میں ہم اپنی آنے والی نسلوں سے ان سےسانس لینے کا حق چھین رہے ہیں؟

حالیہ دنوں میں گلگت بلتستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کی گئی کارروائی محض ایک قانونی مشق نہیں تھی بلکہ یہ ان سسکتی ہوئی زندگیوں کو بچانے کی ایک کوشش تھی جو زہریلے دھوئیں اور آلودگی کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہیں۔

یہ دھواں صرف فضا کو نہیں، گلگت کے بچوں کے مستقبل کو بھی آہستہ آہستہ ختم کر رہا ہے۔

کارگاہ نالہ گلگت کے قریب ایک پر فضا علاقہ ہے جو اپنی قدرتی خوبصورتی اور سیاحتی کشش کے لیے جانا جاتا ہے وہاں لگی ایک فرنس مل سے اٹھتا ہوا سیاہ غبار محض فضا کو آلودہ نہیں کر رہا تھا بلکہ مقامی آبادی کے پھیپھڑوں میں زہر اتار رہا تھا۔

ای پی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید جرار حسین رضوی جب اپنی ٹیم کے ہمراہ وہاں پہنچے تو منظر تشویشناک تھا۔

وہ مِل جسے پہلے بھی کئی بار نہ صرف نوٹس دیا گیا بلکہ سیل بھی کیا گیا،قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دوبارہ فعال ہو چکی تھی۔

یہ صرف ایک مل نہیں تھی بلکہ یہ اس بے حسی کی علامت تھی جو چند ٹکوں کے منافع کے لیے معصوم شہریوں کی صحت اور زندگیاں داؤ پر لگا رہی تھی۔

انتظامیہ نے اس بار کوئی رعایت نہیں دکھائی اور اس زہریلے دھوئیں کے منبع کو مستقل طور پر سیل کر دیا تاکہ کارگاہ کی ہوائیں ایک بار پھر شفاف ہو سکیں۔

انسانی المیہ اس وقت مزید سنگین نظر آیا جب ٹیم گلگت شہر کے علاقے پونیال چوک پہنچی جہاں ایک حجام کی دکان پر پانی گرم کرنے کے لیے لکڑی یا گیس نہیں بلکہ پرانے جوتے، ربڑ اور کچرا جلایا جا رہا تھا۔

وہ دھواں جو پرانے چمڑے اور پلاسٹک کے جلنے سے پیدا ہوتا ہے انسانی زندگی کے لئے کتنا مہلک ہو سکتا ہے؟ ایک عام شہری جو بال کٹوانے یا شیو کروانے وہاں آتا ہے وہ بے خبری میں کینسر اور سانس کی بیماریوں کا تحفہ گھر لے کر جاتاہے۔

ای پی اے نے نہ صرف اس دکان پر جرمانہ عائد کیا بلکہ اسے ایک آخری وارننگ بھی دی جو تمام چھوٹے بڑے کاروباریوں کے لیے ایک خاموش پیغام ہے کہ آپ کے چند روپوں کی بچت کسی کی موت کا سبب نہیں بننی چاہیے۔

گلگت کی آلودہ فضا بچوں کے لیے سانس لینا مشکل بنا رہی ہے، حکومت اور شہریوں کی مشترکہ کوشش ضروری ہے

سید جرار حسین رضوی کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے یہ اقدامات صرف آج کے لیے نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ مستقبل کی ضمانت ہیں۔

انہوں نے فروزاں ڈیجیٹل کے نمائندہ خصوصی سےتفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ جوٹیال کے کھلے مقامات پر پلاسٹک اور ربڑ کا جلایا جانا ایک ایسا ناسور بن چکا ہے جو خاموشی سے ہماری فضاؤں کو بانجھ کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پلاسٹک کا دھواں ڈی آکسنزجیسے زہریلے مادے خارج کرتا ہے جو ہوا میں گھل کر ہمارے خون کا حصہ بن جاتے ہیں۔

انتظامیہ کی ان علاقوں میں کارروائی اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ اب ماحول کے دشمنوں کے لیے نرمی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔

سید جرار رضوی کی عوام سے اپیل محض ایک سرکاری بیان نہیں بلکہ ایک درمندانہ پکار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت تنہا یہ جنگ نہیں جیت سکتی۔ جب تک گلگت کا ہر شہری اپنی گلی اپنے محلے اور اپنے نالے کی نگرانی خود نہیں کرے گا تب تک آلودگی کے یہ بادل نہیں چھٹیں گے۔

پاکستان کے گلگت بلتستان کی خوبصورتی اس کے گلیشیئرز اور پہاڑوں میں نہیں بلکہ اس کی صحت مند فضا میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں

گلگت میں پینے کا پانی آلودہ: شہر وبائی خطرے کی زد میں

ماحولیاتی کارکنوں کا قتل کیوں ہو رہا ہے؟

سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان: اقوام متحدہ اور آبی بحران

ای پی اے کی حالیہ متحرک مہم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قانون حرکت میں ہے لیکن اب باری عوام کی ہے۔

کیا ہم اپنے بچوں کو ایک ایسا گلگت دے کر جائیں گے جہاں سانس لینا محال ہو یا ایک ایسا گلگت جہاں کی ہواؤں میں زندگی کی رمق باقی ہو؟ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔

admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

24 hours ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

This website uses cookies.