Environmental Reports Farozaan

گلگت بلتستان میں دیہی ترقی کا 17 ارب کا منصوبہ

A Rs17 Billion Rural Development Project for Gilgit-Baltistan

گلگت بلتستان میں 43 ہزار 200 گھرانے مستفید، 216 واٹر سپلائی اسکیمیں، متبادل توانائی اور موسمیاتی محفوظ مکانات شامل

گلگت: وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ گلگت میں گلگت بلتستان میں دیہی ترقی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومت گلگت بلتستان، یورپی یونین، فرانسیسی ترقیاتی ایجنسی (اے ایف ڈی) اور آغا خان فاؤنڈیشن کے مابین سہ فریقی منصوبے ’’رورل ڈویلپمنٹ اینڈ کلائمیٹ ریزیلینس فار گلگت بلتستان‘‘ کے معاہدے پر باضابطہ دستخط کر دیے گئے۔

منصوبے کی مجموعی مالیت 17.2 ارب روپے ہے، جو تقریباً 54.24 ملین یورو بنتی ہے۔ منصوبے کا دائرہ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع تک پھیلا ہوا ہے۔

اس کا بنیادی مقصد موسمیاتی تبدیلیوں، قدرتی آفات اور بنیادی سہولیات کی گلگت بلتستان میں دیہی ترقی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے 17 ارب روپے کا بڑا منصوبہ

کمی سے متاثرہ آبادیوں کی استعداد کار میں اضافہ، دیہی علاقوں میں معیارِ زندگی کی بہتری اور پائیدار بنیادی ڈھانچے کی فراہمی ہے۔ یورپی یونین نے گلگت بلتستان میں موسمیاتی لچک اور دیہی ترقی سے متعلق منصوبوں کو وسیع تر تعاون کا حصہ قرار دیا ہے۔

منصوبے کے تحت 216 واٹر سپلائی اسکیموں کے ذریعے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

صاف پانی اور متبادل توانائی کی فراہمی

منصوبے کے تحت 216 واٹر سپلائی اسکیموں کے ذریعے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ مائیکرو ہائیڈل اور سولر سسٹمز کے ذریعے متبادل توانائی کے مواقع بھی پیدا کیے جائیں گے، جن کی متوقع مجموعی پیداواری صلاحیت 1200 سے 1300 کلوواٹ ہوگی۔

اس کے علاوہ گلگت بلتستان کی تمام 110 یونین کونسلوں میں قدرتی آفات کے خطرات اور آبادی کی حساسیت کا جائزہ لیا جائے گا۔

منصوبے میں تقریباً 3 ہزار گھروں کی گرین ریٹروفٹنگ اور مزید 700 مکانات کی موسمیاتی لحاظ سے محفوظ اور توانائی بچانے والی بنیادوں پر تعمیر بھی شامل ہے۔

اس مقصد کے تحت مقامی آبادی کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، قدرتی آفات کے خطرات کم کرنے اور بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال کے حوالے سے تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔

حکام کے مطابق منصوبے سے تقریباً 43 ہزار 200 گھرانے مستفید ہوں گے، جن میں کم از کم 40 فیصد خواتین کی شمولیت کا ہدف رکھا گیا ہے۔

43 ہزار 200 گھرانے مستفید ہوں گے

حکام کے مطابق منصوبے سے تقریباً 43 ہزار 200 گھرانے مستفید ہوں گے، جن میں کم از کم 40 فیصد خواتین کی شمولیت کا ہدف رکھا گیا ہے۔

منصوبے میں خواتین، خصوصی افراد اور پسماندہ طبقات کو خصوصی توجہ دینے کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو منصوبوں کی نشاندہی، تکمیل اور بعد ازاں دیکھ بھال میں شریک رکھنے کی بات بھی کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے سولرائزیشن، سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے اور ریجنل گرڈ کی تعمیر پر بھی کام جاری ہے۔

عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچانا مقصد ہے، وزیراعلیٰ

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے کہا کہ یہ منصوبہ محض فنڈز کے استعمال یا ترقیاتی اسکیموں کی تکمیل تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا اصل مقصد عوام کو حقیقی اور براہِ راست فائدہ پہنچانا ہے۔

ان کے مطابق منصوبے کے ذریعے دور دراز علاقوں میں صاف پانی، بجلی، بہتر سینیٹیشن، موسمیاتی خطرات سے محفوظ مکانات اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے سولرائزیشن، سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے اور ریجنل گرڈ کی تعمیر پر بھی کام جاری ہے۔

انہوں نے منصوبے میں مقامی آبادی کی شمولیت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی پائیداری کے لیے کمیونٹی کی شرکت ضروری ہے۔

یورپی یونین کا تعاون جاری رکھنے کا اعلان

اس موقع پر یورپی یونین کے سفیر ریمنڈاس کاروبلیس نے کہا کہ یورپی یونین گلگت بلتستان کی پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔

ان کے مطابق رورل ڈویلپمنٹ اینڈ کلائمیٹ ریزیلینس منصوبے اور انرجی ماسٹر پلان کے ذریعے خطے کی ترقی اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔

انرجی ماسٹر پلان پر بریفنگ

تقریب میں نارتھ پاکستان انرجی لمیٹڈ کی جانب سے گلگت بلتستان انرجی ماسٹر پلان کے اہم نکات پر بھی بریفنگ دی گئی۔

یورپی یونین کے تعاون سے جاری ’’انرجی پلس‘‘ منصوبے کے تحت تیار کیے جانے والے ماسٹر پلان کا مقصد خطے میں توانائی کے شعبے کو موسمیاتی لحاظ سے زیادہ مضبوط بنانا، توانائی کی کمی کو کم کرنا اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا ہے۔

یورپی یونین کے تعاون سے گلگت بلتستان اور چترال میں ’’انرجی فار کلائمیٹ ریزیلینس‘‘ پروگرام بھی جاری ہے۔

تاہم، منصوبے کے بڑے حجم اور متعدد اہداف کے پیش نظر اصل امتحان اس کے عملدرآمد کا ہوگا۔

منصوبے کی کامیابی کے لیے شفاف نگرانی ضروری

تاہم، منصوبے کے بڑے حجم اور متعدد اہداف کے پیش نظر اصل امتحان اس کے عملدرآمد کا ہوگا۔

ماضی میں بھی گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے نام پر ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات اور منصوبہ بندی سامنے آتی رہی ہے، مگر دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں منصوبوں کی بروقت تکمیل، معیار برقرار رکھنے، فنڈز کے شفاف استعمال اور بعد از تکمیل دیکھ بھال ایک مستقل چیلنج رہے ہیں۔

اس لیے 17.2 ارب روپے کے اس منصوبے میں صرف اہداف مقرر کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ ہر ضلع میں کام کی رفتار، اخراجات، معیار اور عوامی نتائج کی باقاعدہ نگرانی بھی ضروری ہوگی۔

خاص طور پر 216 واٹر سپلائی اسکیموں اور متبادل توانائی کے منصوبوں کے حوالے سے یہ یقینی بنانا اہم ہوگا کہ یہ اسکیمیں صرف افتتاحی تقریبات تک محدود نہ رہیں بلکہ طویل مدت تک فعال رہیں۔

اسی طرح 3 ہزار گھروں کی گرین ریٹروفٹنگ اور 700 موسمیاتی محفوظ مکانات کے منصوبے میں مقامی ضروریات، جغرافیائی حالات اور تعمیراتی معیار کو ترجیح دینا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کے چیئرپرسن، حمزہ فرخ مقرر

مصنوعی ذہانت کا انتظام و نگرانی اور معاشرے پر اس کے اثرات

موسمیاتی لچک میں سرمایہ کاری کی اہمیت

ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے حوالے سے حساس خطہ ہے، جہاں گلیشیئرز، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر قدرتی خطرات بنیادی ڈھانچے اور آبادیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ایسے حالات میں موسمیاتی لچک پر سرمایہ کاری کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

اس تناظر میں منصوبے کی کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنی اسکیمیں مکمل ہوئیں بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ کتنے گھرانوں کو مستقل صاف پانی ملا، کتنے دیہات کو قابل اعتماد بجلی میسر آئی، کتنے مکانات قدرتی آفات سے محفوظ ہوئے اور مقامی لوگوں کی آمدنی اور روزگار میں عملی طور پر کتنا اضافہ ہوا۔

شفافیت، آزادانہ نگرانی، مقامی کمیونٹی کی مؤثر شرکت اور نتائج کی باقاعدہ عوامی رپورٹنگ اس بڑے منصوبے کو محض ایک ترقیاتی پیکیج کے بجائے حقیقی عوامی تبدیلی کا ذریعہ بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

تقریب میں دیگر حکام کی شرکت

تقریب میں یورپی یونین کے سفیر ریمنڈاس کاروبلیس، کونسل یورپی یونین یرون ولیم جان ماریا، فرسٹ سیکریٹری الیگزینڈرو، صوبائی وزیر بلدیات ذوالفقار علی مراد، ایڈیشنل چیف سیکریٹری، سیکریٹری برقیات، اے ڈی ایف کے کنٹری ڈائریکٹر مارک اینٹونی، ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر جیکس یاکان، آغا خان فاؤنڈیشن پاکستان کے چیف ایگزیکٹو اختر اقبال، آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے جنرل منیجر جمیل الدین اور پروگرام ایڈوائزر ارشاد خان عباسی سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔


اپنا تبصرہ لکھیں