اقوام متحدہ کا موسمیاتی انتباہ، یورپ میں شدید موسم سے معاشی و سلامتی کے خطرات، عالمی اقدامات سست ہونے کا خدشہ
فروزاں رپورٹ
اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ سیاسی اختلافات اور موسمیاتی تبدیلی کو جماعتی معاملہ سمجھنے سے ماحولیاتی بحران کے ساتھ اس کے معاشی اثرات بھی مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی کے ایگزیکٹو سیکریٹری سائمن اسٹیل نے یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب پورے براعظم کے لیے معاشی اور سلامتی کا ہنگامی مسئلہ بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپ میں رواں موسم گرما کے دوران غیر معمولی گرمی کی لہروں نے موسمیاتی بحران کے سنگین اثرات نمایاں کر دیے ہیں۔
ان شدید گرمی کی لہروں کے نتیجے میں اموات ہوئیں۔ بنیادی ڈھانچے اور بجلی گھروں کو نقصان پہنچا۔ بڑے پیمانے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ تجارتی راستے بھی متاثر ہوئے۔

180 ارب یورو کے معاشی نقصانات
سائمن اسٹیل کے مطابق شدید موسمی حالات نے خوراک، توانائی اور نقل و حمل کے شعبوں میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ اس کے ساتھ پیداواری صلاحیت بھی متاثر ہوئی۔
ان نقصانات کا تخمینہ 180 ارب یورو لگایا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافے کا بھی خدشہ ہے۔
سائمن اسٹیل نے کہا کہ شدید گرمی جیسے موسمیاتی اثرات ہزاروں افراد کی جانیں لے رہے ہیں۔ یہ اخراجات میں اضافہ، معیشتوں کو نقصان اور توانائی کے تحفظ کے لیے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق مہنگائی سب کے لیے مشترکہ دشمن ہے، جبکہ سلامتی سب کی مشترکہ ضرورت ہے۔ دونوں مسائل سے نمٹنے کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عملی اقدامات ضروری ہیں۔

بحران یورپ تک محدود نہیں
اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات صرف یورپ تک محدود نہیں ہیں۔
دنیا کے دیگر خطوں میں بھی سیلاب اور شدید گرمی کے باعث بجلی کی قلت جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی بحران ممالک کے اندر اور سرحدوں کے پار جبری نقل مکانی میں بھی اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

عالمی تعاون پر زور
سائمن اسٹیل نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کے مطابق موجودہ موسمیاتی تعاون کے باوجود دنیا کی موجودہ پالیسیاں عالمی درجہ حرارت میں 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔
یہ اضافہ پیرس معاہدے میں مقرر کردہ 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد سے کہیں زیادہ ہوگا۔
انہوں نے یورپی یونین پر زور دیا کہ آئندہ اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کوپ 31 میں موسمیاتی اقدامات پر عمل درآمد کو ترجیح دی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے سے طے شدہ معاہدوں کو دوبارہ کھولنے کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کرنا زیادہ ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں
گلگت بلتستان ٹرافی ہنٹنگ پروگرامْ
قرض کا بوجھ: بنگلہ دیش کے موسمیاتی عزائم عالمی مالیاتی بحران کی زد میں
ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر
موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا دنیا کے اہم ترین اور فوری مسائل میں شامل ہے، کیونکہ مختلف خطوں میں شدید موسمی واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
موسمیاتی بحران نے عالمی عدم مساوات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک موسمیاتی تبدیلی میں نسبتاً کم حصہ ڈالتے ہیں، لیکن اس کے سنگین نتائج اکثر انہی ممالک کو سب سے زیادہ برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
اقوام متحدہ پہلے بھی خبردار کر چکا ہے کہ بار بار آنے والی شدید گرمی کی لہروں اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق دیگر واقعات کے باعث عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ادارے کے مطابق مستقبل میں خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

مصنوعی ذہانت کے مراکز بھی زیرِ بحث
موسمیاتی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی اور مختلف صنعتوں کی تیاری پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی بھی شامل ہے۔
اقوام متحدہ نے 10 ستمبر کو خبردار کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے مراکز کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ماحولیاتی خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔ ان مراکز کی بجلی کی طلب موجودہ بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی گنجائش پر بھی دباؤ بڑھا رہی ہے۔

