برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں، 82 ہزار گھر بجلی سے محروم، نیدرلینڈز میں 3 ملاح زخمی
فروزاں رپورٹ
لندن : برطانیہ میں ہفتے کے آخر میں آنے والے دو بڑے طوفانوں میں سے دوسرے طوفان نے اتوار کو اسکاٹ لینڈ، شمالی آئرلینڈ اور شمالی انگلینڈ میں نظامِ زندگی متاثر کر دیا۔ شدید موسم کے باعث سفری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جبکہ ہزاروں گھروں کی بجلی بھی منقطع ہوگئی۔
برطانیہ کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ طوفان بویلو کے باعث اڑتے ہوئے ملبے اور بلند لہروں سے انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ حتی الامکان گھروں کے اندر رہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اسکاٹ لینڈ کے علاقے آرگائل اینڈ بیوٹ میں ہوا کے جھکڑوں کی رفتار 135 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی۔
اسکاٹ لینڈ اور شمالی انگلینڈ میں اتوار کی رات تک تیز ہواؤں کے حوالے سے امبر وارننگ نافذ رہی۔ یہ برطانوی محکمہ موسمیات کی دوسری شدید ترین وارننگ ہے۔ مختلف علاقوں میں سیلاب سے متعلق انتباہات بھی جاری کیے گئے۔

طوفان کے باعث ہوائی اڈوں، فیری سروسز، ریلوے اور سڑکوں پر آمدورفت متاثر ہوئی۔ بجلی کی فراہمی میں تعطل کے باعث تقریباً 82 ہزار گھر بجلی سے محروم ہوگئے۔
طوفان بویلو جمعے کو آنے والے طوفان آسٹن کے بعد آیا، جس نے خصوصاً جنوبی انگلینڈ کو متاثر کیا تھا۔
برطانیہ کے محکمہ موسمیات نے شدید موسم کے بارے میں عوام کو بروقت خبردار کرنے کے لیے 2015 میں بڑے طوفانوں کے نام رکھنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ طوفانوں کے نام ستمبر سے اگست تک جاری رہنے والے موسمی دورانیے میں حروفِ تہجی کی ترتیب سے رکھے جاتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، گھر کے ڈرائیو وے سے آگاہی مہم کا آغاز
ٹیکسٹائل کے کاروباروں کے لیے گرین فنانس ٹول کٹ متعارف کرا دی گئی
یورپ کے دیگر علاقوں میں بھی موسم کی شدت
طوفان کے مشرق کی جانب براعظم یورپ کی طرف بڑھنے کے بعد نیدرلینڈز بھی شدید ہواؤں کی لپیٹ میں آگیا۔ ایمسٹرڈیم کے شیفول ہوائی اڈے نے مسافروں کو خبردار کیا کہ تیز ہواؤں کے باعث پروازیں منسوخ ہونے اور تاخیر کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔

نیدرلینڈز کے کوسٹ گارڈ کے مطابق اتوار کی سہ پہر ملک کے شمال میں واقع جزیرے شیئرمانیکوگ کے قریب ایک مال بردار جہاز کے عملے کے تین ارکان زخمی ہوگئے۔ جہاز کے انجن میں عارضی خرابی بھی پیدا ہوئی تھی۔
زخمی ملاحوں میں سے دو کو ونچ کی مدد سے جہاز سے نکالا گیا اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے مرکزی علاقے کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام نے فوری طور پر ان کی چوٹوں کی نوعیت نہیں بتائی۔
یو ایچ ایل فریڈم نامی اس مال بردار جہاز پر عملے کے 25 ارکان سوار تھے۔ اتوار کی شام جہاز محدود انجن پاور کے ساتھ سفر کر رہا تھا، جبکہ کوسٹ گارڈ کا ایک ہنگامی امدادی ٹگ بوٹ قریب ہی تیار کھڑا تھا۔
شیئرمانیکوگ جزیرہ نیدرلینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم سے تقریباً 190 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

