Farozaan • Wildlife

برطانیہ میں آکٹوپس کا راج، سمندر میں کیا بدل گیا؟

Octopus Takeover in Britain: What Has Changed in the Sea?

برطانیہ میں آکٹوپس کی افزائش، درجہ حرارت میں اضافے سے سمندری حیات متاثر، ماہی گیروں کو کروڑوں پاؤنڈ کا نقصان

برطانیہ کے سمندری پانیوں میں آکٹوپس کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سمندر کے بڑھتے درجہ حرارت کو اس کی اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی نے ماہی گیروں کے روزگار اور روایتی ماہی گیری کی صنعت کے لیے نئے خطرات پیدا کردیے ہیں۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق، برطانیہ کے جنوب مغربی ساحل کے قریب آکٹوپس کی تعداد میں موجودہ اضافہ کم از کم گزشتہ 75 برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس دوران عام آکٹوپس کی بڑے پیمانے پر افزائش بھی دیکھی گئی ہے۔

سمندری صنعت کے ادارے سی فش کے مطابق، برطانیہ سے آکٹوپس کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایک سال قبل برآمدات ایک لاکھ 64 ہزار پاؤنڈ تھیں، جو گزشتہ سال بڑھ کر ایک کروڑ 28 لاکھ پاؤنڈ تک پہنچ گئیں۔ فرانس اور اسپین اس کے بڑے خریداروں میں شامل ہیں۔

بعض ماہی گیری کے شعبوں میں شکار کی مقدار 30 سے 50 فیصد تک کم ہونے کی اطلاعات ہیں۔

آکٹوپس کی افزائش سے سمندری حیات کو خطرہ

آکٹوپس کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ماہی گیروں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ محققین کے مطابق، برطانیہ کے نصف سے زیادہ ماہی گیروں نے شکایت کی ہے کہ آکٹوپس کی جانب سے کیکڑوں، لابسٹر اور اسکیلپس کا شکار کیے جانے سے ان کے ذخائر متاثر ہورہے ہیں۔

بعض ماہی گیری کے شعبوں میں شکار کی مقدار 30 سے 50 فیصد تک کم ہونے کی اطلاعات ہیں۔ متاثرہ ماہی گیروں کو 2025 میں ایک کروڑ پاؤنڈ سے زیادہ کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

صورتحال پر غور کے لیے برطانوی حکومت نے رواں ہفتے کے آغاز میں ایک کانفرنس منعقد کی۔

آکٹوپس کے شکار میں 1500 فیصد اضافہ

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، 2021 کے بعد برطانیہ میں آکٹوپس کے شکار کی مقدار میں تقریباً 1500 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کا سالانہ حجم بڑھ کر 3 ہزار 700 میٹرک ٹن سے تجاوز کرگیا ہے، جبکہ اس سے پہلے سالانہ اوسط تقریباً 220 ٹن تھی۔

صورتحال پر غور کے لیے برطانوی حکومت نے رواں ہفتے کے آغاز میں ایک کانفرنس منعقد کی۔ اس میں ماہی گیروں، متعلقہ اداروں کے نمائندوں اور سائنس دانوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں آکٹوپس کی بڑھتی ہوئی تعداد سے پیدا ہونے والے مسائل اور ان سے نمٹنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

برطانوی حکومت نے جمعے کو کہا کہ اس کانفرنس سے آکٹوپس کی اس نئی ماہی گیری کو منظم کرنے اور مستقبل کی پالیسیوں کے تعین میں مدد ملے گی۔ اسپین اور آسٹریلیا بھی حالیہ برسوں میں آکٹوپس کی بڑھتی ہوئی تعداد سے پیدا ہونے والے ایسے مسائل کا سامنا کرچکے ہیں۔

ان کے مطابق، آکٹوپس کی بڑھتی ہوئی تعداد ماہی گیروں کے لیے خطرہ بھی ہے اور ایک نیا موقع بھی۔

ماہی گیروں کے لیے خطرہ اور نیا موقع

نیشنل فیڈریشن آف فشرمینز آرگنائزیشنز کے چیف ایگزیکٹو مائیک کوہن نے کہا کہ تیزی سے افزائش پانے والی، مختصر عمر رکھنے والی اور شکار کرنے کی غیر معمولی صلاحیت کی حامل اس نوع کی اچانک آمد نے ساحلی ماحولیاتی نظام سے متعلق روایتی معلومات اور توقعات کو بدل دیا ہے۔

ان کے مطابق، آکٹوپس کی بڑھتی ہوئی تعداد ماہی گیروں کے لیے خطرہ بھی ہے اور ایک نیا موقع بھی۔ تاہم، اس صورتحال نے ماہی گیری کے انتظام سے متعلق اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کردیا ہے۔

برطانوی محکمہ ماحولیات کی چیف سائنسی مشیر انجلی گوسوامی نے آکٹوپس کی تعداد میں اضافے کو اس بات کی واضح یاد دہانی قرار دیا کہ سمندری ماحولیاتی نظام کتنی تیزی سے تبدیل ہوسکتا ہے۔

آکٹوپس کی بڑھتی ہوئی تعداد سے بعض ماہی گیروں کو زیادہ شکار کے ذریعے فائدہ بھی پہنچا ہے۔ تاہم، دوسرے ماہی گیروں کو خدشہ ہے کہ یہ شکاری جاندار صدیوں سے قائم شیل فش کی صنعت کے لیے اہم سمندری ذخائر کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ماہرین کے خیال میں سمندر کے درجہ حرارت میں اضافہ اس تبدیلی کی اہم وجہ ہے۔ اس کے علاوہ سمندری دھاروں اور ہواؤں کے ذریعے آکٹوپس کے لاروا فرانس اور چینل آئی لینڈز سے شمال کی جانب منتقل ہوئے ہوں گے۔ اس نقل مکانی نے بھی برطانوی پانیوں میں آکٹوپس کی تعداد بڑھانے میں کردار ادا کیا ہوسکتا ہے۔


اپنا تبصرہ لکھیں