Environmental Reports • Farozaan

سیاہ فام ووٹرز کی دوہری جنگ، مہنگائی اور ماحولیاتی خطرات

Black Voters’ Double Battle: Inflation and Environmental Threats

سیاہ فام ووٹرز کے لیے بجلی کے بلوں میں کمی، صاف پانی اور آلودگی سے تحفظ اہم، 74 فیصد نے روزمرہ اخراجات کو ووٹ کی ترجیح بتایا

امریکی ریاست شمالی کیرولائنا میں الیجاہ لی کے لیے ماحول کا تحفظ ہمیشہ سے ان کے اپنے علاقے کے حالات سے جڑا رہا ہے۔

وہ امریکی ریاست شمالی کیرولائنا کے شہر روئنوک ریپڈز کی ایک ایسی کم آمدنی والی آبادی میں پلے بڑھے جہاں سیاہ فام افراد کی اکثریت تھی۔ ان کا اسکول کاغذ بنانے والی ایک فیکٹری کے قریب واقع تھا، جہاں سے نکلنے والا دھواں فضا کو آلودہ کرتا تھا۔ وہ اکثر سوچتے تھے کہ شہر کے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع اسی فیکٹری تک کیوں محدود دکھائی دیتے ہیں۔

اب ورجینیا میں ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی تعداد ان کے لیے ایک نیا سوال بن گئی ہے۔ نوعمری میں ورجینیا منتقل ہونے والے لی کو خدشہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کی وجہ سے معاشی ترقی اور روزگار کے جو وعدے کیے جا رہے ہیں، ان سے انہیں اور ان کی نسل کو شاید فائدہ نہ پہنچ سکے۔

18 سالہ لی اپنے پہلے وسط مدتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ماحولیاتی پالیسی ان کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اپنے بل ادا کرنے کے لیے جدوجہد کرنے والے افراد کے لیے ماحول کا تحفظ اولین ترجیح بنانا آسان نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب لوگ کھانا خریدنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتے تو ان کے لیے یہ سوچنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ہوا کتنی صاف ہے، خوراک معیاری ہے یا نہیں اور وہ محفوظ بھی ہے یا نہیں۔

تازہ رائے شماری سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کشمکش صرف چند افراد تک محدود نہیں۔ سیاہ فام ووٹرز شاید انتخابی ترجیحات میں موسمیاتی تبدیلی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار نہ دیں، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندے اس سے نمٹنے کے لیے اقدامات کریں۔

کلائمیٹ ایکویٹی ایکشن فنڈ اور لیگ آف کنزرویشن ووٹرز کے لیے ایچ آئی ٹی اسٹریٹیجیز کی جانب سے سات امریکی ریاستوں میں کیے گئے سروے کے مطابق، صرف 9 فیصد سیاہ فام رجسٹرڈ ووٹرز نے موسمیاتی تبدیلی کو ووٹ ڈالنے کی تین اہم وجوہات میں شامل کیا، جبکہ 74 فیصد نے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کو اپنی ترجیح قرار دیا۔

اس کے باوجود، زیادہ تر شرکا نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو موسمیاتی پالیسی کو اہمیت دینی چاہیے۔ یہاں تک کہ سیاہ فام ریپبلکن ووٹرز میں سے بھی 79 فیصد نے کہا کہ امیدواروں کے لیے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کو ترجیح دینا اہم ہے۔

ووٹرز اور ماحولیاتی کارکنوں سے گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فرق صرف پیغام رسانی کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس بات سے بھی جڑا ہے کہ لوگ ماحولیاتی پالیسی اور اپنی روزمرہ ضروریات کے درمیان تعلق کو کس حد تک سمجھتے ہیں۔

اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہو رہا ہے کہ جب عوام کو منتخب نمائندوں سے کم بلوں، صاف پانی اور صنعتی آلودگی سے تحفظ کے وعدے پورے ہونے کا یقین نہ ہو تو وہ ووٹ دیتے وقت ماحولیاتی پالیسی کو کتنی ترجیح دیں۔

لی کا کہنا ہے کہ آج کے نوجوان چاہتے ہیں کہ ان کا مستقبل خوش حالی سے بھرپور ہو۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس مستقبل کے لیے ماحول کا تحفظ ضروری ہے، لیکن ان کے خیال میں فی الحال اسے وہ ترجیح نہیں دی جا رہی جس کی ضرورت ہے۔

ٹی بیس کے مطابق، یہی وہ مقام ہے جہاں عوام کے اعتماد میں کمی دکھائی دیتی ہے۔

گھروں کے بجٹ تک پہنچتی موسمیاتی سیاست

یہ سروے رواں سال 24 ستمبر سے 10 اکتوبر کے دوران کیا گیا، جس میں 2024 کے امریکی انتخابات میں اہم سمجھی جانے والی ریاستوں میں 2 ہزار سیاہ فام اور لاطینی رجسٹرڈ ووٹرز کی رائے لی گئی۔

ایریزونا، جارجیا، مشی گن، نیواڈا، شمالی کیرولائنا، اوہائیو اور پنسلوانیا میں سروے کے 70 فیصد شرکا نے کہا کہ وہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا امکان رکھتے ہیں۔

دونوں نسلی گروہوں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 89 فیصد شرکا نے کہا کہ امیدواروں کو توانائی کے اخراجات کم کرنے کو ترجیح دینی چاہیے۔ 86 فیصد نے فضائی اور آبی آلودگی میں کمی کو اہم قرار دیا، جبکہ 82 فیصد نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اقدامات کی حمایت کی۔

ایچ آئی ٹی اسٹریٹیجیز کی سینئر تجزیہ کار ایریکا ٹی بیس کے مطابق، اصل مسئلہ سیاہ فام ووٹرز کو یہ قائل کرنا نہیں کہ ماحولیاتی خطرات موجود ہیں، بلکہ انہیں یہ یقین دلانا ہے کہ منتخب نمائندے ان کے خدشات دور کریں گے اور ان کے ووٹ سے ان کی برادری میں حقیقی تبدیلی آئے گی۔

ٹی بیس کے مطابق، یہی وہ مقام ہے جہاں عوام کے اعتماد میں کمی دکھائی دیتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انتخابات میں موسمیاتی تبدیلی کا نسبتاً کم ترجیح پانا اس بات کا ثبوت نہیں کہ لوگ اس مسئلے سے لاتعلق ہیں۔ جب بات بجلی کے بلوں، پینے کے صاف پانی یا شدید موسمی حالات کی ہو تو یہ خدشات فوری اور ذاتی نوعیت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کے برعکس، ’’موسمیاتی تبدیلی‘‘ کی اصطلاح بعض افراد کو ایک غیر واضح یا دور کا مسئلہ محسوس ہو سکتی ہے۔

لیگ آف کنزرویشن ووٹرز کے قومی فیلڈ ڈائریکٹر بل ہیرسٹن بھی شہریوں سے گفتگو میں اسی رجحان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور توسیع نے لوگوں کو توانائی اور ماحول سے متعلق پالیسیوں پر بات کرنے کی طرف متوجہ کیا ہے۔

مقامی آبادیوں کو خدشہ ہے کہ ان منصوبوں سے بجلی کے بلوں، فضائی آلودگی اور رہائشی اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، بعض علاقوں میں آبادیاتی تبدیلی اور مہنگائی کے باعث پرانے رہائشیوں کے لیے وہاں رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔

ہیرسٹن کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ ان مختلف مسائل کے درمیان تعلق کو سمجھیں۔

وہ مغربی ورجینیا کے شہر چارلسٹن میں ایک غریب سیاہ فام محلے میں پلے بڑھے، جہاں ان کے دادا دادی کا گھر تھا۔ وہاں روزانہ کوئلے سے لدے ٹرک گزرتے تھے۔ انہیں یاد ہے کہ گھر کے اردگرد گھاس زرد دکھائی دیتی تھی اور اس پر کوئلے کی سیاہ گرد جمی ہوتی تھی۔

ان کے بقول، انہوں نے اپنی دادی کے گھر کے اردگرد گھاس کو کبھی سبز نہیں دیکھا۔

بچپن میں وہ ان حالات اور محلے سے متعلق فیصلوں کے درمیان تعلق پوری طرح نہیں سمجھ سکے، تاہم اب ان کا خیال ہے کہ ووٹرز کو ان معاملات کے باہمی تعلق پر زیادہ غور کرنا چاہیے۔

ہیرسٹن کے مطابق، ڈیٹا سینٹرز کے حوالے سے ہونے والی بحث اس بات کا موقع فراہم کرتی ہے کہ صنعتوں کے قیام کو صحت، اخراجات اور حکومتی نگرانی جیسے مسائل سے جوڑ کر دیکھا جائے۔ ان کے نزدیک یہ الگ الگ معاملات نہیں، بلکہ یہ جاننا ضروری ہے کہ فیصلے کون کر رہا ہے اور ان سے کس کے مفادات پورے ہو رہے ہیں۔

رائے شماری سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ووٹرز کو اس بات پر شکوک ہیں کہ پالیسیوں کے ذریعے کیے گئے وعدوں سے ان کے گھرانوں کو حقیقتاً فائدہ پہنچے گا یا نہیں۔

ڈیٹا سینٹرز کی توسیع کا بوجھ کون اٹھائے گا؟

سروے میں سیاہ فام ووٹرز کی بڑی تعداد نے خدشہ ظاہر کیا کہ ڈیٹا سینٹرز کے پھیلاؤ سے بجلی کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔

رائے شماری سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ووٹرز کو اس بات پر شکوک ہیں کہ پالیسیوں کے ذریعے کیے گئے وعدوں سے ان کے گھرانوں کو حقیقتاً فائدہ پہنچے گا یا نہیں۔

شرکا کو بتایا گیا کہ امریکی کانگریس ایک ایسی پالیسی پر غور کر رہی ہے جس کے تحت ڈیٹا سینٹرز بنانے والی کمپنیوں کو اپنی استعمال کردہ بجلی کے اخراجات خود ادا کرنا ہوں گے، تاکہ یہ بوجھ صارفین پر منتقل نہ کیا جائے۔

اس ممکنہ تحفظ کے بارے میں بتائے جانے کے باوجود، 52 فیصد سیاہ فام ووٹرز نے توقع ظاہر کی کہ ڈیٹا سینٹرز عام امریکیوں کے بجلی کے اخراجات میں اضافہ کریں گے۔

ٹی بیس کے مطابق، عوام کو اس قسم کی پالیسی پر ضروری نہیں کہ اعتماد ہو کہ وہ انہیں اضافی اخراجات اٹھانے سے واقعی محفوظ رکھ سکے گی۔

کلائمیٹ ایکویٹی ایکشن فنڈ کی سربراہ اینڈریا کرسٹینا مرکاڈو کے مطابق، یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ سیاہ فام آبادیوں کو موسمیاتی تبدیلی اور ماحول سے متعلق پالیسیوں کے ناکام نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

الیجاہ لی اس کی ایک مثال ہیں۔ وہ اس وقت ورجینیا میں رہتے ہیں، جسے امریکا میں ڈیٹا سینٹرز کا سب سے بڑا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔ انہیں ڈیٹا سینٹرز بنانے والی کمپنیوں کو دی جانے والی ٹیکس رعایتوں اور ان منصوبوں کے حق میں پیش کیے جانے والے روزگار کے وعدوں پر سوالات ہیں۔

لی کو خدشہ ہے کہ مقامی آبادیوں سے ان منصوبوں کی قیمت برداشت کرنے کو کہا جائے گا، لیکن انہیں وہ فوائد نہیں ملیں گے جن کا وعدہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ورجینیا میں سرمایہ کاری اور آمدنی لانا اہم ہے، لیکن ڈیٹا سینٹرز کو بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرنے کا ذریعہ قرار دینا درست نہیں۔

مرکاڈو کے مطابق، اسی لیے موسمیاتی پالیسی کو عوام کے اخراجات اور معیشت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی اقدامات میں محنت کش طبقے کی ضروریات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کے بقول، اخراجات میں اضافے کے خدشات ڈیٹا سینٹرز کے خلاف ایک بڑی عوامی تحریک کے ابھرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تھرپارکر میں خشک سالی کا بحران، گھر بار چھوڑنے پر مجبور لوگ

گھانا سے ایمازون تک سونے کی دوڑ، جنگلات خطرے میں

سیاسی وابستگی سے بالاتر ماحولیاتی خدشات

سروے کے مطابق، سیاہ فام ووٹرز میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق تشویش سیاسی وابستگی سے بالاتر دکھائی دی۔ اس معاملے پر سیاہ فام اور لاطینی ووٹرز کے درمیان فرق بھی سامنے آیا۔

سیاہ فام ریپبلکن ووٹرز میں سے 79 فیصد نے کہا کہ امیدواروں کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کو ترجیح دینی چاہیے، جبکہ لاطینی ریپبلکن ووٹرز میں یہ شرح 59 فیصد رہی۔

ہیرسٹن کے مطابق، اس رجحان کی ایک وجہ سیاہ فام آبادیوں کے عملی تجربات ہیں۔ ان آبادیوں کو آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مسائل، مثلاً سیلاب، کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کے خیال میں یہ تجربات مختلف سیاسی وابستگی رکھنے والے افراد کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں پر آمادہ کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، ماحولیاتی کارکنوں کے لیے ایک اہم چیلنج لوگوں کو یہ یقین دلانا ہے کہ عملی اقدامات سے حقیقی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ٹی بیس کے مطابق، سیاسی عمل سے تبدیلی لانے کے بارے میں یہ شکوک نوجوان ووٹرز کے لیے خاص طور پر اہم ہیں۔

تقریباً نصف شرکا نے کہا کہ طاقتور مفاداتی گروہ اور دولت مند کمپنیاں ماحولیاتی نقصان کم کرنے کی سنجیدہ کوششوں کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹ بنیں گی، چاہے عام لوگ کچھ بھی کر لیں۔ ان میں یہ خیال بھی پایا گیا کہ نقصان کم کرنے کے لیے اب بہت دیر ہو چکی ہے۔

تاہم، 45 فیصد سیاہ فام ووٹرز کا خیال تھا کہ لوگ ووٹ ڈالنے، درخواستوں پر دستخط کرنے اور بائیکاٹ کے ذریعے متحد ہو کر حکومت اور کمپنیوں کو جواب دہ بنا سکتے ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کے نقصان دہ اثرات کم کر سکتے ہیں۔

ٹی بیس کے مطابق، سیاسی عمل سے تبدیلی لانے کے بارے میں یہ شکوک نوجوان ووٹرز کے لیے خاص طور پر اہم ہیں۔

اس کے باوجود، کالج کے پہلے سال میں زیرِ تعلیم الیجاہ لی نوجوانوں میں تبدیلی کی امید دیکھتے ہیں۔ انہوں نے جنوبی کیرولائنا کے شہر اسپارٹن برگ میں ہائی اسکول کے طلبہ کی مثال دی، جو اپنے علاقے میں مجوزہ ڈیٹا سینٹر کے منصوبے کے خلاف منظم ہو رہے ہیں اور اپنے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں اپنی آواز شامل کرنا چاہتے ہیں۔

لی چاہتے ہیں کہ بڑی عمر کے ووٹرز نوجوانوں کے خدشات سنیں، بجائے اس کے کہ یہ فرض کر لیا جائے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں پروان چڑھنے والی نسل اس سے متعلق ہر منصوبے کا خیرمقدم کرے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ نوجوان جانتے ہیں کہ انہیں مستقبل، معیشت، رہائش اور خوراک کی قیمتوں سے متعلق ایسے حالات ورثے میں مل رہے ہیں جن پر ان کا اختیار محدود ہے۔

لی کے مطابق، انہیں سب سے زیادہ تحریک گہری تشویش کے ساتھ اس امید سے ملتی ہے کہ موجودہ حالات کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں