Environmental Reports • Farozaan

گھانا سے ایمازون تک سونے کی دوڑ، جنگلات خطرے میں

Gold Rush from Ghana to the Amazon, Forests at Risk

گھانا سے ایمازون تک سونے کی قیمتوں میں 120 فیصد اضافہ، غیر قانونی کان کنی سے جنگلات اور قدرتی ماحول خطرے میں

عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث دنیا کے حساس جنگلات میں غیر قانونی کان کنی تیز ہو رہی ہے۔ گھانا سے ایمازون کے گھنے جنگلات تک سونا نکالنے کے لیے درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی جاری ہے۔ اس سے قدرتی ماحول، آبی ذخائر اور مقامی آبادیوں کی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

سنہ 2001 سے 2019 کے دوران سونے کی کان کنی نے دیگر تمام معدنیات کے مقابلے میں زیادہ جنگلات کی تباہی میں کردار ادا کیا۔ اس سے جنوبی امریکا کے ایمازون، مغربی افریقہ کے ساحلی جنگلات، روس کے شمالی جنگلات اور میانمار و انڈونیشیا کے علاقے متاثر ہوئے۔

گزشتہ پانچ برس میں سونے کی قیمتوں میں 120 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ جغرافیائی سیاسی عدم استحکام اور بین الاقوامی تجارت میں رکاوٹوں نے بھی قیمتوں میں اضافے کو تقویت دی ہے۔ اس صورت حال نے دور دراز اور ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقوں میں کان کنی کو مزید منافع بخش بنا دیا ہے۔

ایمازون کنزرویشن میں غیر قانونی جنگلات کی کٹائی کی روک تھام کے شعبے کے سینئر مینیجر آندریس سانتانا کے مطابق، سونے کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کان کنی کو وسعت دینے کے لیے مضبوط معاشی ترغیب فراہم کرتا ہے۔ زیادہ قیمتوں سے سونا نکالنے کا ممکنہ منافع بڑھ جاتا ہے، جس سے جنگلات اور مقامی آبادیوں پر دباؤ مزید بڑھتا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹنگ کے مطابق، گزشتہ دہائی کے دوران افریقہ سے سونے کی اسمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے۔

غیر قانونی کان کنی، جرائم پیشہ گروہوں کے لیے منافع بخش کاروبار

سونے کی بڑھتی قیمتوں کے ساتھ جرائم پیشہ گروہ بھی غیر قانونی کان کنی میں سرگرم ہو گئے ہیں۔ سونے کو دوبارہ پگھلا کر نئی شکل دی جا سکتی ہے۔ اس وجہ سے اس کی اصل شناخت چھپانا، غیر قانونی تجارت کرنا اور ناجائز دولت کو قانونی ظاہر کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹنگ کے مطابق، گزشتہ دہائی کے دوران افریقہ سے سونے کی اسمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ اسمگل شدہ سونا مالی سمیت مختلف علاقائی تجارتی مراکز اور دبئی، استنبول اور ممبئی جیسی منڈیوں کے ذریعے عالمی بازاروں تک پہنچتا ہے۔ ماحولیاتی کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ اس تجارت میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے۔

ماحولیاتی تنظیم فرن کی مہمات کی رابطہ کار ہنّا موواٹ کے مطابق، متعدد ممالک میں چھوٹے پیمانے پر ہونے والی غیر قانونی کان کنی پر بڑے اور بااثر گروہوں کا کنٹرول ہے۔ ان گروہوں کو بیرونی سرمایہ کاری اور اعلیٰ سطح کے سیاسی روابط حاصل ہوتے ہیں۔ ان کے بقول، یہ روایتی طریقوں سے سونا تلاش کرنے والے چھوٹے کان کن نہیں، بلکہ جدید مشینری، بڑے مالی وسائل اور مضبوط روابط رکھنے والے منظم عناصر ہیں۔

غیر قانونی کان کنی کے اثرات صرف جنگلات کی کٹائی تک محدود نہیں۔ اس عمل میں استعمال ہونے والا پارہ اور سائینائیڈ پانی کے ذخائر اور غذائی زنجیروں کو آلودہ کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کان کنی کے مقامات کے زیریں علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کو صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بوسو غیر قانونی کان کنی میں ملوث کان کنوں اور سیاست دانوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی چاہتے ہیں۔

گھانا میں آلودہ دریا اور تباہ ہوتے جنگلات

افریقی ملک گھانا غیر قانونی کان کنی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ ماحولیاتی تنظیم مائٹی ارتھ کے مشیر اور جغرافیائی معلومات کے تجزیہ کار جوناتھن بائرز نے اپنے حالیہ دورۂ گھانا کے دوران دریا کی پوری وادیوں میں پانی کو آلودگی کے باعث دودھیا بھورا ہوتے دیکھا۔

ان کے مطابق، پانی کی آلودگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ بعض مقامات پر اسے کوکو کے درختوں پر استعمال کرنا بھی ممکن نہیں، کیونکہ اس سے درخت مر جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کے انسانی اثرات انتہائی تباہ کن ہیں۔

گھانا میں 2022 کے دوران اس وقت کی حکومت نے قانون سازی کے ذریعے ملک کے 90 لاکھ ہیکٹر جنگلاتی محفوظ علاقوں میں سے تقریباً 90 فیصد حصے میں کان کنی کی راہ کھول دی تھی۔

ایک تحقیق کے مطابق، ایک محفوظ جنگلاتی علاقے میں کان کنی کی سرگرمیاں 19 گنا بڑھنے کے ساتھ جنگلات کا رقبہ 5.9 فیصد کم ہو گیا۔ کان کنی سے شدید متاثرہ مقامات پر نباتات مکمل طور پر ختم ہو گئیں۔

اس صورت حال کے ردعمل میں گھانا کولیشن اگینسٹ گلامسے قائم کیا گیا، جو غیر قانونی کان کنی کے خلاف سرگرم ہے۔ ماحولیاتی تنظیم اے روشے گھانا کے نائب ڈائریکٹر ڈیرل بوسو کے مطابق، گلامسے کا مفہوم تقریباً سونا جمع کرکے فروخت کرنا ہے۔ ماضی میں بارشوں کے بعد لوگ دریا کے کناروں اور کھیتوں سے سونے کے ذرات جمع کرتے تھے، لیکن اب یہ سرگرمی بڑے پیمانے پر غیر قانونی کان کنی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

گھانا کی نئی حکومت نے 2025 میں سابقہ قانون واپس لے لیا، تاہم بوسو کے مطابق زمینی صورت حال میں نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ محفوظ جنگلات اب بھی غیر قانونی کان کنوں کے ہاتھوں تباہ ہو رہے ہیں۔

گزشتہ سال گھانا کی حکومت نے سونے کی اسمگلنگ میں ملوث جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے گولڈ بورڈ قائم کیا۔ تاہم بوسو کا کہنا ہے کہ یہ نظام سونے کے اصل ماخذ اور اس کی سپلائی چین کا سراغ لگانے کے مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ ان کے خدشے کے مطابق، گھانا میں جنگلات کی تباہی سے منسلک سونا اب بھی لندن کی منڈیوں تک پہنچ رہا ہے، جہاں عالمی سونے کی تجارت کا تقریباً 70 فیصد حصہ ہوتا ہے۔

بوسو غیر قانونی کان کنی میں ملوث کان کنوں اور سیاست دانوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے انہیں امید کی ایک کرن بھی دکھائی دیتی ہے۔ جولائی میں سیاست دان اور کاروباری شخصیت برنارڈ انٹوی بواسیئکو کو غیر قانونی کان کنی میں ملوث ہونے پر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اسی دوران گھانا اور ورلڈ گولڈ کونسل نے ملک میں چھوٹے پیمانے پر سونے کی کان کنی کے شعبے کو باقاعدہ بنانے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس میں سرمایہ کاری اور تربیت شامل ہے۔

جنوبی امریکا کا ایمازون خطہ بھی سونے کی بڑھتی طلب کے باعث جنگلات کی کٹائی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔

ایمازون کے جنگلات میں کان کنی سے تباہی کی نئی لہر

جنوبی امریکا کا ایمازون خطہ بھی سونے کی بڑھتی طلب کے باعث جنگلات کی کٹائی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔

ایمازون مائننگ واچ پینوراما کی مارچ میں جاری ہونے والی پہلی رپورٹ کے مطابق، 2025 کی آخری سہ ماہی میں ایمازون بیسن میں کان کنی سے متعلق جنگلات کی تقریباً 6,000 ہیکٹر نئی تباہی ریکارڈ کی گئی۔ اس کی بڑی وجہ سونے کی تلاش قرار دی گئی۔

ایمازون مائننگ واچ ایک نگرانی کا پلیٹ فارم ہے، جس کی قیادت ایمازون کنزرویشن، ارتھ جینوم اور پلٹزر سینٹر کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایمازون خطے کے تمام نو ممالک میں کان کنی سے متاثرہ علاقوں کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج کے مطابق، ایکواڈور کے علاقے ٹیریٹوریو چاریپ سمیت مختلف مقامات پر کان کنی کے نئے آثار سامنے آئے۔ برازیل کے ایگاراپیس دو جورُوئینا اسٹیٹ پارک میں بھی سرگرمیاں دوبارہ بڑھ گئیں۔ اگست 2025 سے اپریل 2026 کے درمیان اس پارک میں کان کنی سے متعلق جنگلات کی تباہی میں 660 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

پیرو کے تمبوپاتا نیشنل ریزرو میں بھی جنگلات کی مزید 200 ہیکٹر تباہی کا پتا چلا۔ اس علاقے میں حکومت کی ایک بڑی کارروائی کے بعد جنگلات کی تباہی میں کمی دیکھی گئی تھی۔

ایمازون کنزرویشن کے آندریس سانتانا کے مطابق، جرائم پیشہ تنظیمیں سونے کی ناقص نگرانی اور قانونی تقاضوں میں موجود خامیوں سے فائدہ اٹھا کر غیر قانونی طور پر نکالے گئے سونے کو قانونی سپلائی چین میں شامل کر سکتی ہیں۔ ایمازون کا وسیع جغرافیائی رقبہ، کمزور ادارہ جاتی نظام اور علاقائی تعاون کی کمی ان سرگرمیوں کی روک تھام کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔

سونے کی کان کنی سے متعلق قوانین اور پالیسیوں کا جائزہ لینے کے لیے ایمازون کنزرویشن نے مائننگ پالیسی اسکور بورڈ بھی متعارف کرایا ہے۔ اس کے ذریعے خطے کے مختلف ممالک کے قانونی اور پالیسی نظام کا موازنہ کیا جاتا ہے۔

جائزے کے مطابق، متعدد ممالک میں قوانین تو موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد کمزور ہے۔ حکومتیں غیر قانونی کان کنی کی بنیادی وجوہات کا مؤثر حل نکالنے اور مقامی آبادیوں کو روزگار کے متبادل ذرائع فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان میں بھوک کا بحران: خالی پیٹ، کمزور بچے اور بڑھتے موسمیاتی خطرات

سندھ کا پہلا انجینئرڈ لینڈ فل منصوبہ شروع

غربت اور موسمیاتی خطرات بھی کان کنی کو بڑھا رہے ہیں

ماہرین کے مطابق، غیر قانونی کان کنی کو صرف پابندیوں کے ذریعے ختم کرنا مشکل ہے، کیونکہ لاکھوں افراد اپنی روزی روٹی کے لیے اس شعبے پر انحصار کرتے ہیں۔

لزبن کی نیو یونیورسٹی کے نووا اسکول آف بزنس اینڈ اکنامکس کی پروفیسر وکٹوار ژیرار کے مطابق، لوگ اکثر متبادل روزگار نہ ہونے کے باعث سونے کی کان کنی کی طرف آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر خشک سالی کے باعث کسانوں کی فصلیں تباہ ہو جائیں تو وہ آمدنی کے متبادل ذریعے کے طور پر سونے کی تلاش شروع کر سکتے ہیں۔

گھانا میں بھی کوکو کی کاشت سے حاصل ہونے والی آمدنی کم ہونے کے باعث بعض کسان اپنے باغات ختم کرکے زمین کو کان کنی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس رجحان کو روکنے کے لیے ژیرار کے مطابق، حکومتوں اور کمپنیوں کو فصلوں کی انشورنس، کم شرح پر قرضوں اور کسانوں کے لیے بہتر معاشی مواقع پر توجہ دینا ہوگی۔

ماحولیاتی تنظیم فرن کی ہنّا موواٹ بھی اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ کان کنی کسی نہ کسی شکل میں جاری رہے گی۔ تاہم، ان کے مطابق مقامی آبادیوں کو زمین سے نکالے جانے والے سونے سے حاصل ہونے والی آمدنی اور دولت میں زیادہ حصہ ملنا چاہیے۔

اس مقصد کے لیے کان کنی کے اجازت ناموں کی تقسیم میں مقامی برادریوں کی شمولیت، کمیونٹی کے لیے زیادہ فوائد اور چھوٹے پیمانے پر کان کنی کرنے والوں کی بہتر تربیت ضروری ہے۔

ورلڈ گولڈ کونسل کے عالمی سربراہ برائے عوامی پالیسی اینڈریو نیلر کے مطابق، قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے اور حکمرانی کا نظام بہتر بنانے کی بنیادی ذمہ داری حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم، صنعت اور سول سوسائٹی بھی قانونی طریقوں سے حاصل کیے گئے سونے کو عالمی منڈی تک پہنچانے کے راستے بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

ان کے بقول، جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو روکنے کے لیے قانون نافذ کرنا ضروری ہے، لیکن کان کنی کے شعبے کو باقاعدہ بنانا ایسے گروہوں کی دوبارہ واپسی روکنے میں مدد دیتا ہے۔

تاہم، موواٹ کا کہنا ہے کہ ورلڈ گولڈ کونسل کے قواعد رضاکارانہ ہیں اور ان کی نگرانی کے لیے بیرونی جانچ کا مؤثر نظام موجود نہیں۔

دسمبر میں لندن میں غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں سے متعلق عالمی اجلاس منعقد ہوگا۔

عالمی منڈیوں میں سونے کی اصل شناخت یقینی بنانے کا مطالبہ

دسمبر میں لندن میں غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں سے متعلق عالمی اجلاس منعقد ہوگا۔ اس موقع پر فرن سمیت مختلف سول سوسائٹی تنظیمیں غیر قانونی کان کنی کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کے لیے تجاویز پیش کریں گی۔

ان تجاویز میں غربت کے خاتمے، چھوٹے کان کنوں کے لیے قانونی روزگار کے مواقع اور مالیاتی مراکز میں نگرانی سخت کرنے پر زور دیا جائے گا۔ اس کا مقصد غیر قانونی سونے کو قانونی سونے میں شامل کرکے عالمی مالیاتی نظام تک پہنچنے سے روکنا ہے۔

فرن کی ہنّا موواٹ کے مطابق، جب تک ذمہ دارانہ سونے کی تجارت کے لیے واضح بین الاقوامی معیار متعارف نہیں کرائے جاتے اور عالمی منڈی کے شرکا کے لیے سونے کا اصل ماخذ معلوم کرنا لازمی نہیں ہوتا، اس وقت تک مغربی منڈیاں غیر قانونی کان کنی کو فروغ دینے کا سبب بنتی رہیں گی۔ ان کے مطابق، اس سے عالمی عدم استحکام، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ماحولیاتی نقصان میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، سونے کی عالمی طلب میں اضافے کے ساتھ اس کی سپلائی چین کی مؤثر نگرانی بھی ضروری ہے۔ اگر سونے کے اصل ماخذ کی تصدیق اور غیر قانونی کان کنی کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی سطح پر واضح معیارات نافذ نہ کیے گئے تو جنگلات کی تباہی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ماحولیاتی نقصان میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں