کرغزستان کی موسمیاتی حکمت عملی، گلیشیئرز اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، عالمی تعاون پر زور
فروزاں رپورٹ
کرغزستان نے 2026 میں ہونے والی دو اہم عالمی کانفرنسوں، کوپ 31 اور کوپ 17 کی تیاریوں کے سلسلے میں موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سے متعلق قومی ترجیحات کو مربوط بنانے کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
کرغز جمہوریہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کی 31ویں کانفرنس آف دی پارٹیز (کوپ 31) اور حیاتیاتی تنوع کے کنونشن کی 17ویں کانفرنس آف دی پارٹیز (کوپ 17) کے لیے اپنا مؤقف مرتب کر رہا ہے۔ کوپ 31 ترکیہ کے شہر انطالیہ، جبکہ کوپ 17 آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں منعقد ہوگی۔
ان کانفرنسوں کی تیاریوں کے لیے اہم ترجیحات کا تعین دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ قومی موسمیاتی و حیاتیاتی تنوع مکالمے میں کیا گیا۔ اس کا انعقاد کرغزستان کی وزارت قدرتی وسائل، ماحولیات اور تکنیکی نگرانی نے کیا۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے تکنیکی معاونت فراہم کی، جبکہ اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے بھی تعاون کیا۔
مکالمے میں کابینہ کے نمائندوں، متعلقہ سرکاری اداروں، اقوام متحدہ کے اداروں، بین الاقوامی تنظیموں اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔ سائنسی و تحقیقی ماہرین، سول سوسائٹی، نوجوانوں اور مالیاتی و نجی شعبوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں طے پانے والی ترجیحات کو کوپ 31 اور کوپ 17 میں کرغزستان کے قومی وفود کی حکمت عملی کی بنیاد بنایا جائے گا۔

پہاڑی ممالک کے مفادات اور گلیشیئرز کا تحفظ
کرغزستان کے لیے یہ مذاکرات پہاڑی ممالک کے مفادات اجاگر کرنے اور پہاڑی ماحولیاتی نظاموں اور گلیشیئرز کی صورت حال پر عالمی توجہ مبذول کرانے کا اہم موقع ہیں۔ ان کے ذریعے بین الاقوامی شراکت داری مضبوط بنانے اور موسمیاتی تبدیلی و حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے مالی وسائل، جدید ٹیکنالوجی اور تکنیکی معلومات تک رسائی بڑھانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
عالمی سطح پر ہونے والے فیصلوں کا براہ راست اثر کرغزستان کی موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت پر پڑتا ہے۔ یہ فیصلے آبی و زمینی وسائل کے تحفظ، زراعت اور توانائی کے نظاموں کی ترقی اور عوام کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی اہم ہیں۔
کرغزستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر برائے آبی وسائل، زراعت و پروسیسنگ انڈسٹری ایرلیس آکون بیکوف نے کہا کہ ملک کو آبی بنیادی ڈھانچے، پانی کی بچت کرنے والی ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھنے والی زراعت میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ زمینوں اور چراگاہوں کی بحالی، ماحولیاتی نظاموں کے تحفظ، نگرانی کے نظام اور خطرات سے قبل از وقت خبردار کرنے کے انتظامات بھی ضروری ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی ماحول کا تحفظ باہم مربوط
کرغزستان کے وزیر قدرتی وسائل، ماحولیات اور تکنیکی نگرانی اکیل بیک توکتوبایف نے کہا کہ ملک کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت بڑھانا اور فطرت کا تحفظ حکومتی پالیسی کے الگ الگ شعبے نہیں ہیں۔ ان کا براہ راست تعلق آبی و غذائی تحفظ، دیہی ترقی، توانائی اور معاشی استحکام سے ہے۔
صدر کرغزستان کی پہاڑی علاقوں کی ترقی کے لیے پانچ سالہ اقدامات سے متعلق خصوصی نمائندہ دینارا کیمیلووا نے کہا کہ دونوں عالمی فورمز میں شرکت کا مقصد صرف اجلاسوں میں حصہ لینا نہیں، بلکہ پہاڑی علاقوں سے متعلق ترجیحات کو باضابطہ مذاکرات، حتمی دستاویزات اور اعلیٰ سطحی مباحثوں میں آگے بڑھانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
مارخور کے شکار کی نیلامی، پاکستان میں ریکارڈ 12 لاکھ ڈالر سے زائد آمدن
پاناما میں قیامت خیز زلزلہ، 7.7 شدت کے جھٹکوں سے تباہی
عالمی تعاون اور مالی وسائل پر زور
کرغزستان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی مقیم نمائندہ الیگزینڈرا سولوویوا نے کہا کہ ملک میں موسمیاتی تبدیلی، قدرتی ماحول اور ترقی کے باہمی تعلق کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر حل تیار کرنے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ شراکت داروں کا کردار قومی ترجیحات کو بین الاقوامی مہارت، ٹیکنالوجی، مالیاتی ذرائع اور شراکت داری سے جوڑنا ہے، تاکہ موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے اقدامات کو وسیع پیمانے پر نافذ کیا جا سکے اور عوام و معیشت کو عملی فوائد حاصل ہوں۔
یو این ڈی پی اور ڈبلیو ایف پی کرغزستان کی قومی کوششوں میں معاونت کر رہے ہیں۔ اس تعاون میں سرکاری اداروں کی صلاحیتیں مضبوط بنانا، بین الاقوامی مہارت تک رسائی آسان بنانا، غذائی نظاموں کو موسمیاتی خطرات کے مقابلے کے قابل بنانا، موسمیاتی اقدامات کی حمایت کرنا اور مالی وسائل جمع کرنے کے مواقع تلاش کرنا شامل ہے۔

