امریکی توانائی بل متنازع، موسمیاتی تحریک میں پھوٹ، صاف توانائی اور قبائلی حقوق پر اختلافات شدت اختیار کر گئے
فروزاں رپورٹ
صاف توانائی کے منصوبوں کی تعمیر تیز کرنا اور فوسل ایندھن کا استعمال روکنا، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے دو اہم طریقے ہیں۔ امریکا میں گزشتہ کئی دہائیوں سے ان دونوں اہداف کی اہمیت اور انہیں حاصل کرنے کے طریقوں پر بحث جاری ہے۔ کیا کاربن ٹیکس نافذ کرنا زیادہ اہم ہے یا الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سبسڈی دینا؟ نئی تیل پائپ لائن روکنا ضروری ہے یا بڑے پیمانے پر شمسی اور ہوائی بجلی پیدا کرنا؟
ان سوالات پر موسمیاتی تحریک دو بڑے دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ ایک جانب سرگرم کارکن، وکلا اور ماحولیاتی تحفظ کی تنظیمیں ہیں، جو فوسل ایندھن کے استعمال کو روکنے اور کم کرنے پر توجہ دیتی ہیں۔ دوسری جانب قابلِ تجدید توانائی کی کمپنیاں اور پالیسی ماہرین ہیں، جو صاف توانائی کے منصوبوں میں اضافے کے حامی ہیں۔
ماضی میں بھی ان گروہوں کے درمیان اختلافات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم حالیہ دنوں میں یہ کشمکش شدت اختیار کر گئی ہے۔ اس تنازع کی بڑی وجہ امریکی سینیٹ میں پیش کیا گیا دو جماعتی بل بائی پارٹیزن امریکن افورڈیبلٹی اینڈ جابز ایکٹ (بی اے اے جے اے) ہے۔ اس کا مقصد بجلی گھروں، بجلی کی ترسیلی لائنوں اور گیس پائپ لائنوں کی تعمیر آسان بنانا ہے۔
یہ بل بعض بنیادی ماحولیاتی قوانین میں نرمی، سرکاری اداروں کی جانب سے اجازت نامے جاری کرنے کے عمل میں تیزی اور وفاقی منظوری حاصل کرنے والے منصوبوں کو منسوخ کرنا مشکل بنا کر تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
بل کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ماحول کے تحفظ کے لیے صاف توانائی کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ضروری ہے، چاہے اس دوران فوسل ایندھن کے کچھ منصوبے بھی تعمیر ہوں اور ماحول کو محدود نقصان پہنچے۔ ان کے مطابق امریکا میں صاف توانائی کی پیداوار بڑھنے سے فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنا آسان ہو گا، جو عالمی حدت اور اس کے متعدد اثرات کی بنیادی وجوہ میں شامل ہے۔
تاہم مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ سمجھوتا قبائلی برادریوں، محروم طبقات اور خطرے سے دوچار انواع کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس جیرڈ ہفمین نے کہا کہ یہ بل ماحولیاتی تحفظ سے وابستہ حلقوں اور صاف توانائی کے مفادات کے درمیان ممکنہ اختلاف کو نمایاں کر رہا ہے۔
یہ بل توانائی اور ماحولیات سے متعلق سینیٹ کی کمیٹیوں کے چار ارکان کے درمیان کئی ماہ کے دو جماعتی مذاکرات کا نتیجہ ہے۔ مذاکرات میں ڈیموکریٹس شیلڈن وائٹ ہاؤس اور مارٹن ہینرک شامل تھے، جو موسمیاتی تحفظ اور صاف توانائی کے حامی ہیں۔ ریپبلکن ارکان مائیک لی اور شیلی مور کیپیٹو فوسل ایندھن کی حمایت اور ماحولیاتی ضابطوں پر تنقید کے لیے جانے جاتے ہیں۔
نظریاتی اختلافات کے باوجود چاروں سینیٹرز تقریباً 400 صفحات پر مشتمل بل پر اتفاق کرنے میں کامیاب رہے۔ کانگریس کے خزاں کی تعطیلات پر جانے سے کچھ پہلے یہ سمجھوتا طے پایا۔ سینیٹ وسط مدتی انتخابات کے بعد اس پر غور کرے گی۔ بل ابھی کمیٹی سے بھی منظور نہیں ہوا، جبکہ ایوانِ نمائندگان میں اس کی منظوری کے امکانات بھی غیر یقینی ہیں۔
آنے والے ہفتوں میں بل کے حامی اور مخالفین قانون سازوں کو اپنے حق میں قائل کرنے کے لیے کوششیں تیز کر سکتے ہیں۔
اب تک موسمیاتی تحریک میں صاف توانائی کے منصوبوں کی تعمیر کے حامی نسبتاً زیادہ اثر و رسوخ رکھتے دکھائی دیتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ گزشتہ دو برس کے دوران وفاقی موسمیاتی پالیسیوں کی بڑی تعداد واپس لینے اور نئے صاف توانائی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے میں مصروف رہی ہے۔ ایسے میں کئی موسمیاتی کارکن نامکمل سمجھوتے کو قبول کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں، بجائے اس امید کے کہ ٹرمپ کے عہدے سے ہٹنے کے بعد ان پالیسیوں کو درست کیا جا سکے گا۔
ماحولیاتی سائنس کے غیر منافع بخش ادارے برکلے ارتھ سے وابستہ ماہرِ موسمیات زیک ہاؤس فادر کے مطابق، کسی منصوبے کی تعمیر روکنا، اسے تعمیر کرنے کے مقابلے میں آسان ہوتا ہے۔ ان کے بقول، کسی بھی برادری کے حقوق کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، لیکن موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم مسئلے پر ہر فریق کو مکمل ویٹو کا اختیار بھی نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے دونوں پہلوؤں کے درمیان توازن ضروری ہے۔

بل کے حق میں مؤقف، صاف توانائی کے منصوبوں میں اضافہ
صاف توانائی کے منصوبوں کی تعمیر میں ایک بڑی رکاوٹ زمین کی وسیع ضرورت ہے۔ شمسی اور ہوائی بجلی کے منصوبے ہزاروں ایکڑ رقبے پر پھیل سکتے ہیں، جبکہ ان سے پیدا ہونے والی بجلی شہروں تک پہنچانے والی ترسیلی لائنیں سیکڑوں میل طویل ہو سکتی ہیں۔ اس طرح ان منصوبوں کا زمینی پھیلاؤ کوئلے اور قدرتی گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
ان منصوبوں کا وسیع رقبہ انہیں وفاقی زمینوں یا پانیوں کے قریب لے آتا ہے۔ ایسی صورت میں قومی ماحولیاتی پالیسی قانون، جسے نیپا (این ای پی اے) کہا جاتا ہے، اور خطرے سے دوچار انواع اور تاریخی مقامات کے تحفظ سے متعلق دیگر قوانین کے تحت مختلف تقاضے پورے کرنا پڑتے ہیں۔
نیپا کے تحت وفاقی اداروں کو کسی منصوبے کی منظوری دینے یا مسترد کرنے سے پہلے اس کے ماحولیاتی اثرات کا تفصیلی جائزہ لینا ہوتا ہے۔
یہ جائزہ اکثر طویل قانونی تنازعات کا باعث بنتا ہے۔ مخالفین جائزہ مکمل ہونے کے برسوں بعد بھی متعلقہ ادارے کے خلاف مقدمہ دائر کر سکتے ہیں اور مؤقف اختیار کر سکتے ہیں کہ ماحولیاتی اثرات کا جائزہ ناکافی تھا۔ وہ عدالت سے منصوبے کا کام روکنے اور دوبارہ جائزہ لینے کا حکم دینے کی درخواست بھی کر سکتے ہیں۔
2025 کے ایک مطالعے کے مطابق، نیپا کے تحت قانونی مقدمات کا سامنا کرنے والے منصوبوں میں 64 فیصد شمسی توانائی، 38 فیصد ہوائی توانائی اور 31 فیصد بجلی کی ترسیلی لائنوں کے منصوبے شامل تھے۔
ان مقدمات کی نوعیت بھی مختلف ہوتی ہے۔ ایک مثال سنزیا (سن زیا) بجلی کی ترسیلی لائن کی ہے، جس کے خلاف قبائلی برادریوں اور ماحولیاتی تنظیموں نے مقدمہ دائر کیا تھا۔ یہ لائن ایریزونا اور کیلیفورنیا تک ضروری ہوائی بجلی پہنچاتی ہے، تاہم درخواست گزار چاہتے تھے کہ اسے ایک مقدس ثقافتی مقام سے دور منتقل کیا جائے۔ ان کی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔
اس کے برعکس، کیلیفورنیا میں ہوائی توانائی کے ایک منصوبے کے مخالفین نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے قانونی کارروائی کی کہ وفاقی ادارے نے ہوا سے چلنے والی ٹربائنوں کے خطرناک برقی مقناطیسی میدان پیدا کرنے سے متعلق غیر سائنسی نظریات کو مدنظر نہیں رکھا۔ اس مقدمے کے باعث منصوبے کی تعمیر برسوں تاخیر کا شکار رہی۔ بالآخر دونوں منصوبے مکمل ہوئے، لیکن مقررہ وقت سے کئی سال بعد۔
مجوزہ بل ایسے مقدمات دائر کرنا مشکل بنا دے گا۔ نیپا کے جائزے کے اختتام کے بعد مقدمہ دائر کرنے کی مدت چھ سال سے کم کرکے 150 دن کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ درخواست گزار کو عوامی مشاورت کے دوران ہی اس مسئلے کی نشاندہی کرنا ہو گی جس پر وہ مقدمہ دائر کرنا چاہتا ہے۔
اگر عدالت مقدمے کی سماعت کرتی بھی ہے تو وہ متعلقہ ادارے کو جائزہ دوبارہ لینے کا حکم دے سکے گی، لیکن اس دوران منصوبے کی تعمیر روکنا ممکن نہیں ہو گا۔ ادارہ بھی صرف محدود حالات میں اجازت نامہ منسوخ کر سکے گا، مثلاً قانون کی خلاف ورزی یا انسانی جان، املاک، قومی سلامتی یا دفاع کو فوری یا سنگین خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں۔
شمسی اور ہوائی توانائی کی صنعت کی نمائندہ تنظیم اے کور (اے سی او آر ای) کے صدر رے لانگ نے بل کو درست سمت میں اہم قدم قرار دیا۔ ان کے مطابق، اگلے چار برس میں بڑے پیمانے پر توانائی کے منصوبے تعمیر کرنا ضروری ہے، ورنہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
بل میں ایسی شقیں بھی شامل ہیں جن کے تحت حکومت کے لیے منصوبوں کو روکنا مشکل ہو گا۔ اس کا مقصد سرمایہ کاروں کو اجازت ناموں کے حوالے سے یقین دہانی فراہم کرنا ہے۔
ریپبلکنز سابق صدر جو بائیڈن کے کی اسٹون ایکس ایل تیل پائپ لائن روکنے اور خلیج میکسیکو کے ساحلی علاقے میں مائع قدرتی گیس کے نئے ٹرمینلز کی تعمیر معطل کرنے کے فیصلوں پر اعتراض کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس نے ٹرمپ انتظامیہ کے دوسرے دور میں وفاقی زمینوں اور پانیوں پر شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبے روکنے کے لیے انتظامی اختیارات کے استعمال پر تنقید کی ہے۔
بل کی ایک شق کے تحت اگر منصوبہ ساز یہ ثابت کر دیں کہ حکومت نے اجازت نامے میں تاخیر یا منسوخی کے ذریعے کسی مخصوص قسم کے منصوبے، مثلاً سمندر میں ہوائی توانائی کے منصوبوں، کے ساتھ امتیازی سلوک کیا ہے تو وہ معاوضے کا مطالبہ کر سکیں گے۔
سمندر میں ہوائی توانائی کے فروغ کے لیے کام کرنے والے غیر منافع بخش ادارے اسپیشل انیشی ایٹو آن آف شور ونڈ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کرس اوہلیتھ کے مطابق، موجودہ صدر نے قوانین کی حدود سے بچنے کے کئی طریقے اختیار کیے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ تاہم ان کے بقول، اگر سرمایہ کاروں کو یقین ہو کہ وہ اپنے منصوبوں کی لاگت واپس حاصل کر سکتے ہیں تو ان کے لیے دوبارہ سرمایہ کاری کرنا زیادہ پُرکشش ہو گا۔
بل کا ایک اہم پہلو اجازت ناموں کے بجائے بجلی کی ترسیلی لائنوں سے متعلق ہے۔ امریکا نے حالیہ برسوں میں ایک ریاست سے دوسری ریاست تک بجلی پہنچانے والی بڑی لائنیں بہت کم تعمیر کی ہیں۔ اس کمی نے مزید شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبوں کی تعمیر کو مشکل بنا دیا ہے۔
سینٹر فار پبلک انٹرپرائز کے نائب صدر برائے تحقیق اور چیف ماہرِ معاشیات چراگ لالا کے مطابق، ماضی میں بجلی گھر عموماً ان مقامات کے قریب بنائے جاتے تھے جہاں بجلی کی ضرورت ہوتی تھی۔ لیکن صاف توانائی کے منصوبے مخصوص جغرافیائی حالات پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس لیے ان سے پیدا ہونے والی بجلی کو طویل فاصلے تک پہنچانا ضروری ہے۔
مجوزہ بل بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں اور علاقائی گرڈ آپریٹرز کو مختلف علاقوں کے درمیان بجلی کی ترسیلی لائنوں کی منصوبہ بندی کا پابند بنائے گا۔ اگر یہ کمپنیاں مطلوبہ لائنیں تعمیر نہ کریں تو نجی منصوبہ ساز خود یہ کام کر سکیں گے۔ بل میں ایسے کئی انتظامی مراحل بھی ختم کرنے کی تجویز ہے جن کے ذریعے بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں بین العلاقائی ترسیل کے منصوبوں میں رکاوٹ ڈال سکتی ہیں۔
بل کے حامی ڈیموکریٹس اور موسمیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ ان اقدامات سے صاف توانائی کے شعبے میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ اگر بل منظور ہو گیا تو نیواڈا میں شمسی توانائی اور ڈکوٹا کی ریاستوں میں ہوائی توانائی کی پیداوار بڑھائی جا سکے گی۔ وہاں سے بجلی ان علاقوں تک بھی پہنچائی جا سکے گی جہاں شمسی یا ہوائی توانائی کی پیداوار کے امکانات محدود ہیں، جیسے اپالاچیا۔

بل کے مخالفین کا مؤقف، ماحول اور مقامی آبادیوں کو نقصان کا خدشہ
صاف توانائی کی صنعت نے نئے بجلی گھروں کے اجازت ناموں کا عمل تیز کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم کئی ماحولیاتی تنظیمیں اس بل کی مخالفت کر رہی ہیں۔
ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ مجوزہ تبدیلیوں سے محروم اور کم آمدنی والی برادریوں کے قریب بڑے تعمیراتی منصوبوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ مقامی آبادیوں کے لیے ان منصوبوں کو روکنے کے قانونی راستے بھی محدود ہو جائیں گے۔
مخالفین کے مطابق، اس بل کے ذریعے خلیج میکسیکو کے جنوبی ساحلی علاقوں سمیت متعدد برادریوں کے مفادات کو قربان کرکے ملک بھر میں صاف توانائی کی مجموعی پیداوار بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جنوبی ماحولیاتی قانون مرکز کی وفاقی پالیسی ڈائریکٹر لز زیپیڈا کے مطابق، فوسل ایندھن اور قابلِ تجدید توانائی کے درمیان یہ کشمکش ان علاقوں کے لوگوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے، خصوصاً اس صورت میں جب برسوں سے حاصل ماحولیاتی تحفظ کی ضمانتیں ختم یا کمزور کر دی جائیں۔
اجازت ناموں کے عمل میں تبدیلیوں پر مقامی اور قدیم قبائلی برادریوں نے بھی شدید اعتراضات کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخی مقامات کے تحفظ سے متعلق قوانین محدود کرنے سے قبائلی اقوام ترقیاتی منصوبوں کے فیصلوں میں اپنی آواز اٹھانے کے حق سے محروم ہو سکتی ہیں۔
قبائلی برادریوں کو ممکن ہے کہ نئی ترسیلی لائن یا شمسی توانائی کے منصوبے کی اطلاع اس وقت ملے جب اپنے ثقافتی اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے بہت دیر ہو چکی ہو۔
قبائلی تاریخی مقامات کے تحفظ سے متعلق وفاقی اداروں کو مشورے دینے والی تنظیم نیشنل ایسوسی ایشن آف ٹرائبل ہسٹورک پریزرویشن آفیسرز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ویلیری گروسنگ کے مطابق، یہ تبدیلیاں قبائلی اقوام کے لیے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں سے آگاہ ہونے اور فیصلے ہونے سے پہلے ان میں شرکت کے مواقع کم کر دیں گی۔ ان کے بقول، اس سے مقدس مقامات کو متاثر کرنے والی تعمیرات قبائلی برادریوں کی مؤثر شمولیت کے بغیر آگے بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔
بل کے تحت خطرے سے دوچار انواع کے تحفظ کے لیے قانونی کارروائی بھی محدود ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ صاف پانی کے قانون کے تحت ریاستوں کے اختیارات کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔
ماضی میں ریاستوں نے ان اختیارات کے ذریعے دریائے کلامتھ پر قائم بعض پرانے پن بجلی ڈیموں کو ہٹانے میں کردار ادا کیا تھا۔ نئی تجاویز کے تحت ایسے اقدامات کرنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
بل میں سرکاری زمینوں پر قائم کانوں کو کھدائی سے نکلنے والی چٹانیں اور فضلہ ملحقہ زمین پر ڈالنے کی اجازت دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ صاف توانائی کی ترقی کے لیے کان کنی اہم ہے، کیونکہ شمسی پینلز، ہوائی ٹربائنوں اور الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں میں دھاتوں اور معدنیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم بعض ماحولیاتی تنظیموں کو خدشہ ہے کہ اس سے مقامی ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
مخالفین کا ایک بڑا اعتراض یہ بھی ہے کہ بل مستقبل میں فوسل ایندھن کے منصوبوں کی تعمیر کو تحفظ دے سکتا ہے، جس سے صاف توانائی کے فوائد کم ہو سکتے ہیں۔
ریپبلکنز کو دی گئی بڑی رعایتوں میں قدرتی گیس کی پائپ لائنوں کے لیے وسیع ماحولیاتی استثنا شامل ہے۔ صاف پانی کے قانون میں مجوزہ تبدیلیوں کے ساتھ یہ رعایت مشرقی ساحلی ریاستوں کے لیے نئی گیس پائپ لائنوں کو روکنا مزید مشکل بنا سکتی ہے۔
بل کے حامی ماہرِ موسمیات زیک ہاؤس فادر بھی تسلیم کرتے ہیں کہ شمال مشرقی امریکا میں قدرتی گیس کی رسد بڑھنے سے اخراج میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ ملک کے دوسرے حصوں میں صاف توانائی کے منصوبوں میں اضافے سے اس اضافے کی تلافی ممکن ہو گی۔
مخالفین اجازت ناموں کے حوالے سے سرمایہ کاروں کو یقین دہانی دینے والی شقوں پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ بل کے تحت صدر اور وفاقی اداروں کو توانائی کے کسی مخصوص ذریعے کے ساتھ امتیازی سلوک سے روکا جائے گا، لیکن اس پابندی کا اطلاق فوسل ایندھن پر بھی ہو گا۔
اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں کوئی صدر بائیڈن کی طرح مائع قدرتی گیس کے منصوبوں پر عارضی پابندی عائد نہ کر سکے یا سمندر میں تیل نکالنے کے منصوبوں کو روکنے میں مشکلات کا سامنا کرے۔
ماحولیاتی تحفظ کی تنظیم سینٹر فار بائیولوجیکل ڈائیورسٹی کے ڈائریکٹر برائے حکومتی امور بریٹ ہارٹل کے مطابق، جب فوسل ایندھن کی صنعت پہلے ہی طاقتور ہو تو ایسا نظام اس کی بالادستی کو مستقل کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
مخالفین کا کہنا ہے کہ نئے تیل اور گیس منصوبوں کو روکنے کے اختیارات سے دستبردار ہونے کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف کوششیں کمزور پڑ سکتی ہیں، چاہے شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبوں میں کتنا ہی اضافہ کیوں نہ ہو۔
ماحولیاتی تنظیم فرینڈز آف دی ارتھ کے صدر ایرک پیکا نے سوال اٹھایا کہ کیا فوسل ایندھن کی صنعت کی سیاسی اور معاشی طاقت کو نظرانداز کرکے صرف اس امید پر رہنا چاہیے کہ قابلِ تجدید توانائی اتنی تیزی سے پھیل جائے گی کہ اخراج میں کمی آ سکے؟ ان کے مطابق، مجوزہ بل اسی طرزِ فکر کی عکاسی کرتا ہے۔

منصوبے بنانے والے اور انہیں روکنے والے آمنے سامنے
بی اے اے جے اے کی منظوری یقینی نہیں۔ سینٹر فار بائیولوجیکل ڈائیورسٹی جیسی بااثر تنظیموں کی مخالفت کے علاوہ ایوانِ نمائندگان کے متعدد ارکان نے بھی اس بل کے بارے میں تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
ریپبلکن رکن بریٹ گتھری نے بجلی کی نئی ترسیلی لائنیں تعمیر کرنے پر کمپنیوں کو مجبور کرنے کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔ بڑی بجلی کمپنیاں بھی اس شق کی مخالفت کر سکتی ہیں۔
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس جیرڈ ہفمین کا خیال ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ڈیموکریٹس اس سے بہتر سمجھوتا حاصل کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق، اس بل کو ایسا نادر موقع قرار دینا جسے کسی جانچ پڑتال یا سوال کے بغیر قبول کرنا ضروری ہو، درست نہیں۔ ہفمین اسے فوسل ایندھن کی صنعت کے لیے فائدہ مند رعایتوں پر مشتمل ایک منصوبہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو وہ ماحولیاتی قوانین کو نمایاں طور پر کمزور کیے بغیر نیا بل تیار کرنے کے لیے مذاکرات کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
کوپ 31 اور کوپ 17، کرغزستان کی بڑی پیش رفت
مارخور کے شکار کی نیلامی، پاکستان میں ریکارڈ 12 لاکھ ڈالر سے زائد آمدن
تاہم اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں دوبارہ اکثریت حاصل کر لیں، تب بھی بجلی کی ترسیلی لائنوں میں بڑی اصلاحات کے لیے انہیں ریپبلکن ارکان کے ووٹ درکار ہوں گے۔ اس لیے کسی نہ کسی سمجھوتے کی ضرورت برقرار رہے گی۔ بل کے متعدد حامیوں کو شبہ ہے کہ ریپبلکنز اقلیت میں ہونے کے بعد مذاکرات پر آمادہ ہوں گے یا صدر ٹرمپ ڈیموکریٹس کی قیادت میں تیار کردہ بل پر دستخط کریں گے۔
فی الحال یہ بل موسمیاتی تحریک کو دو حصوں میں تقسیم کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ سیکڑوں چھوٹی ماحولیاتی تنظیموں نے ڈیموکریٹ سینیٹرز پر زور دینے کے لیے ایک خط پر دستخط کیے ہیں کہ وہ بل منظور نہ کریں۔ تاہم بیشتر بڑی ماحولیاتی تنظیمیں اس خط میں شامل نہیں ہوئیں۔
ان میں سیرا کلب، انوائرنمنٹل ڈیفنس فنڈ، نیچر کنزروینسی اور نیچرل ریسورسز ڈیفنس کونسل شامل ہیں۔ نیچرل ریسورسز ڈیفنس کونسل کے سربراہ نے ایک بیان میں کہا کہ بل اہم اور مشکل سوالات اٹھاتا ہے، لیکن صاف توانائی کے لیے بہت فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
سٹیزنز کلائمیٹ لابی جیسی بعض تنظیموں نے بل کی واضح حمایت کی ہے۔ دوسری جانب مخالف ماحولیاتی تنظیموں کے درمیان بھی مکمل اتفاق نظر نہیں آتا۔ بل کی مخالفت کرنے والی تنظیموں کے درمیان حکمت عملی طے کرنے کے لیے ہونے والی ایک آن لائن میٹنگ کی تفصیلات بھی لیک ہو کر پنچ بول نیوز تک پہنچ گئیں۔
بل کو شیلڈن وائٹ ہاؤس جیسے موسمیاتی تحفظ کے حامیوں اور بعض ماحولیاتی تنظیموں کی حمایت ملنے کے امکانات امریکی موسمیاتی تحریک میں تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ تحریک امریکا میں فریکنگ کے پھیلاؤ کے دوران کی اسٹون ایکس ایل جیسی تیل پائپ لائنوں کے خلاف احتجاج سے ابھری تھی۔ تاہم فوسل ایندھن کو مرحلہ وار ختم کرنے کی کوششیں عدالتی فیصلوں اور حکومتوں کی تبدیلی کے باعث بار بار مشکلات کا شکار ہوئیں۔
اسی دوران شمسی اور ہوائی توانائی کی لاگت میں کمی کے باعث ان شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی، لیکن اب بجلی کی ترسیلی لائنوں کی کمی اور ماحولیاتی جائزوں کے طویل عمل نے ان منصوبوں کی رفتار محدود کر دی ہے۔
وائٹ ہاؤس اور ہینرک کا ریپبلکنز کے ساتھ مذاکرات کرنا اور کئی بڑی ماحولیاتی تنظیموں کا اس سمجھوتے کی کھل کر مخالفت نہ کرنا اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ موسمیاتی کارکن فوسل ایندھن کے بارے میں اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔
اگر فوسل ایندھن کو مکمل طور پر شکست دینا ممکن نہیں تو اس کا متبادل اتنی تیزی سے تعمیر کیا جائے کہ اس پر انحصار کم ہو سکے۔

