اے ٹوینٹی تھری اے 1986 میں انٹارکٹیکا سے الگ ہوا، کئی دہائیوں تک ویڈل سی میں پھنسا رہا اور گرم پانی میں تیزی سے پگھل گیا۔
فروزاں رپورٹ
دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ اے ٹوینٹی تھری اے انٹارکٹیکا اور جنوبی بحر کے پانیوں میں تقریباً 40 سال تک تیرتے رہنے کے بعد اب تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ آئس برگ 1986 میں انٹارکٹیکا کے فلچنر آئس شیلف سے الگ ہوا تھا۔ بعد ازاں 1991 میں یہ اے ٹوینٹی تھری نامی ایک بڑے آئس برگ سے الگ ہوا، جس کے بعد اسے اے ٹوینٹی تھری اے کا نام دیا گیا۔
اپنے عروج کے وقت اے ٹوینٹی تھری اے کا رقبہ تقریباً 2 ہزار مربع میل تھا۔ یہ رقبہ تقریباً بالی جزیرے کے برابر بنتا ہے۔

کئی دہائیوں تک ویڈل سی میں پھنسا رہا
نیشنل جیوگرافک کے مطابق اے ٹوینٹی تھری اے کئی دہائیوں تک ویڈل سی میں پھنسا رہا۔ اس دوران آئس برگ کا نچلا حصہ سمندر کی تہہ پر ٹکا ہوا تھا۔
بالآخر 2020 میں یہ آئس برگ حرکت کرنے لگا۔ اس کے بعد یہ سمندری دھاروں کے ساتھ بہتا ہوا نومبر 2023 میں جنوبی بحر کے کھلے پانیوں تک پہنچ گیا۔
رپورٹس میں اسے کھلے سمندر میں حرکت کرنے والا سب سے بڑا آئس برگ قرار دیا گیا۔

طاقتور سمندری دھارے میں پھنس گیا
کھلے پانیوں تک پہنچنے کے بعد اے ٹوینٹی تھری اے نے ایک غیر متوقع رخ اختیار کیا۔ شمال کی جانب بڑھنے کے بجائے یہ مارچ 2024 میں ایک طاقتور سمندری دھارے میں پھنس گیا۔
اس دھارے کو ٹیلر کالم کہا جاتا ہے۔
اے ٹوینٹی تھری اے نومبر 2024 میں آزاد ہونے سے قبل تقریباً آٹھ ماہ تک بار بار گھومتا رہا۔ اس کے بعد یہ گرم پانیوں میں داخل ہوا، جہاں اس کی برف تیزی سے پگھلتی رہی۔ بالآخر تقریباً 40 سال تک سمندروں میں موجود رہنے والا یہ دیوہیکل آئس برگ اب تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔

