گلگت بلتستان: جدید سائنسی تحقیق کے نتائج کسانوں اور کھیتوں تک منتقل کرنا زرعی ترقی کے لیے ضروری ہے، ماہرین
تنویر احمد، بیوروچیف گلگت بلتستان

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثرہ گلگت بلتستان کے زرعی شعبے کو جدید سائنسی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے گلگت اور سکردو میں تربیتی ورکشاپس منعقد کی گئیں۔ ان ورکشاپس کا مقصد کسانوں کو آبپاشی کے پانی اور مٹی کے معیار سے متعلق جدید معلومات فراہم کرنا تھا۔
گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستان کی سماجی، معاشی اور ماحولیاتی ترقی پر کام کرنے والے اٹالین ادارے ای وی کے ٹو سی این آر کے زیر اہتمام یہ ورکشاپس محکمہ زراعت گلگت اور قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے تعاون سے منعقد ہوئیں۔

کسانوں کو سائنسی طریقوں سے آگاہی
ورکشاپس میں زرعی ماہرین، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے پروفیسرز اور لیبارٹری کے ماہرین نے مختلف تکنیکی موضوعات پر لیکچرز دیے۔
گلگت اور سکردو کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسانوں کے علاوہ مرد و خواتین طلبہ نے بھی تربیتی پروگراموں میں شرکت کی۔
ورکشاپس کا بنیادی مقصد کسانوں کو جدید زرعی طریقوں اور آبپاشی کے پانی و مٹی کے معیار سے متعلق سائنسی طریقہ کار سے آگاہ کرنا تھا۔ اس کا مقصد لیبارٹریوں میں ہونے والی سائنسی تحقیق اور تجزیوں کے نتائج کی بنیاد پر فصلوں کی پیداوار اور معیار کو بہتر بنانا ہے۔

جدید لیبارٹریوں کا قیام
اس سلسلے میں حکومت اٹلی کی مالی معاونت سے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں پانی کی تحقیق اور تجزیے کے لیے ایک جدید لیبارٹری قائم کی گئی ہے۔ یہ لیبارٹری ای وی کے ٹو سی این آر نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی کے تعاون سے قائم کی ہے۔
اسی طرح یونیورسٹی آف بلتستان میں پودوں اور فصلوں سے متعلق تحقیق کے لیے پودوں کی بیماریوں سے متعلق لیبارٹری بھی قائم کی گئی ہے۔ یہ لیبارٹری فصلوں کو لاحق بیماریوں اور دیگر مسائل کے سائنسی تجزیے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔
پانی اور مٹی کا معیار کیوں اہم ہے؟
تربیتی ورکشاپس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ زرعی پیداوار میں بہتری کے لیے صرف پانی کی دستیابی کافی نہیں۔ آبپاشی کے پانی کا معیار اور مٹی کی صحت بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
مٹی اور پانی کے باقاعدہ سائنسی تجزیے سے کسانوں کو فصلوں کی ضروریات کے مطابق کھاد اور پانی کے استعمال، فصلوں کے انتخاب اور زمین کی بہتری سے متعلق زیادہ مؤثر رہنمائی فراہم کی جا سکتی ہے۔
گلگت بلتستان جیسے پہاڑی خطے میں زراعت بڑی حد تک پانی کے قدرتی وسائل، برف باری، گلیشیئرز اور موسمی حالات سے منسلک ہے۔
ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ، برف باری کے رجحانات میں تبدیلی اور گلیشیئرز کے پگھلاؤ میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں پانی کی دستیابی اور اس کے موسمی بہاؤ میں بھی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
ایسے حالات میں پانی کے مؤثر استعمال اور سائنسی بنیادوں پر زرعی منصوبہ بندی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
کسانوں کے لیے مستقل سہولت کی ضرورت
ماہرین کے مطابق اگر کسانوں کو مقامی سطح پر مٹی اور پانی کے ٹیسٹ کی سہولت، لیبارٹری نتائج کی بنیاد پر مشاورت اور جدید آبپاشی کے طریقوں سے متعلق مسلسل تربیت فراہم کی جائے تو محدود زرعی وسائل سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔
غیر ضروری پانی اور کھاد کے استعمال میں کمی سے مٹی کی صحت برقرار رکھنے اور زرعی اخراجات کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
ورکشاپ میں خواتین اور نوجوان طلبہ کی شرکت کو بھی اہم قرار دیا گیا۔ شرکا کا کہنا تھا کہ نوجوانوں اور خواتین کو جدید زرعی تحقیق اور سائنسی طریقوں سے جوڑنے سے مستقبل میں مقامی سطح پر زرعی ماہرین اور تربیت یافتہ کسانوں کی نئی افرادی قوت تیار کی جا سکتی ہے۔
ورکشاپ کے شرکا نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ آبپاشی کے پانی اور مٹی کے معیار جیسے اہم موضوعات پر تربیتی پروگرام باقاعدگی سے منعقد کیے جانے چاہئیں، تاکہ کسان جدید سائنسی معلومات سے مسلسل مستفید ہو سکیں۔
محکمہ زراعت کا تعاون جاری رکھنے کا اعلان
ڈائریکٹر زراعت بلتستان عبدالصادق ورکشاپ کے مہمان خصوصی تھے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے ای وی کے ٹو سی این آر کی جانب سے تربیتی ورکشاپ کے انعقاد کو سراہا۔ انہوں نے ادارے کا شکریہ ادا کیا اور یقین دہانی کرائی کہ محکمہ زراعت مستقبل میں بھی اس نوعیت کے پروگراموں میں تعاون جاری رکھے گا۔
یہ تربیتی ورکشاپ ’’واٹر فار ڈیولپمنٹ پروجیکٹ‘‘ کے تحت منعقد کی گئی۔ اسے اٹالین حکومت کی مالی معاونت حاصل ہے، جبکہ منصوبے پر اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی اور ای وی کے ٹو سی این آر مشترکہ طور پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔
گلیشیئرز کے نیچے آباد زندگی کیوں جان لیوا خطرے میں ہے؟
موسمیاتی تبدیلی: فن کیسے ماحولیاتی بیانیے کو عمل میں بدل رہا ہے؟
تحقیق کے نتائج کسانوں تک پہنچانا ضروری
ماہرین کے مطابق ایسے تربیتی پروگراموں کی اصل کامیابی اس وقت ممکن ہوگی جب لیبارٹریوں میں ہونے والی تحقیق اور حاصل ہونے والے سائنسی نتائج کو عملی طور پر کسانوں اور کھیتوں تک منتقل کیا جائے۔
اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ کسانوں کے لیے مٹی اور آبپاشی کے پانی کے ٹیسٹ کی سہولت مستقل بنیادوں پر فعال رکھی جائے۔ لیبارٹری نتائج کو آسان زبان میں کسانوں تک پہنچایا جائے اور محکمہ زراعت کے میدانی عملے کو بھی جدید سائنسی طریقوں پر مسلسل تربیت فراہم کی جائے۔
اسی طرح زرعی موسم کے آغاز سے قبل مقامی سطح پر تربیتی پروگراموں کا انعقاد، خواتین کسانوں اور نوجوانوں کی شرکت میں اضافہ، پانی کے مؤثر استعمال کے طریقوں کا فروغ اور مقامی فصلوں کے حوالے سے تحقیق کو بڑھانا بھی ضروری ہے۔
گلگت اور سکردو میں ہونے والی یہ ورکشاپس اس لحاظ سے اہم ہیں کہ انہوں نے سائنسی تحقیق، جامعات، سرکاری اداروں اور کسانوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کیا۔
اگر اس عمل کو مسلسل بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے اور لیبارٹری تحقیق کو میدانی سطح پر زرعی رہنمائی سے منسلک کیا جائے تو گلگت بلتستان میں پانی کے بہتر استعمال، مٹی کی صحت کے تحفظ اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے مؤثر بنیاد فراہم کی جا سکتی ہے۔ ورکشاپ کے اختتام پر شرکا میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔

