Environmental Reports Farozaan

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

Silent Crisis: Oceans Heading Toward a Silent Death

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم توجہ دی جا رہی ہے، حالانکہ بحیرۂ عرب کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

جب موسمیاتی تبدیلی کا ذکر ہوتا ہے تو زیادہ تر بات درجۂ حرارت میں اضافے، گلیشیئرز کے پگھلنے یا سیلابوں تک محدود رہتی ہے۔ تاہم دنیا بھر کے سائنس دان ایک ایسے خطرے سے خبردار کر رہے ہیں جو خاموشی سے سمندروں کی گہرائیوں میں بڑھ رہا ہے۔ یہ خطرہ سمندروں میں آکسیجن کی مسلسل کمی ہے، جسے اوشن ڈی آکسیجینیشن کہا جاتا ہے۔

یہ مسئلہ اس وقت دنیا کے بڑے تحقیقی اداروں، سمندری ماہرین اور پالیسی سازوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس موضوع پر بین الاقوامی سائنسی جرائد میں سینکڑوں تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں اور اسے اکیسویں صدی کے بڑے ماحولیاتی چیلنجز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر پاکستان میں نہ اس حوالے سے عوامی آگاہی موجود ہے اور نہ ہی میڈیا میں اس پر خاطر خواہ توجہ دی جاتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندر تیزی سے گرم ہو رہے ہیں۔ گرم پانی میں آکسیجن جذب کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔

سمندروں میں آکسیجن کیوں کم ہو رہی ہے؟

زمین کے سمندر بھی انسانی جسم کی طرح آکسیجن پر انحصار کرتے ہیں۔ جس طرح انسان کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن درکار ہوتی ہے، اسی طرح مچھلیوں، جھینگوں، کیکڑوں اور دیگر سمندری حیات کو بھی اس کی ضرورت ہوتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندر تیزی سے گرم ہو رہے ہیں۔ گرم پانی میں آکسیجن جذب کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب شہروں اور زرعی علاقوں سے خارج ہونے والی آلودگی، کھادوں اور کیمیکلز کے بہاؤ سے سمندروں میں الجی کی غیر معمولی افزائش ہوتی ہے۔ جب یہ الجی مر جاتی ہیں تو ان کے گلنے سڑنے کے عمل میں بڑی مقدار میں آکسیجن استعمال ہوتی ہے۔

اس کے نتیجے میں سمندر کے بعض حصوں میں آکسیجن کی مقدار اتنی کم ہو جاتی ہے کہ وہاں سمندری زندگی برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے علاقوں کو ڈیڈ زونز یعنی مردہ خطے کہا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ عشروں میں دنیا کے کئی ساحلی ماحولیاتی نظام شدید دباؤ کا شکار ہو جائیں گے۔

دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے ڈیڈ زونز

گزشتہ چند دہائیوں کے دوران دنیا کے مختلف سمندروں میں ڈیڈ زونز کی تعداد کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ شمالی امریکا، یورپ، لاطینی امریکا اور ایشیا کے ساحلی علاقوں میں متعدد مقامات ایسے سامنے آئے ہیں جہاں مچھلیاں اور دیگر آبی حیات بڑی تعداد میں ہلاک ہو رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ عشروں میں دنیا کے کئی ساحلی ماحولیاتی نظام شدید دباؤ کا شکار ہو جائیں گے۔ اس کے براہ راست اثرات خوراک، روزگار اور عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے۔

خوراک کے عالمی نظام کے لیے خطرہ

دنیا بھر میں تقریباً تین ارب افراد اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے سمندری خوراک پر انحصار کرتے ہیں۔ مچھلی دنیا میں پروٹین کا ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔

اگر سمندری حیات کو آکسیجن کی کمی کا سامنا رہا تو مچھلیوں کی افزائش، نقل مکانی اور بقا متاثر ہوگی۔ کئی اقسام نسبتاً ٹھنڈے اور آکسیجن سے بھرپور پانی کی طرف منتقل ہونا شروع ہو جائیں گی۔

اس صورتحال سے ماہی گیری کی صنعت متاثر ہوگی، مچھلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور عالمی غذائی نظام پر اضافی دباؤ پڑے گا۔

پاکستان کے لیے یہ مسئلہ کیوں اہم ہے؟

پاکستان کے پاس تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی موجود ہے۔ کراچی، ٹھٹھہ، سجاول، گوادر اور جیوانی سمیت لاکھوں افراد کا روزگار سمندر سے وابستہ ہے۔

بحیرۂ عرب پہلے ہی دنیا کے ان سمندری علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں قدرتی طور پر آکسیجن کی مقدار نسبتاً کم ہے۔ اگر موسمیاتی تبدیلی کے باعث یہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو پاکستان کی ماہی گیری، ساحلی معیشت اور خوراک کی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔

کراچی کے ساحلوں پر صنعتی فضلہ، گندے پانی کا اخراج اور پلاسٹک آلودگی پہلے ہی سنگین مسئلہ ہیں۔ یہ عوامل سمندری ماحولیاتی نظام کو مزید کمزور بنا رہے ہیں۔

سمندر کے اندر خاموش ہجرت

سائنس دانوں نے مشاہدہ کیا ہے کہ آکسیجن کی کمی کے باعث مچھلیاں اور دیگر آبی جانور اپنے روایتی مسکن چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

یہ تبدیلی صرف حیاتیاتی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی چیلنج بھی ہے۔ جب مچھلیوں کے ذخائر ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل ہوتے ہیں تو مختلف ممالک کے درمیان ماہی گیری کے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ کئی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ مستقبل میں سمندری وسائل پر عالمی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس میں ماہی گیری، ساحلی سیاحت، سمندری توانائی اور بحری تجارت شامل ہیں۔

نیلی معیشت پر اثرات

دنیا بھر میں بلیو اکانومی یا نیلی معیشت کو ترقی کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس میں ماہی گیری، ساحلی سیاحت، سمندری توانائی اور بحری تجارت شامل ہیں۔

پاکستان بھی اپنی نیلی معیشت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اگر سمندری ماحولیاتی نظام کمزور ہوتا گیا تو یہ ہدف متاثر ہو سکتا ہے۔ پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ سمندروں کی صحت کو قومی اقتصادی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے۔

سائنس دان کیا تجویز کر رہے ہیں؟

ماہرین کے مطابق سمندروں میں آکسیجن کی کمی کا بنیادی حل موسمیاتی تبدیلی کی رفتار کو کم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی ناگزیر ہے۔

اس کے ساتھ ساحلی علاقوں میں آلودگی کا خاتمہ، صنعتی فضلے کے اخراج پر سخت نگرانی، گندے پانی کی صفائی کے نظام میں بہتری، پلاسٹک آلودگی میں کمی، پائیدار ماہی گیری کی پالیسیاں، سمندری تحقیقی اداروں کی مضبوطی اور ساحلی ماحولیاتی نظام کی بحالی جیسے اقدامات بھی ضروری ہیں۔

ایک ایسا بحران جو خبروں کی سرخیوں میں نہیں

سمندروں میں آکسیجن کی کمی کوئی ایسا بحران نہیں جو اچانک طوفان یا زلزلے کی طرح نظر آئے۔ یہ ایک خاموش عمل ہے جو ہر سال شدت اختیار کر رہا ہے۔

اسی لیے بعض سائنس دان اسے سائلنٹ کلائمیٹ کرائسس یعنی خاموش موسمیاتی بحران قرار دیتے ہیں۔ اس کی سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ جب اس کے اثرات واضح طور پر سامنے آئیں گے تو ممکن ہے نقصان کا بڑا حصہ ناقابلِ واپسی ہو چکا ہو۔

یہ بھی پڑھیں

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

موسمیاتی تبدیلی کا نیا چہرہ:کیا جانور خود کو دوبارہ تشکیل دے رہے ہیں؟

پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟

پاکستان میں موسمیاتی مباحث زیادہ تر سیلاب، گرمی کی لہروں اور پانی کی قلت تک محدود رہتے ہیں۔ اگرچہ یہ تمام مسائل اہم ہیں، لیکن سمندری ماحولیاتی نظام کو نظر انداز کرنا مستقبل میں مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ جامعات، تحقیقی ادارے، ماہی گیری کے محکمے اور میڈیا اس موضوع پر تحقیق اور عوامی آگاہی کو فروغ دیں۔ بحیرۂ عرب میں آکسیجن کی صورتحال، سمندری درجۂ حرارت اور آبی حیات میں ہونے والی تبدیلیوں کی مستقل نگرانی بھی ناگزیر ہے۔

آج دنیا مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو چکی ہے، لیکن زمین پر زندگی کا انحصار اب بھی قدرتی نظاموں پر ہے۔ سمندر زمین کے موسمی نظام، خوراک کی فراہمی اور عالمی معیشت کا بنیادی ستون ہیں۔

اگر سمندروں سے آکسیجن کم ہوتی رہی تو اس کے اثرات صرف مچھلیوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خوراک، روزگار، معیشت اور انسانی صحت بھی متاثر ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے سائنس دان اس مسئلے کو مستقبل کے بڑے ماحولیاتی خطرات میں شمار کر رہے ہیں۔

پاکستان کے لیے بھی وقت آ گیا ہے کہ وہ اس خاموش بحران کو سنجیدگی سے سمجھے اور اپنی ساحلی پالیسیوں، ماحولیاتی منصوبہ بندی اور عوامی آگاہی میں سمندروں کی صحت کو مرکزی حیثیت دے۔ کیونکہ اگر سمندر بیمار ہوں گے تو ساحلی معیشت، خوراک اور انسانی مستقبل بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں