Categories: Environmental Reports

عالمی عدالت انصاف میں موسمیاتی بحران پر مقدمہ کی سماعت مکمل

یو این رپورٹ

اس بحران سے نمٹنے کی ذمہ داری بھی بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کرنے والے ترقی یافتہ ممالک پر ہی عائد ہوتی ہے

عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے مختلف ممالک کی ذمہ داریوں پر مقدمے کی سماعت مکمل کر لی ہے۔ وینوآٹو اور دیگر جزیرہ نما ممالک کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست سے بین الاقوامی موسمیاتی قانون کو مزید مستحکم کرنے کی توقع ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے تحت یہ مشاورت طلب کی گئی تھی، جس میں 96 ممالک اور 11 علاقائی تنظیموں نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کیے۔

یہ مقدمہ 2 دسمبر کو شروع ہوا اور 13 دسمبر تک جاری رہا، جس دوران بحر الکاہل کے جزیرہ نما ممالک، جن میں وینوآٹو بھی شامل ہے، نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

ترقی یافتہ ممالک کی غفلت

سماعت کے اختتام پر وینوآٹو کے موسمیاتی تبدیلی کے نمائندہ رالف ریگینو نے کہا کہ اس مقدمے کے فیصلے کا اثر آنے والی نسلوں پر پڑے گا، اور یہ فیصلہ وینوآٹو جیسے ممالک اور دنیا کے مستقبل کو متاثر کرے گا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندری سطح میں اضافے اور موسمی شدت جیسے خطرات واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں، جبکہ بڑے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج والے ممالک اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام ہیں۔

وینوآٹو کے اٹارنی جنرل آرنلڈ کیل لومین نے عدالت کو بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک کا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں ناکامی بین الاقوامی سطح پر ایک غلط عمل ہوگا کیونکہ یہی ممالک اس تباہی کے ذمے دار ہیں۔ چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک (ایس آئی ڈی ایس) کے اتحاد (اے او ایس آئی ایس) نے ان ہی خدشات کو دہرایا اور عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی توثیق کرے جو سمندری سطح میں اضافے کو روکنے اور غرقاب ہونے والے علاقوں کی سرحدوں اور ریاستی حیثیت کو تسلیم کرنے کے بارے میں ہیں۔

“مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریاں”

سماعت کے دوران برازیل نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ اسے غربت کے خاتمے اور موسمی اثرات جیسے دیگر سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ برازیل کے موسمیاتی تبدیلی کے نمائندے لوئز البرٹو فیگوئریڈو مچاڈو نے “مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں” کے اصول کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران کا حل زیادہ تر ان ممالک کی ذمہ داری ہے جو سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسیں خارج کرتے ہیں۔

چین نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے حوالے سے نئی قانونی ذمہ داریاں عائد نہ کرے اور موجودہ طریقہ کار جیسے پیرس معاہدے پر زور دے۔ چین کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک کو اپنی تاریخی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی، جبکہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی اہداف تک پہنچنے کے لئے مزید وقت درکار ہے۔

امریکہ اور یورپی یونین کے مختلف نقطہ نظر

امریکہ نے عدالت میں تسلیم کیا کہ دنیا کو موسمیاتی بحران کا سامنا ہے، تاہم اس نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں جیسے پیرس معاہدے کی قانونی پابندی ضروری نہیں ہے۔ امریکی نمائندہ مارگریٹ ٹیلر نے کہا کہ “مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں” کا اصول بین الاقوامی قانون کا ایک بنیادی اصول نہیں ہے۔ دوسری جانب، یورپی یونین نے عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے حل کے لئے تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ موجودہ معاہدوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے، لیکن ان معاہدوں کے نفاذ کے لئے اضافی اقدامات کی ضرورت پر بات نہیں کی۔

اس سماعت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔ اس مقدمے کا عالمی موسمیاتی قانون اور ممالک کی ذمہ داریوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

1 day ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

This website uses cookies.