موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور کھلاڑیوں کی صحت متاثر ہوئی۔
فروزاں رپورٹ
اتوار کو ٹور ڈی فرانس کے اختتام پر توقع ہے کہ تادیج پوگاچار پیرس کے شانزے لیزے میں فتح اپنے نام کریں گے۔ اگرچہ ان کی شاندار کارکردگی نے پہلے ہی فاتح کا فیصلہ تقریباً واضح کر دیا تھا، لیکن اس سال کی ریس ایک اور وجہ سے بھی غیرمعمولی رہی، اور وہ تھی موسمیاتی تبدیلی۔
فرانس میں 23 روز تک جاری رہنے والی اس کٹھن سائیکل ریس کے دوران کھلاڑیوں کو شدید گرمی، جنگلاتی آگ اور خشک موسم جیسے موسمیاتی خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ حالات اس قدر خشک تھے کہ منتظمین نے آگ لگنے کے خدشات کے پیش نظر ٹی وی عملے پر سگریٹ نوشی تک ممنوع قرار دے دی۔
پوگاچار نے تجویز دی کہ ٹور ڈی فرانس، جو عموماً جون کے آخر اور جولائی کے آغاز میں منعقد ہوتی ہے، مستقبل میں گرمیوں کے مہینوں میں نہ رکھی جائے۔
انہوں نے کہا، “اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں پورا کیلنڈر بدل دیتا اور جولائی اور اگست میں گرم علاقوں میں ریس نہ کراتا۔”

جنگلاتی آگ نے ریس کو خطرے میں ڈال دیا
مسائل کا آغاز جولائی کے اوائل میں اس وقت ہوا جب ریس کے تیسرے مرحلے کے دوران پیرینیز اورینتال کے علاقے میں جنگلاتی آگ بھڑک اٹھی۔ منتظمین نے مرحلہ منسوخ کرنے پر غور کیا، تاہم بعد میں اسے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
احتیاطی تدابیر کے تحت ریس کے قافلے میں صرف ضروری گاڑیوں کو شامل ہونے کی اجازت دی گئی، جبکہ شائقین سے بھی درخواست کی گئی کہ وہ 121 میل طویل مرحلے کے آخری 27 میل کے راستے پر نہ آئیں۔
ریس ڈائریکٹر کرسچین پروڈوم نے کہا، “غیرمعمولی آگ کے باعث غیرمعمولی اقدامات ضروری ہیں۔ ہماری اولین ترجیح لوگوں کا تحفظ ہے۔”

ریکارڈ گرمی نے سائیکلسٹوں کو نڈھال کر دیا
سب سے بڑا مسئلہ یورپ میں آنے والی ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر ثابت ہوئی۔ پرو سائیکلنگ اسٹیٹس کے مطابق، ریس کے ابتدائی دو ہفتوں میں اوسط درجہ حرارت گزشتہ بیس برسوں میں سب سے زیادہ، یعنی 87 ڈگری فارن ہائیٹ، ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 2022 میں یہ اوسط 79 ڈگری فارن ہائیٹ تھی۔
ایکس ڈی ایس-آستانہ ٹیم کے اسپورٹس ڈائریکٹر ایوان لیڈانوا نے کہا، “میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ ہر روز موسم اتنا گرم ہو۔ یہ صرف ایک دن کی شدید گرمی نہیں بلکہ مسلسل یہی صورتحال رہی۔”

کھلاڑیوں کی صحت پر شدید اثرات
ٹور ڈی فرانس کے 21 مراحل میں سائیکلسٹ روزانہ اوسطاً تقریباً 100 میل کا سفر کرتے ہیں۔ وہ کئی گھنٹوں تک تقریباً 30 میل فی گھنٹہ کی رفتار برقرار رکھتے ہیں۔ ریس کا بڑا حصہ الپس اور پیرینیز کے دشوار گزار پہاڑی راستوں سے گزرتا ہے، جبکہ پوری ریس کے دوران کھلاڑیوں کو صرف دو دن آرام کا موقع ملتا ہے۔
شدید گرمی میں اتنی طویل جسمانی مشقت پیشہ ور کھلاڑیوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ پوگاچار نے چوتھے مرحلے کے آغاز پر، جب درجہ حرارت 100 ڈگری فارن ہائیٹ سے تجاوز کر گیا، شدید سر درد کی شکایت کی۔
صورتحال کے پیش نظر منتظمین نے خوراک اور پانی سے متعلق قواعد میں نرمی کر دی۔ ایک ٹیم کے مطابق، اس کے ہر سائیکلسٹ نے روزانہ تقریباً 28 بوتلیں پانی استعمال کیں، جو معمول سے کئی گنا زیادہ تھا۔ کئی کھلاڑی ریس سے پہلے آئس ویسٹ اور دورانِ ریس آئس ساکس بھی استعمال کرتے رہے تاکہ جسمانی درجہ حرارت کم رکھا جا سکے۔
تاریخ میں پہلی بار مرحلہ مختصر کرنا پڑا
شدید گرمی کے باعث حالات اس قدر خراب ہو گئے کہ ٹور ڈی فرانس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منتظمین نے نویں مرحلے کا فاصلہ 30 کلومیٹر، یعنی 18.6 میل، کم کر دیا۔
فرانسیسی حکومت نے علاقائی حکام کو یہ اختیار بھی دیا کہ اگر ریڈ ہیٹ ویو الرٹ جاری ہو تو مرحلہ مکمل طور پر منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
رات کی گرمی نے بھی مشکلات بڑھا دیں
سورج غروب ہونے کے بعد بھی گرمی میں خاطر خواہ کمی نہ آئی، جبکہ یورپ کے کئی ہوٹلوں میں ایئر کنڈیشننگ کی سہولت موجود نہیں تھی۔
ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ گرمی کے ماہر کرٹ شکمین کے مطابق، “جب رات کے وقت بھی درجہ حرارت زیادہ رہے تو جسم مناسب انداز میں بحال نہیں ہو پاتا، جس کے باعث اگلے دن کی شدید گرمی کا سامنا کرنا صحت کے لیے مزید مشکل ہو جاتا ہے۔”
یہ بھی پڑھیں
اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ
برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟
موسمیاتی تبدیلی اب کھیلوں کے لیے بھی بڑا خطرہ
اس سال کا ٹور ڈی فرانس اس حقیقت کی واضح مثال بن کر سامنے آیا کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں رہی۔ یہ عالمی کھیلوں، کھلاڑیوں کی صحت اور بڑے بین الاقوامی مقابلوں کے انعقاد کو بھی براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔

