Environmental Reports • Farozaan

مارخور کے شکار کی نیلامی، پاکستان میں ریکارڈ 12 لاکھ ڈالر سے زائد آمدن

مارخور کے شکار کی نیلامی سے ریکارڈ 33 کروڑ 57 لاکھ روپے حاصل، آمدن کا 80 فیصد مقامی آبادیوں کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوگا

پشاور: خیبر پختونخوا میں مارخور کے شکار کے چار بین الاقوامی اجازت ناموں کی نیلامی سے ریکارڈ 12 لاکھ 11 ہزار 800 ڈالر حاصل ہوئے۔ یہ رقم پاکستانی کرنسی میں تقریباً 33 کروڑ 57 لاکھ روپے بنتی ہے۔

محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا کے مطابق یہ پاکستان کی تاریخ میں ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی سب سے زیادہ آمدن ہے۔ جمعے کو جاری بیان میں بتایا گیا کہ چترال اور کوہستان کی مختلف دیہی تحفظِ جنگلی حیات کمیٹیوں کے لیے اجازت ناموں کی نیلامی کی گئی۔

نیلامی میں چترال کے توشی ون کے اجازت نامے کی بولی 3 لاکھ 20 ہزار 600 ڈالر رہی۔

چار اجازت ناموں کی نیلامی سے ریکارڈ آمدن

نیلامی میں چترال کے توشی ون کے اجازت نامے کی بولی 3 لاکھ 20 ہزار 600 ڈالر رہی۔ توشی ٹو کا اجازت نامہ 3 لاکھ 35 ہزار 600 ڈالر میں فروخت ہوا، جبکہ گہیرت گول کے اجازت نامے کی بولی 2 لاکھ 60 ہزار ڈالر لگائی گئی۔

اسی طرح کوہستان کے کِگاہ کھوار کے اجازت نامے کی نیلامی سے 2 لاکھ 95 ہزار 600 ڈالر حاصل ہوئے۔ چاروں اجازت ناموں سے مجموعی طور پر 12 لاکھ 11 ہزار 800 ڈالر کی آمدن ہوئی، جو ملکی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔

ان کے مطابق اس پروگرام میں صرف بالغ اور عمر رسیدہ نر مارخور کے شکار کی اجازت دی جاتی ہے۔

صرف بالغ اور عمر رسیدہ نر مارخور کے شکار کی اجازت

محکمہ جنگلی حیات کے ترجمان لطیف الرحمان نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت محدود تعداد میں اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق اس پروگرام میں صرف بالغ اور عمر رسیدہ نر مارخور کے شکار کی اجازت دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پروگرام کے بنیادی مقاصد میں جنگلی حیات کا تحفظ، قدرتی آبادیوں کا پائیدار انتظام اور مقامی برادریوں کو معاشی فوائد فراہم کرنا شامل ہیں۔

لطیف الرحمان کے مطابق خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں، وادیوں اور دور دراز مقامات پر آباد برادریوں کا فطرت سے نسلوں پرانا تعلق ہے۔

آمدن کا 80 فیصد مقامی آبادیوں کو ملے گا

ترجمان کے مطابق ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل ہونے والی آمدن کا 80 فیصد متعلقہ مقامی آبادیوں کی فلاح و بہبود اور ترقی پر خرچ کیا جائے گا، جبکہ باقی 20 فیصد سرکاری خزانے میں جمع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جنگلی حیات کے تحفظ، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور مقامی آبادیوں کو تحفظِ فطرت میں مؤثر شراکت دار بنانے کے لیے مؤثر اور نتیجہ خیز اقدامات کر رہی ہے۔

لطیف الرحمان کے مطابق خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں، وادیوں اور دور دراز مقامات پر آباد برادریوں کا فطرت سے نسلوں پرانا تعلق ہے۔ حکومت جنگلی حیات کے تحفظ کو روزگار، ترقی اور مقامی خوشحالی سے جوڑ کر اس تعلق کو مضبوط اور پائیدار شراکت داری میں تبدیل کر رہی ہے۔

مارخور قدرتی ورثے کی اہم علامت

ترجمان نے مارخور کو خیبر پختونخوا کے قدرتی ورثے اور حیاتیاتی تنوع کی نمایاں علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مقامی آبادیوں کے اشتراک سے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مربوط اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ دنیا بھر میں ٹرافی ہنٹنگ پر تنازعات پائے جاتے ہیں۔ تاہم، اس پروگرام کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے غیر قانونی شکار کی روک تھام، مقامی آبادیوں کو معاشی فوائد کی فراہمی اور جنگلی حیات کے تحفظ میں مدد مل سکتی ہے۔


اپنا تبصرہ لکھیں