Environmental Reports • Farozaan

نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ایم آئی ٹی کا بڑا موسمیاتی قدم

New York Climate Week 2026, MIT’s Major Climate Initiative

نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ڈیٹا سینٹرز، مضر آلودہ گیسوں، زراعت اور تعلیم پر 14 نشستیں، 700 سے زائد افراد کی شرکت

نیویارک : نیویارک موسمیاتی ہفتہ 2026 میں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کی مختلف شعبوں سے وابستہ ٹیموں نے عالمی ماحولیاتی نیٹ ورک کے ساتھ رابطے مضبوط کیے۔ ماہرین نے معلوماتی مراکز، انتہائی مضر آلودہ گیسوں، زراعت، غذائی تحفظ اور تعلیم سمیت متعدد موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران ایم آئی ٹی اور اس کے شراکت داروں نے 14 نشستوں کا اہتمام کیا، جن میں 700 سے زائد افراد نے شرکت کی۔

ہر سال نیویارک موسمیاتی ہفتے میں شہر بھر میں ایک ہزار سے زائد تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ ان میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد شرکت کرتے ہیں۔ ان تقریبات کا مقصد موسمیاتی چیلنجز پر گفتگو، ممکنہ حل تلاش کرنا اور عملی اقدامات کو فروغ دینا ہے۔ شرکا میں صنعت، تعلیمی اداروں، فلاحی تنظیموں، غیر منافع بخش اداروں، حکومت، مالیاتی شعبے اور سرمایہ کاری سے وابستہ افراد شامل ہوتے ہیں۔ رواں سال ایم آئی ٹی کی مختلف تعلیمی اور تحقیقی ٹیموں نے بھی نمایاں شرکت کی۔

موسمیاتی ہفتے کے دوران کئی روز تک ایم آئی ٹی سے وابستہ ماہرین مختلف تقریبات میں شریک ہوئے۔ ان میں توانائی اور موسمیات کی نائب صدر ایولین وانگ کی سرکاری افتتاحی تقریب میں شرکت بھی شامل تھی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت اور موسمیاتی تبدیلی کے باہمی تعلق پر گفتگو کی۔ ایم آئی ٹی اور بیزوس ارتھ فنڈ نے موسمیاتی جدت کے موضوع پر مشترکہ تقریب بھی منعقد کی۔

اس کے علاوہ ایم آئی ٹی کے موسمیاتی منصوبے اور ادارے کے آٹھ شعبوں، تجربہ گاہوں، مراکز اور اقدامات کے تحت 14 نشستوں کا اہتمام کیا گیا۔ ان میں عبد اللطیف جمیل آبی و غذائی نظام تجربہ گاہ، ایم آئی ٹی سلون پائیداری اقدام، نقل و حمل و رسد مرکز، ایم آئی ٹی لنکن تجربہ گاہ، ایم آئی ٹی کھلی تعلیم، نیا صنعتی تیاری اقدام، ایم آئی ٹی موسمیاتی پالیسی مرکز اور پرسیلا کنگ گرے سماجی اثرات مرکز شامل تھے۔

ایم آئی ٹی کے موسمیاتی منصوبے کی فیکلٹی ڈائریکٹر اور شعبہ مشینی انجینئرنگ کی پروفیسر ایولین وانگ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پورے ایم آئی ٹی کو متحرک کیا جا رہا ہے۔ تاہم، دنیا کو درکار موسمیاتی حل فراہم کرنا کسی ایک ادارے کے بس کی بات نہیں۔

ان کے مطابق گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، بدلتے موسم کے مطابق خود کو ڈھالنے اور زیادہ مضبوط آبادیوں اور نظام کی تشکیل کے لیے مختلف شعبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نیویارک موسمیاتی ہفتہ مختلف شعبوں اور متعلقہ فریقوں کو ایک جگہ جمع کرنے کا اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ ایم آئی ٹی کی عالمی نیٹ ورک سے وابستگی نہ صرف ادارے کی اپنی کوششوں کو مضبوط کرتی ہے بلکہ دنیا میں مثبت تبدیلی لانے کی صلاحیت بھی بڑھاتی ہے۔

نیویارک موسمیاتی ہفتہ 21 سے 27 ستمبر 2026 تک مین ہیٹن اور نیویارک کے دیگر علاقوں میں منعقد ہوا۔

ایک مقام، متعدد تقریبات

نیویارک موسمیاتی ہفتہ 21 سے 27 ستمبر 2026 تک مین ہیٹن اور نیویارک کے دیگر علاقوں میں منعقد ہوا۔ مین ہیٹن کے علاقے چیلسی میں واقع ڈریم ڈاؤن ٹاؤن ہوٹل کے مختلف حصوں میں ایم آئی ٹی اور اس کے شراکت داروں نے تقریبات کا اہتمام کیا۔ ان میں 700 سے زائد افراد شریک ہوئے۔ تقریبات میں نجی گفتگو، تربیتی نشستیں اور ماہرین کے مباحثے شامل تھے۔

ان اہم نشستوں میں ’’معلوماتی مراکز کا مستقبل، نظام میں بنیادی تبدیلی لانے والی ٹیکنالوجیز‘‘ کے موضوع پر تقریب بھی شامل تھی۔

ایم آئی ٹی کے کارل رچرڈ سوڈربرگ پروفیسر برائے توانائی انجینئرنگ اور موسمیاتی منصوبے کے فیکلٹی ڈائریکٹر گینگ چن نے کہا کہ معلوماتی مراکز اس وقت ایک اہم تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ انہیں تکنیکی، انتظامی، معاشی اور مقامی آبادیوں سے متعلق باہم جڑے ہوئے مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے مختلف شعبوں کے درمیان مکالمہ اور جدت ضروری ہے۔

گینگ چن نے تحقیق اور صنعت سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو ایک مباحثے میں جمع کیا تاکہ ایسی ٹیکنالوجیز پر غور کیا جا سکے جو معلوماتی مراکز کے موجودہ نظام میں تبدیلی لاسکتی ہیں۔

ان کے مطابق ٹیکنالوجی ان مراکز سے متعلق تمام مسائل حل نہیں کرسکتی۔ تاہم، زیادہ پائیدار مستقبل کی تشکیل اور ان مراکز کے آس پاس رہنے والی آبادیوں کے مفادات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نشست میں معلوماتی مراکز کے مسائل اور ممکنہ حل پر مفید تبادلہ خیال کیا گیا۔

انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عالمی حدت میں اب تک تقریباً نصف حصہ انتہائی مضر آلودہ گیسوں کا ہے۔

انتہائی مضر آلودہ گیسوں کے اخراج میں کمی پر زور

ایم آئی ٹی کے موسمیاتی منصوبے کے فیکلٹی ڈائریکٹر اور انتہائی مضر آلودہ گیسوں سے متعلق شعبے کے سربراہ جیسی کرول نے ’’آلودگی میں کمی کے جدید حل، چیلنجز اور مواقع‘‘ کے موضوع پر تربیتی نشست کی میزبانی کی۔

اس میں ماحولیاتی دفاعی فنڈ، اسپارک موسمیاتی حل اور ایم آئی ٹی کی مختلف تجربہ گاہوں اور تحقیقی منصوبوں سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔

انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عالمی حدت میں اب تک تقریباً نصف حصہ انتہائی مضر آلودہ گیسوں کا ہے۔ ان گیسوں کے اخراج میں خاطر خواہ کمی لانے کے لیے مؤثر اور قابلِ عمل حل اب بھی محدود ہیں۔ ان میں میتھین، نائٹرس آکسائیڈ، زمینی سطح پر موجود اوزون اور فلورین پر مشتمل گیسیں شامل ہیں۔

بہت سی ایسی گیسیں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں کم عرصہ برقرار رہتی ہیں۔ اس لیے ان کے اخراج میں کمی سے قریبی مدت میں عالمی حدت کی بلند ترین سطح کو محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ماہرین اس عمل کو موسمیاتی حدت پر ہنگامی بریک لگانے سے تشبیہ دیتے ہیں۔

ان گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے سرمایہ کاری سے معاشی فوائد بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔ ان میں صحت کی دیکھ بھال پر اخراجات کم کرنا اور پیداواری صلاحیت بڑھانا شامل ہے۔ تاہم، اس مقصد کے لیے مختلف شعبوں کے ماہرین کو مل کر نئی ٹیکنالوجیز اور مؤثر حل تیار کرنا ہوں گے۔

ایم آئی ٹی کے شعبہ شہری و ماحولیاتی انجینئرنگ کے پروفیسر جیسی کرول نے کہا کہ قریبی مدت میں موسمیاتی حدت کو کم کرنے کے لیے ان آلودہ گیسوں پر قابو پانے کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ تاہم، ان کے اخراج کا ایک بڑا حصہ موجودہ ٹیکنالوجیز اور طریقوں سے کم نہیں کیا جاسکتا۔

ان کے مطابق اس نشست میں ان مشکل آلودہ گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے درکار تکنیکی جدت اور دیگر ضروری اقدامات پر توجہ دی گئی۔

نقل و حمل و رسد مرکز کے اشتراک سے رسدی سلسلے کی پائیداری سے متعلق 2026 کی رپورٹ۔

موسمیاتی تبدیلی سے متعلق دیگر اہم نشستیں

موسمیاتی ہفتے کے دوران ایم آئی ٹی اور اس سے وابستہ اداروں نے کئی دیگر موضوعات پر بھی تقریبات منعقد کیں۔ ان میں شامل ہیں:

نقل و حمل و رسد مرکز کے اشتراک سے رسدی سلسلے کی پائیداری سے متعلق 2026 کی رپورٹ۔

ایم آئی ٹی لنکن تجربہ گاہ کے تعاون سے سیلابوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر نشست۔

ایم آئی ٹی کے موسمیاتی منصوبے کے تحت مؤثر موسمیاتی ابلاغ پر گفتگو۔

پرسیلا کنگ گرے سماجی اثرات مرکز کے اشتراک سے موسمیاتی حل پیش کرنے والے کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کے درمیان رابطوں کا موقع۔

مستقبل کے موسمیاتی رہنماؤں کی تعلیم کے موضوع پر ایم آئی ٹی کا نقطۂ نظر۔

عبد اللطیف جمیل آبی و غذائی نظام تجربہ گاہ کے تعاون سے بدلتے موسم میں غذائی تحفظ کے لیے تجارت پر بحث۔

نئے صنعتی تیاری اقدام کے اشتراک سے صنعتوں میں کاربن اخراج کم کرنے، پیداواری صلاحیت اور ترقی کے امکانات پر گفتگو۔

موسمیاتی معلومات کو عملی اقدامات میں بدلنے پر ایم آئی ٹی کی نشست، کھلی تعلیم کے تحت گفتگو

ایم آئی ٹی کے موسمیاتی منصوبے کے زیر اہتمام موسمیاتی جدت پر نظرثانی۔

ایم آئی ٹی سلون پائیداری اقدام کے اشتراک سے مختلف شعبوں میں تبدیلی کی رفتار بڑھانے اور اس کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے پر تبادلہ خیال۔

ماہرین نے اس مرحلے کا جائزہ لیا جو کسی امید افزا سائنسی ایجاد اور اس کے تجارتی استعمال کے درمیان حائل ہوتا ہے۔

بیزوس ارتھ فنڈ کے ساتھ موسمیاتی جدت کے نئے راستوں پر غور

موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں ایک اہم چیلنج یہ ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کی سائنسی کامیابی کو وسیع پیمانے پر عملی فوائد میں کیسے تبدیل کیا جائے۔

ایم آئی ٹی اور بیزوس ارتھ فنڈ نے صنعت، سرمایہ کاری، حکومت، تعلیمی اداروں، فلاحی تنظیموں اور نئے کاروباری اداروں سے وابستہ رہنماؤں کو ایک جگہ جمع کیا۔ اس اقدام کا مقصد موسمیاتی جدت کے ایسے مؤثر نظام پر غور کرنا تھا جو تحقیق سے لے کر عملی استعمال تک کے مراحل کو مضبوط بنا سکے۔

ایم آئی ٹی کے اساتذہ اور ادارے سے وابستہ نئی کمپنیوں کے رہنماؤں اسگن ہنری، سیونگ ہون وو، ایریل فرسٹ اور اسیل حلیمی نے اس نشست میں شرکت کی۔ گفتگو کی میزبانی سرمایہ کار اور ایم آئی ٹی کارپوریشن کے تاحیات رکن رے روتھراک نے کی۔

ماہرین نے اس مرحلے کا جائزہ لیا جو کسی امید افزا سائنسی ایجاد اور اس کے تجارتی استعمال کے درمیان حائل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق موسمیات اور قدرتی ماحول کے لیے فائدہ مند نئی ٹیکنالوجیز کو عملی شکل دینے کے لیے ابتدائی سائنسی اور انجینئرنگ تحقیق، خصوصی آزمائشی سہولتوں، نتائج کی تصدیق، طویل مدتی سرمایہ کاری اور تجرباتی منصوبوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایولین وانگ نے بیزوس ارتھ فنڈ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو ٹام ٹیلر سے گفتگو میں کہا کہ تجربہ گاہ میں حاصل ہونے والی کامیابی اس وقت تک حقیقی اثر نہیں ڈالتی جب تک اسے دنیا میں عملی طور پر استعمال نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی اور توانائی کی ٹیکنالوجیز کے لیے تحقیق، ایجاد، نتائج کی تصدیق، تجارتی تیاری اور عملی نفاذ تک کے پورے سفر پر توجہ دینا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں مختلف مراحل کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنے کے لیے بہتر راستے تشکیل دینا ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں

برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، شمالی علاقوں میں بجلی بند اور سفری نظام متاثر

موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، گھر کے ڈرائیو وے سے آگاہی مہم کا آغاز

عالمی رابطوں سے موسمیاتی حل تلاش کرنے کی کوشش

نیویارک موسمیاتی ہفتہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق عالمی سطح پر رابطوں اور تعاون کا ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں ممکنہ حل تیار کرنے، ان کی آزمائش اور انہیں وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کے لیے مختلف شعبوں کے افراد ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔

ایم آئی ٹی کی مختلف نشستوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ موسمیاتی حل نہ صرف بڑے پیمانے پر مؤثر ہونے چاہییں بلکہ تکنیکی اعتبار سے قابلِ عمل اور مقامی حالات کے مطابق بھی ہونے چاہییں۔

ایم آئی ٹی کی عبد اللطیف جمیل غربت کے خاتمے کی عملی تحقیق گاہ کی عالمی پالیسی اور ابلاغ کی ڈائریکٹر کلیئر والش نے کہا کہ کسی ٹیکنالوجی کی کم قیمت ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ لوگ اسے خود بخود اپنا لیں گے یا وہ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے لگے گی۔

ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجیز کو ابتدائی مرحلے میں متعارف کرانے پر زیادہ لاگت آسکتی ہے۔ اس لیے سائنس دانوں اور انجینئروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ابتدا ہی سے ٹیکنالوجی استعمال کرنے والوں کی ضروریات، ان کے لیے موجود ترغیبات اور درپیش رکاوٹوں کو مدنظر رکھیں۔

یہ نقطۂ نظر اس بات کی اہمیت اجاگر کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے حل صرف سائنسی تحقیق تک محدود نہ رہیں بلکہ انہیں عام لوگوں، مقامی آبادیوں اور مختلف شعبوں کی عملی ضروریات کے مطابق قابلِ رسائی اور مؤثر بھی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں