Farozaan

فوسل فیول اخراج کنندگان: جب فصلیں ڈوبیں اور منافع محفوظ رہا

پاکستان اور فلپائن کے کسان فوسل فیول اخراج کنندگان کے خلاف عدالتوں میں۔ یہ موسمیاتی انصاف، لاس اینڈ ڈیمیج اور عالمی طاقت کے نظام پر فردِ جرم ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کو اگر اب بھی محض درجہ حرارت، بارشوں اور گلیشیئرز کا مسئلہ سمجھا جا رہا ہے تو یہ یا تو سادہ لوحی ہے یا دانستہ فریب۔ حقیقت یہ ہے کہ موسمیاتی بحران طاقت، سرمائے اور عالمی عدم مساوات کا بحران ہے۔

پاکستان، فلپائن اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے کسانوں کی جانب سے فوسل فیول کا اخراج کرنے والے ممالک اور کارپوریشنز کے خلاف ہرجانے کے مقدمات اسی طاقت کے نظام کے خلاف ایک براہِ راست چیلنج ہیں۔

یہ مقدمات صرف قانونی چارہ جوئی نہیں، بلکہ اس عالمی نظام پر فردِ جرم ہیں جس میں منافع شمال میں محفوظ رہتا ہے اور تباہی جنوب میں برستی ہے۔

کسان: موسمیاتی جنگ کے بے نام سپاہی

کسان وہ طبقہ ہے جو نہ کاربن مارکیٹ کا حصہ ہے، نہ اسٹاک ایکسچینج کا، نہ عالمی پالیسی میزوں پر موجود۔ مگر موسمیاتی بحران کی پہلی ضرب اسی پر پڑتی ہے۔

جب بارشیں بے وقت ہوتی ہیں، درجہ حرارت فصلوں کو جلا دیتا ہے، یا سیلاب زمین نگل لیتا ہے تو یہ محض ’’قدرتی آفت‘‘نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک عالمی معاشی فیصلے کا نتیجہ ہوتا ہے۔

پاکستان اور فلپائن کے کسان اسی فیصلے کے خلاف اب عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔

پاکستان: سیلاب کو قدرت کہہ کر مجرم بری نہیں ہو سکتے

سن2022 کے سیلاب کو پاکستان میں اکثر’’قدرتی آفت‘‘کہہ کر سمیٹ دیا گیا، حالانکہ سائنسی شواہد واضح تھے یہ سیلاب قدرتی نہیں، سیاسی و صنعتی تھا۔

جب پاکستانی کسان یورپی فوسل فیول اور سیمنٹ کمپنیوں کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کرتے ہیں تو وہ دراصل یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر آپ کے اخراج نے ہماری زمین ڈبو دی، تو ذمہ داری کیوں نہیں؟

یہ کیس اس بیانیے کو چیلنج کرتا ہے جس میں اخراج تاریخی طور پر شمال کرتا ہے،نقصان حال میں جنوب اٹھاتا ہے اور اخلاقی بوجھ ہمیشہ متاثرہ پر ڈال دیا جاتا ہے۔

پاکستانی کسانوں کا مقدمہ ریاستی سفارت کاری سے زیادہ بے رحم ہے، کیونکہ یہ امداد نہیں، جوابدہی مانگتا ہے۔

فلپائن: طوفانوں کے بعد خاموشی نہیں، مزاحمت

فلپائن میں آنے والے سپر طوفان اب محض موسمی واقعات نہیں رہے۔ یہ ایک ایسے ماڈل کی علامت ہیں جس میں فوسل فیول کمپنیاں خطرات جانتے ہوئے بھی پیداوار بڑھاتی رہیں،ریاستیں خاموش رہیں اور متاثرین کو’’ریلیف‘‘کے نام پر خاموش کرانے کی کوشش کی گئی۔

فلپائنی متاثرین کے مقدمات اس خاموش معاہدے کو توڑتے ہیں۔ یہ کیسز واضح کرتے ہیں کہ اگر کمپنیاں موسمیاتی خطرات جانتے ہوئے منافع کماتی رہیں، تو یہ لاعلمی نہیں، دانستہ جرم ہے۔

موسمیاتی بحران میں سب سے پہلے متاثر ہونے والے کسان اب جوابدہی مانگ رہے ہیں۔

قانون کی زبان میں ایک انقلابی سوال

یہ مقدمات قانونی اعتبار سے ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا عالمی کارپوریشنز سرحدوں کے پار ہونے والے نقصان کی ذمہ دار ہو سکتی ہیں؟

یہ سوال اگر مان لیا گیا تو کاربن نیوٹرل کے نعرے کھوکھلے ثابت ہوں گے،سی ایس آر رپورٹس محض کاغذی دستاویز بن جائیں گی اور فوسل فیول بزنس ماڈل خود کٹہرے میں آ جائے گا اسی لیے ان کیسز کی مزاحمت شدید ہے۔

سائنس اب خاموش نہیں

ماضی میں یہ کہا جاتا تھا کہ کسی ایک کمپنی کے اخراج کو کسی ایک آفت سے جوڑنا ممکن نہیں۔آج کلائمٹ ایٹری بیوشن سائنس اس دلیل کو دفن کر چکی ہے۔

اب یہ بتایا جا سکتا ہے کہ فلاں اخراج نے فلاں طوفان کو کتنے فیصد شدید بنایا۔فلاں صنعتی دور نے فلاں خطے میں درجہ حرارت کہاں پہنچایا۔

یہی سائنسی پیش رفت ان مقدمات کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور یہی بات طاقتور حلقوں کو سب سے زیادہ ناگوار ہے۔

پاکستان کے لیے اس تحریک کا اصل مطلب

یہ مقدمات پاکستان کے لیے صرف کسانوں کا مسئلہ نہیں،یہ لاس اینڈ ڈیمیج کے بیانیے کو قانونی بنیاد دیتے ہیں۔

یہ امداد کے بجائے حق کے تصور کو مضبوط کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ موسمیاتی انصاف خیرات نہیں، واجب الادا قرض ہے۔

اگر ریاست اس جدوجہد سے کٹ کر رہی تو یہ ایک تاریخی موقعے کا ضیاع ہو گا۔

عدالتی حیثیت

یاد رہے کہ فلپائن اور پاکستان میں فوسل فیول اخراج کنندگان کے خلاف قانونی جدوجہد مختلف مراحل میں ہے۔

فلپائن میں سپر طوفان Odette (Rai) کے متاثرین نے عالمی آئل کمپنی Shell کے خلاف برطانیہ کی عدالت میں باقاعدہ سول مقدمہ دائر کر دیا ہے، جو اس وقت عدالتی عمل سے گزر رہا ہے اور جس میں جانی، مالی اور زرعی نقصانات کے لیے کمپنی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں 2022 کے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ 43 کسانوں نے جرمن کمپنیوں آرڈبلیو ای اور ہائیڈلبرگ مواد کو قانونی نوٹس بھیجا ہے، تاہم یہ کیس ابھی عدالت میں دائر نہیں ہوا اور اگلے مرحلے میں باقاعدہ مقدمہ قائم کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ فرق اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ موسمیاتی انصاف کی یہ عالمی قانونی تحریک کہیں عدالتوں میں داخل ہو چکی ہے اور کہیں ابھی ابتدائی مگر فیصلہ کن مرحلے میں ہے۔

یہ مقدمات ہارے بھی جائیں تو تاریخ جیت جائے گی۔

ممکن ہے کہ یہ تمام کیسز عدالتوں میں فوری طور پر کامیاب نہ ہوں۔

ممکن ہے کارپوریشنز قانونی موشگافیوں سے بچ نکلیں۔

مگر ایک بات طے ہے کہ اب موسمیاتی تباہی کو’’قدرت‘‘کہہ کر مجرم بری نہیں کیے جا سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

عالمی غذائی بحران: دنیا میں خوراک ہے مگر انسان بھوکا کیوں ہے؟

بالائی ہنزہ میں سیزن کی پہلی ہمالیائی آئی بیکس بیکس ٹرافی ہنٹنگ

کیا جوتے بھی ماحول دوست ہوتے ہیں؟

پاکستان، فلپائن اور دیگر ممالک کے کسانوں نے عالمی نظام سے وہ سوال پوچھ لیا ہے جس سے وہ دہائیوں سے بھاگ رہا تھا۔

یہ سوال آنے والے وقتوں میں مزید بلند ہو گا عدالتوں میں بھی، اور سڑکوں پر بھی۔

admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

20 hours ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

This website uses cookies.